فالج کا مریض دیکھ بھال کیسے کریں

466

    ”حرکت “ زندگی کی اہم ترین علامت ہے اور جب آخری سانس جسم کو چھوڑتا ہے تو اس کے تمام اعضاء اور ان کے افعال ساکت ہوجاتے ہیں ۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسانی زندگی تو برقرار رہتی ہے لیکن جسم کا کوئی خاص حصہ حرکت کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے۔ اس کیفیت کو”سٹروک“ یا عرف عام میں ”فالج “ کا نام دیا جاتا ہے۔ شفا انٹر نیشنل ہسپتال G-10)، اسلام آباد (کے ماہر اعصابی امراض (نیورولوجسٹ) ڈاکٹر قمر زمان کے بقول سٹروک میں دو صورتیں سامنے آسکتی ہیں:
”سٹروک کا تعلق خون کے بہاﺅ سے ہے۔ اگریہ بہاﺅ زیادہ ہو جائے تو دماغ میں خون کی نالی پھٹ جاتی ہے۔ اس طرح ہونے وا لے فالج کو ہیمرجک سٹروک (Hemorrhagic stroke) کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر دماغ میں کسی جگہ خون کی نالی کے سکڑنے کی وجہ سے اس میں خون کا بہاﺅ رک جائے تویہ اسکیمِک سٹروک (Ischemic stroke) کہلاتا ہے۔“
فالج ”ہیمرجک“ ہو یا ”اسکیمِک“، دونوں صورتوں میں دماغ کے بعض حصوں میں موجود کچھ خلیے آکسیجن اور خون کی فراہمی بند ہونے کی وجہ سے مرنا شروع ہوجاتے ہیں ۔ یوں دماغ کا وہ حصہ کام کرنے کے قابل نہیں رہتا ۔نتیجتاً جسم کے وہ اعضاء بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں جنہیں دماغ ک ایہ حصہ کنٹرول کررہا ہوتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر پانچ میں سے ایک خاتون اور ہر چھ میں سے ایک مرد اس مرض کا شکار ہوجاتا ہے۔ یوں ہر سال تقریباً 5.5 ملین افراد اس بیماری کی وجہ سے یا اس کے ساتھ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ان میں سے 20 فی صد کا تعلق جنوبی ایشیائی ممالک‘ یعنی اس خطہ زمین سے ہے جس میں ہم بستے ہیں۔ ”جرنل آف پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن“ کے مطابق فالج ‘اس مرض سے متاثرہ مریضوں کی اموات کا تیسر اور معذوریوں کا سب سے بڑاسبب ہے۔

فالج کے ساتھ زندگی
اس خطرناک مرض کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لئے دنےا بھر میںہر سال 29اکتوبر کو ”سٹروک کا عالمی دن“ منایا جاتا ہے۔ گزشتہ برس ورلڈ سٹروک آرگنائزیشن کی طرف سے ”حقائق کا سامنا کریں: سٹروک کا علاج ممکن ہے“ کو مرکزی خیال قرار دیا گیا ہے۔
اس کا مقصد اس حقیقت کو واضح کرنا تھا کہ اس مرض کے بارے میں آگہی پھیلا کر ‘علاج کی سہولیات تک لوگوںکی رسائی کو ممکن بنا کر اور علاج پر عمل کر کے فالج سے متاثرہ افراد کی زندگیاں بہتر بنائی جاسکتی ہیں۔ زیرتحریر فیچر کا مقصد لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ فالج زدہ مریضوں کی دیکھ بھال کیسے کی جائے اور ان کی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے کیا اقدامات کئے جائیں۔

