مفروضے‘مسائل اور احتیاطیں دودھ چھڑائی

281

بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو اس کا معدہ اتنا قوی نہیں ہوتا کہ ٹھوس غذا کو ہضم کر سکے لہٰذا قدرت اس کے پیدا ہوتے ہی اس کے لئے ماں کے دودھ کا انتظام کردیتی ہے ۔ یہ غذا اتنی ہلکی ہوتی ہے کہ اس کا معدہ اسے باآسانی ہضم کرسکے اور بچے کی جسمانی ضروریات پوری ہو سکیں۔ پیدائش کے وقت اس کے جسم میں کچھ اہم معدنیات اور دیگر ضروری غذائی اجزاءبھی موجود ہوتے ہیں مگر جب وہ چھ ماہ کی عمر تک پہنچتا ہے تو وہ ذرائع ختم ہونے لگتے ہیں۔ اب ماں کا دودھ اس کی ضروریات کے لئے کافی نہیں رہتا لہٰذا اسے دیگر غذاﺅں کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔بچے کو ماں کے دودھ سے دیگر غذاﺅں کی طرف لانے کا عمل دودھ چھڑائی (weaning)کہلاتا ہے۔

اس دور کی اہمیت
یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ چھ ماہ کی عمر کے بعد جن بچوں کو ٹھوس غذا شروع نہیں کرائی جاتی‘ ان میں آئرن کی کمی واقع ہونے لگتی ہے لہٰذا وقت آنے پر ان کی غذا میں آئرن ضرور شامل کرنا چاہئے۔چھ ماہ کے بعدبچہ تھوڑا تھوڑا بیٹھنا بھی شروع کردیتا ہے‘اس کی گردن مضبوط ہونے لگتی ہے اور وہ ہاتھ سے چیزیں پکڑنے کی کوشش کرنے لگتا ہے۔وہ اب بولنے کا آغاز بھی کردیتا ہے جس کی وجہ سے اس کی آنکھ‘ہاتھ اور ہونٹوں میں ہم آہنگی (coordination) پیدا کروانے کی ضرورت ہوتی ہے۔اس ہم آہنگی کے نتےجے میں جبڑے اور زبان کے پٹھے اور ذائقے کی حس بہترہوتی ہے اوربولنے کی صلاحیت میں بہتری آتی ہے۔ چبانے سے اس کے منہ کے پٹھے زیادہ مضبوط ہونے لگتے ہیں۔علاوہ ازیں جب بچہ کھانے کے لیے ماں کواپنے اندازمیں بلانے یا بڑبڑانے (babbling)کی کوشش کرتا ہے تو وہ معاشرتی تعلقات بنانے کا ہنر سیکھنے کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھ رہا ہوتا ہے۔ یہ والدین اور اہل خانہ کے لئے بھی اس بات کا موقع ہے کہ وہ بچے کے ساتھ بات چیت بڑھائیں‘ اس سے کھیلیں اور اس سے پیار جتائیں۔

دودھ چھڑائی کا درست وقت
ہمارے ہاں بچے کو ٹھوس غذا شروع کروانے کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔کچھ خواتین دوسرے ماہ سے ہی اسے چائے وغیرہ دینے لگتی ہیں‘کچھ تین ماہ بعد اور کچھ 10,10 ماہ گزرنے کے بعد بھی ٹھوس غذا کا استعمال شروع نہیں کرواتیں۔حقیقت یہ ہے کہ پانچ سے آٹھ ماہ کے درمیان بچے کو ٹھوس غذا کھلانا شروع کی جا سکتی ہے مگر اس کے لئے بہترین وقت چھ ماہ کے بعد کا ہے‘اس لئے کہ پانچ ماہ سے پہلے بچے کی خوراک کی نالی اتنی نشوونما نہیں پائی ہوتی کہ وہ دودھ کے علاوہ کسی ٹھوس چیز کو برداشت کر سکے۔اس لئے جو والدین چارماہ یا اس سے پہلے ٹھوس خوراک کا استعمال شروع کروا دیتے ہیں‘ان کے بچوں کو پیچش اورالٹی وغیرہ جیسے مسائل زیادہ پیش آنے لگتے ہیں۔پانچ سے آٹھ ماہ ایسی عمر ہے جس میں بچے کو نئی چیزسیکھنے میں زیادہ دلچسپی ہوتی ہے۔اگر اس میں دیر کر دی جائے تو بچے کو نئے ذائقے قبول کرنے میں دشواری کا سامنا ہو سکتا ہے۔
بچہ ٹھوس غذا کے لیے تیار ہے یا نہیں؟ اس کا اندازہ چند علامات سے کیا جاسکتا ہے ۔مثلاً چھ ماہ کے اندر بچہ اپنا سر کنٹرول کرنا اور بیٹھنا سیکھ جائے تو سمجھ لیں کہ وہ دودھ کے علاوہ غذا لینے کے لیے بھی تیار ہے۔اگر ایسا نہیں ہے تو ڈاکٹر سے ایک مرتبہ ضرور رابطہ کریں۔بچہ اگر منہ میں اپنا ہاتھ یا انگلی وغیرہ ڈالنے لگے یا سامنے پڑے کھانے میں دلچسپی ظاہر کرنے لگے تو بھی سمجھ لیجئے کہ وہ دودھ چھڑائی کے لیے تیار ہے۔