 علامات پہچانئے
ڈاکٹر قمر زمان کے مطا بق سٹروک کے حملے کی صورت میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ مریض کو جلداز جلد ہسپتال لایا جائے‘ اس لئے کہ اس میں جتنی تاخیر ہو گی‘ اس کا نقصان بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اس کی علامات کو پہچانا جائے۔ ان کے بقول:
” سٹروک کی صورت میں جسم کے اےک طرف کا حصہ حرکت کرناچھوڑ دےتا ہے ےا سن ہو جاتا ہے‘ ایک آنکھ کی بےنائی متاثر ہوجاتی ہے اور سر میں شدید درد کے ساتھ ساتھ بولنے یا سمجھنے کی صلاحےت بھی ماند پڑ جاتی ہے ۔تاہم ضروری نہےں کہ کسی مرےض میں ےہ ساری علامات بےک وقت پائی جائےں۔ اسکیمِک سٹروک میں مرےض عموماً بے ہوش نہےں ہوتا لےکن پورے دماغ کو خون نہ پہنچے تو اےسا ہو بھی سکتا ہے ۔“
ظہیرقادرشفا انٹرنیشنل ہسپتال جی 10 اسلام آباد کے مرکز بحالی صحت (Rehabilitaion Centre)میںسینئر فزیوتھیراپسٹ کے طور پر تعینات ہیں اور سٹروک کے مریضوں کو معمول کی زندگی گزارنے کے قابل بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ جب ان سے اس بیماری کی علامات پوچھی گئیں تو انہوں نے کہا:
”فالج کی صورت میں ظاہر ہونے والی علامات میں چہرے کا کسی ایک طرف ڈھلک جانا،بازو اور ٹانگ میں کمزوری پیدا ہونا، آنکھ کا بند ہوجانا،بولنے میں دقت محسوس کرنا،اٹھنے بیٹھنے،کھڑے ہونے اور چلنے پھرنے میں مشکل پیش آنا اور متاثرہ حصے کی طرف جسم کا لڑھک جانا شامل ہے۔ان میں سے کوئی ایک یا زیادہ علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔“

جسمانی مسائل اور دیکھ بھال
جب تک مریض ہسپتال میں رہے ‘ نرسنگ سٹاف اس کی دیکھ بھال کے لئے موجود ہوتا ہے لیکن گھر پر یہ کام اہل خانہ کو خود ہی کرنا ہوتا ہے ۔راولپنڈی کے رہائشی 55سالہ عنایت کی بائیں سائیڈ فالج سے متاثر ہے اوروہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے شعبہ بحالی صحت سے فزیوتھیراپی کی خدمات لیتے ہیں۔ ان کے بھائی مائیکل سے پوچھا گیا کہ انہیں گھر پراپنے بھائی کی نگہداشت میں کیا مشکلات پیش آتی ہیں؟ جواب میں انہوں نے کہا:
”جب ایک چلتا پھرتا شخص اچانک بستر سے لگ جائے تو اس کی نگہداشت انتہائی مشکل ہوجاتی ہے ۔وہ نہ تو خود کھا پی سکتا ہے‘ نہ واش روم جا سکتا ہے‘ نہ اٹھ اور بیٹھ سکتا ہے ‘ یہاں تک کہ خود کروٹ بدلنے سے بھی معذور ہو جاتا ہے۔ اگرچہ نامناسب الفاظ ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک زندہ لاش کی طرح ہوجاتا ہے اور مذکورہ بالا سارے کاموں میں اسے تیماردار کی مدد درکار ہوتی ہے۔ ان کاموں کو ٹھیک طرح سے کرنا ہوتا ہے‘ ورنہ مریض کی صورت حال مزیدبگڑ سکتی ہے۔“
ظہیر قادر کے مطابق گھر پر مریض کی دیکھ بھال میں درج ذیل امور کا خیال رکھناچاہئے:
٭فالج کے مریض کو اٹھاتے وقت اس کے کندھے کا خاص خیال رکھیں‘ اس لئے کہ اس کے پٹھوںمیں طاقت نہ ہونے کی وجہ سے کندھا اترنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
٭ہسپتال میں مریض کو بستر پرلٹانے اور اٹھانے کے لئے لِفٹر (lifter) استعمال کیا جاتا ہے۔ گھرمیںبستر کے اوپر چادر بچھائیں اور اس کے کونے پکڑ کر مریض کو اٹھائیں تاکہ اس کے جسم پر دباﺅنہ پڑے۔
٭فالج کے مریض کو بستر پر اس طرح لٹائیں کہ اس کے جسم کا تندرست حصہ نیچے اور فالج زدہ حصہ اوپر کی طرف ہو ۔ کروٹ بدلنے کے لئے پہلے مریض کے متاثرہ بازو کو آگے لائیں اور پھر اسی طرف کی ٹانگ کو موڑ کر کروٹ بدلیں۔
٭ہر دو گھنٹوں کے بعد مریض کے لیٹنے کی پوزیشن ضرور بدلیں ورنہ ایک ہی طرف لیٹے رہنے کی وجہ سے مریض کے جسم پر زخم (bedsore)بن جائیں گے۔
٭مریض کے کمرے میں پلنگ بچھاتے وقت اس بات کاخیال رکھا جائے کہ اس کے جسم کا فالج زدہ حصہ دروازے کی طرف ہو۔ اسی طرح عیادت کے لئے آنے والے لوگوں کی نشستوں کا اہتمام بھی مریض کے متاثرہ حصے کی طرف ہی کرنا چاہئے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ مریض جب دروازے یا عیادت کرنے والوں کی طرف متوجہ ہوگا تو اس کی نظر اپنے فالج زدہ حصے کی طرف جائے گی۔ یوں اس کے دماغ کے اس حصے کو پیغام ملے گا جو متاثرہ حصے کوکنٹرول کرتا تھا۔یوں اس بات کا امکان ہے کہ دماغ اسے متحرک کرنے کی کوشش کرے۔
٭ مریض کو ہر وقت بستر پر لٹائے رکھنا کوئی صحت مند عمل نہیں ۔بہتر ہے کہ ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے جتنا ہوسکے‘ اسے اٹھائیں اوربٹھائیں۔ اگر ڈاکٹر کی اجازت ہو یا مریض خود ہمت دکھائے تو دو افراد کی مدد سے اسے چلانے کی بھی کوشش کرنی چاہئے۔
 