خوراک کیا ہو
بچے کو ابتدائی طور پرپتلی غذا دیںتاکہ وہ اسے آسانی سے نگل سکے۔مثلاً اسے دودھ میں چاول کا دلیہ حل کے دیا جا سکتا ہے۔ کوشش کریں کہ بچے کی غذا میں پانی ملانے کی بجائے دودھ استعمال کریں۔رفتہ رفتہ اسے کچھ گاڑھی چیز مثلاً بھرتہ بنے (mashed) آلویاکیلا وغیرہ کھانے کو دیں۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ بچے کو فنگر فوڈ (finger food)دینا شروع کریں۔آلو کے چپس‘چھلا ہواکیلا یا ابلا اور کٹا ہواانڈا وہ اشیاءہیں جنہیںبچہ خودہاتھ سے پکڑ کرکھاسکتاہے۔
بچے کو ایک سال کی عمر سے پہلے گائے کا دودھ مت دیں‘ اس لئے کہ کچھ بچوں کو اس سے الرجی کا مسئلہ ہوسکتا ہے۔مچھلی اور دیگر بوٹیاںکھلاتے ہوئے دھیان رکھیں کہ بچے کو ہڈی نہ چبھے۔

ایک وقت ‘ ایک ذائقہ
اکثر مائیں بچے کو ایک ساتھ تین یاچارچیزیں کھلانا چاہتی ہیں جو درست نہیں۔ایک وقت میں ایک خوراک متعارف کروائیں اور سات دن تک اس معمول کو جاری رکھیں تاکہ وہ اس کے ذائقے کا عادی ہو جائے۔ دوسرے ہفتے اس کونئی خوراک شروع کرائی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے ایک خاص وقت متعین کر لیں جس میں آپ خود بھی فارغ ہوںاور منے کو وقت دے سکیں۔ اس سے بچے کوروزانہ ایک معمول پر چلنے کی عادت ہو جائے گی۔
جب دو ہفتے تک اس طرح کا معمول بن جائے توماں ہر دوسرے دن ایک نئی غذا متعارف کر وا سکتی ہے۔ یہ ایک سست رفتار مگر اہم مرحلہ ہے کیونکہ اس وقت جو خوراک بچے کے معمول میں شامل ہو جائے گی‘ وہ ساری زندگی اس کے ساتھ رہے گی۔ اس لئے اس مرحلے میں اسے صرف صحت بخش غذا دیں اورمضر صحت اشیاءسے ہر ممکن حد تک پرہیز کریں۔ اگر آپ بچے کو پھل یا سبزی دے رہی ہیں تواسے ان کے فطری ذائقوں سے متعارف کروائیں اوران پر نمک‘ مرچ یاچینی چھڑک کر مت دیں۔ یہ چیزیں اس کے لیے پیٹ کے مسائل پیدا کرسکتی ہیں۔

چند اہم اصول
٭ مصروف زندگی‘گھریلو ذمہ داریوں اور کام کاج کی بنا پر کچھ ماﺅں کو بچے کو غذا میں نئی چیز یںمتعارف کروانا اور اسے وقت دینا مشکل لگتا ہے۔کوشش کرنی چاہئے کہ چند مہینوں پر مشتمل اس وقت کو بوجھ نہیں بلکہ ©©دلچسپ سرگرمی سمجھ کر کیا جائے۔
٭ اگربچہ پلیٹ سے کھانا گرا دے تو اسے ڈانٹیں نہیں اورنہ اس کے کپڑے اور جگہ گندی کرنے پر پریشان ہوں‘ اس لئے کہ یہ اس کے سیکھنے کا وقت ہے۔
٭ اگر وہ کھانے کو چھونا چاہے تواپنی نگرانی میں اسے کھانے کو ہاتھ لگانے دیں تاکہ وہ مختلف کھانوں میں فرق سمجھ سکے۔
٭ ہر بچہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے لہٰذا کچھ بچے جلد دودھ چھڑائی کے لئے تیار ہو جاتے ہیںجبکہ کچھ اس میں وقت لیتے ہیں۔کبھی اس کا دل کھانے کو نہیں بھی چاہتا ۔اس لیے جتنا وہ اپنی مرضی سے کھا لے اسے کھانے دیں اور اس معاملے میں اس پر زبردستی مت کریں۔
٭ کھانا کھلاتے وقت بچے کو ٹی وی یا توجہ ہٹانے والی دیگرچیزوں سے دور رکھیں۔اس کے بیٹھنے کی جگہ بھی آرام دہ ہو تاکہ وہ تسلی سے کھانا کھا سکے۔
٭ فیڈر کے استعمال سے اجتناب کریں۔
٭ ایک مرتبہ ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرلیں تاکہ اگر وہ ضروری سمجھے تو بچے کواس کی ضرورت کے مطابق سپلیمنٹ شروع کرواسکے ۔
آج کے بچے اگر صحت بخش اور متوازن خوراک سے دور بھاگتے ہیں تو اس میں بڑا قصور ان ماﺅں کا بھی ہے جن کی اپنی غذائی عادات صحت مندانہ نہیں ۔اگر وہ اپنے ننھے کو صحت بخش غذا کھلانا چاہتی ہیں تو خودکو بھی صحت بخش کھانوں کی عادت ڈالیں اور بچوںکے سامنے کسی غذا پر ناک بھوں نہ چڑھائیں۔