گھر میں تبدیلیاں اوردیکھ بھال
فالج کے مریض ہسپتال سے فارغ ہو نے کے بعد جب گھر جاتے ہیں تو انہیں عموماً چلنے ،پھرنے ،بستر تک جانے،وہاں سے کرسی یا ویل چیئر تک پہنچنے اورزمین پر اٹھنے بیٹھنے میں مشکل ہوتی ہے۔ گھر میں کچھ تبدیلیاں لا کراس کام کو آسان بنایا جا سکتا ہے :
٭گھر کے داخلی اورخارجی راستوں کی سطح ہموار ہونی چاہئے۔
٭دروازوں کے ہینڈل گول(nob) ہونے چاہئیں تاکہ مریض بوقت ضرورت انہیں پکڑ سکے۔
٭گھر کے داخلی راستے پر ہلکی ڈھلوان (slope) بنائیں جس کے دونوں طرف گرِپ ہینڈ ریلنگ(grip hand railing)لگائیں۔
٭مریض کے کمرے یا اس کے راستے سے ایسی اشیاءیا فرنیچر ہٹا دیں جن سے ٹکرا کر مریض کے گرنے کا خطرہ ہو۔
٭گھر میں ایسا فرش نہیں ہونا چاہئے جس پر سے پھسلنے کا اندیشہ ہو۔ ٭مریض کے اٹھنے بیٹھنے کے لئے مضبوط بازوو¿ں والی ایسی کرسی رکھنی چاہئے جس کی اونچائی 12سے 16 انچ اور سیٹ کی چوڑائی 12انچ یا مریض کی جسامت کے مطابق ہو۔اس کے علاوہ کرسی کے بازوو¿ںکی اونچائی 6سے8انچ ہونا لازمی ہے ۔
٭مریض کے لئے ایسا پلنگ بچھائیں جس کے دونوں طرف سہارے (bed rails)ہوں۔ یہ مریض کو گرنے سے بچانے کے علاوہ اسے پلنگ سے خوداترنے اوراس پر لیٹنے میں بھی مدد دیں گے۔اس بات کا بھی خیال رہے کہ پلنگ کی اونچائی 14انچ سے زیادہ نہ ہو۔
٭ مریض کو گاڑی میں بٹھاتے وقت اسے سہارا دے کر اس طرح کھڑا کریں کہ اس کی پشت گاڑی کی سیٹ کی طرف اور چہرہ سامنے کی طرف ہو۔ اگر مریض کے بائیں طرف فالج ہو توگاڑی کا دروازہ پکڑ کر اسے دائیں طرف سے سیٹ پربٹھائیں۔ اگر فالج دائیں طرف ہو تو اسے بائیں طرف سے بٹھائیں‘پھر مریض کی ٹانگیں اندر کریں اور اسے آرام دہ حالت میں بٹھانے کے بعد سیٹ بیلٹ باندھ دیں۔ گاڑی سے نکالتے وقت پہلے مریض کی ٹانگیں باہر نکالیں‘ پھر اسے سہارا دے کر اٹھائیں اور ویل چیئر یا واکر کی مدد سے چلاتے ہوئے گھر کے اندر لے جائیں۔
٭وقتاً فوقتاً مریض کو قریبی بازار یا مسجد تک لے جانا بھی فائدہ مند ہے۔
٭ہفتے میں ایک آدھ دن مریض کو باہر گھمانے پھرانے لے جائیں کیونکہ قدرتی مناظر دیکھ کر انسان فرحت محسوس کرتا ہے۔
٭ ذہنی کیفیات ، دلچسپیوں اور رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے مریض کو مذہبی سر گرمیوں میں شامل ہونے کے مواقع بھی فراہم کرنے چاہئےں۔ دیکھا گیا ہے کہ اس سے ان کی صحت یابی کا عمل تیز ہوتا ہے۔
٭اہل خانہ اوردوست احباب کو چاہئے کہ ہرمثبت پیش رفت پرمریض کی دل کھول کر حوصلہ افرائی کریں ۔اس طرح مریض کی خوداعتمادی بحال ہوگی۔

مریض کے نفسیاتی مسائل
فالج کے مریض جب متحرک زندگی سے محتاجی کی زندگی کی طرف آتے ہیں تو انہیں ذہنی طور پر ایک دھچکا لگتا ہے۔ ایسے میں اگر اہل خانہ کی جذباتی مدد حاصل نہ ہو تو مریض ڈپریشن کا شکار ہو سکتا ہے۔ اگر وہ ہمت ہار جائے تو ا س کی صحت یابی مشکل ہوجاتی ہے ۔ وسطی پنجاب کے ایک گاﺅں سے تعلق رکھنے والی صوفیہ بی بی پر جب فالج کا حملہ ہوا تو بدقسمتی سے انہیں گھر سے بھرپور مدد نہ مل سکی:
” اہل خانہ میرا خیال رکھتے رکھتے تھک گئے ۔ وہ مجھے مخصوص ورزشیں کراتے اور جب میں ان کی پیروی نہ کر پاتی تو وہ اشاروں میں ایک دوسرے کو کہتے کہ چھوڑو، رہنے دو۔ اس سے مجھے مزید صدمہ ہوتا ۔شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے عملے نے میرا حوصلہ بڑھایا اور بھرپور مدد کی جس کی وجہ سے میں واپس اپنی زندگی کی طرف لوٹ آئی۔“
آج وہی مریضہ فالج کے اثرات کے باوجود چلتی پھرتی،کھاتی پیتی اور ایک صحت مند انسان کی طرح روز مرہ کے معمولات زندگی ادا کرتی ہیں۔ایسے مریضوں کو فعال زندگی کے قابل بنانے کے لئے ہسپتال کی ”بحالی صحت ٹیم“ کی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے ظہیرقادر نے بتایا:
” مریضوں کو ذہنی دباو¿ سے نکالنے کے لئے شعبہ بحالی صحت کی ٹیم انہیں خاص قسم کی گروپ تھیراپی سے گزارتی ہے۔ جب وہ فالج کے دوسرے مریضوں کو پورے وقار سے چلتے یا ورزشیں کرتے دیکھتے ہیں تو ان میں بھی کسی سہارے کے بغیر زندگی گزارنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور وہ گرم جوشی دکھانے لگتے ہیں۔ ان ورزشوں کے دوران فیزیوتھیراپسٹ ان کی ہمت بڑھاتے رہتے ہیں۔“
ان کے مطابق یہی تجربہ جب صوفیہ پر کیا گیا تو اس کے بہت اچھے نتائج سامنے آئے۔ اگر کوششوں کے باوجود مریض میں آمادگی پیدا نہ ہو تو ماہر نفسیات سے بھی رہنمائی لی جاتی ہے۔

 اہم نکات
٭ہمارے ہاں سٹروک کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔اس کے ظاہری اسباب میں ذیابیطس ، ہائی بلڈپریشر،ذہنی دباو¿ ،دل کی بیماریاں اور پرسکون نیند سے دوری نمایاں ہیں۔سٹروک کے خطرے کو کم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان بیماریوں کا موثر سدباب کیا جائے۔
٭ تمباکو نوشی کے علاوہ چےنی ‘ چکنائی اور نمک کے زیادہ استعمال کا تعلق فالج سے بھی ہے، اس لئے اس ضمن میں احتیاط کی جائے ۔مزید براں ورزش ےا روزانہ چہل قدمی کی عادت اپنائی جائے۔
٭مختلف ہسپتال فالج کے مریضوں کی گھر پر دیکھ بھال کے لئے فیزیوتھیراپسٹ ،میل یا فی میل نرسز وغیرہ کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔بوقت ضرورت ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
٭فالج کے مریض کی جسمانی ہی نہیں‘ نفسیاتی ضروریات بھی ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ اپنی مصروف زندگی میں سے چند پل اس کے ساتھ گزارنا اس کے لئے بہت مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس تیمارداروں کی معمولی سی غفلت یا ان سے کاٹ دار جملہ انہیں مایوسی کی دلدل میں دھکیل سکتا ہے۔ اس لئے ان کی دیکھ بھال پیار اور محبت سے کی جائے۔ مزید براں انہیں خودانحصاری کی طرف مائل کیا جائے۔ اس سے ان کی صحت یابی کا عمل تیز ہوگا ۔