خواتین کا ایک نفسیاتی مرض تشدد سہتے رہنا خواتین کا مقدر نہیں

245

جہاں مرد‘ عورت پر اپنی اجارہ داری ‘خواہش یا سوچ زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے وہاں (ذہنی یا جسمانی)گھریلو تشدد کے واقعات رونما ہونے لگتے ہیں۔دنیابھر میں خواتین پر تشدد کے واقعات تقریباً روزانہ ہی میڈیا میں رپورٹ ہوتے ہیں۔اس تناظر میں یورپی یونین کی تنظیم ایف آر اے (European Union Agency for Fundamental Rights) کے مطابق دنیا بھر ہر 20میں سے ایک خاتون جنسی زیادتی کی شکار ہوتی ہے جبکہ 15سال کی عمر کو پہنچنے والی تقریباً ہر تیسری لڑکی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر تشدد کا نشانہ بنتی ہے۔

اگر پاکستان کی بات کی جائے تواقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال تقریباً5000خواتین گھریلو تشدد کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتر جاتی ہیں جبکہ اس نتیجے میں معذوری کی شکارہونے والی خواتین کی تعدادبھی ہزاروں میں ہے۔جبکہ اس طرح کے لاکھوں واقعات کہیں رپورٹ ہی نہیں ہوتے‘ اس لئے کہ اس کی شکار خواتین مختلف وجوہات کی بنا پراس ظلم و زیادتی کوتقدیر کا لکھا مان کرچپ سادھ لیتی ہیں۔اگرچہ تمام شوہر ایسے نہیں ہوتے مگر ہمارا معاشرہ مرد کو تھوڑی سی فوقیت دےتا ہے جس کا بعض اوقات غلط استعمال کیا جانے لگتاہے۔ بالعموم غریب گھرانوں اور نچلے طبقات کی خواتین کوگھریلوتشدد کی شکار سمجھااور میڈیا میں دکھایا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی معاشی و معاشرتی حیثیت کی حامل خواتین جسمانی و ذہنی تشدد کا شکار ہو سکتی ہیں۔

لمبے عرصے تک تشدد سہنے والی خواتین میں ایک نفسیاتی بیماری پیدا ہو جاتی ہے جسے” Battered Woman Syndrom“ یعنی باربار اور شدت سی پیٹی گئی خواتین کا عارضہ کہا جاتا ہے۔اس کو پی ایس ٹی ڈی (Post-traumatic Stress Disorder)کی ایک قسم بھی سمجھا جاتا ہے ۔

مرض کے اسباب
گھریلو تشدد کی اصطلاح اپنے اندر وسیع مفہوم رکھتی ہے جس میں بیوی کو طلاق کے نام پر دھمکانا بھی شامل ہے۔ طلاق ہمارے معاشرے میں عورت پر ایسا داغ ہے جس سے وہ ہر قیمت پر بچنا چاہتی ہے‘ اس لئے کہ ہمارا معاشرہ طلاق یافتہ عورت کو قبول نہیں کرتا۔یوں وہ ڈری سہمی رہتی ہے اور مرد کا ہر ظلم برداشت کرتی چلی جاتی ہے۔ اس میںڈپریشن اوراحساسِ شکست پیدا ہوتا ہے اور پھر وہ اسے خاموشی سے سہنے کی عادی ہو جاتی ہے ۔
اس سینڈروم کی شکارخواتین اپنے آپ کو کمزور‘ بے یارو مددگار‘ بے سہارا اور نفسیاتی طور پر مفلوج تصور کرتی ہیں۔ان میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ وہ تشدد ہی کے قابل ہےں اوریہ کہ اس مسئلے سے چھٹکارا پانا ممکن نہیں۔ بعض اوقات وہ یہ سوچ کر بھی خاموش رہتی ہیں کہ خاوند خود ہی تشدد کرناختم کر دے گا۔یہی وجہ ہے کہ بہت سی خواتین لوگوں سے یہ بات چھپانے لگتی ہیں اورپولیس کی مدد لینا بھی بے فائدہ سمجھتی ہیں۔ یہ رویہ تشدد اور اس بیماری کو قوت بخشنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ مرد بھی اس مرض کا شکارہو سکتے ہیں مگر ان میں اس کی شرح انتہائی کم ہے۔

اولاد پرمنفی اثرات
اس سینڈروم سے عورت ہی نہیں‘ اس کی اولاد بلکہ پوراگھرانہ متاثر ہوتا ہے اور بچوں کی تربیت پرخاص طور پر گہرامنفی اثرپڑتا ہے۔مثال کے طور پر اولادبعض اوقات بیک وقت دو متضاد سوچوں اور احساسات کی شکار ہو سکتی ہے۔ مثلاًوہ اپنے والد سے محبت بھی کرتی ہے مگر اس کے ذہن میںوالدہ پرتشدد کی وجہ سے اس سے نفرت کے جذبات بھی ہوتے ہیں ۔ اولاد کی طرف سے باپ کی نافرمانی اور بسااوقات بغاوت کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے۔گھریلو تشدد کے واقعات کو روکنا ضروری ہے تاکہ خاتون کے ساتھ ساتھ اس کی اولاد کو بھی تشدد‘ذہنی انتشار اور دیگرمسائل سے بچایا جا سکے۔
کرنے کے کام

تعلیم وآگہی
اس سینڈروم کے عام ہونے کی سب سے بڑی وجہ تعلیم اور آگہی کی کمی ہے لہٰذا اس سلسلے میں سب سے اہم کام اس سے متعلق آگہی پھیلانا ہے۔خواتین کو علم ہونا چاہئے کہ ظلم و تشدد سہتے رہنا ان کی قسمت نہیںہے۔انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ بیماری اور تشدد سے بچاﺅ کے لئے وہ کیا کر سکتی ہیں‘ انہیں کہاں رابطہ کرنا ہے اورکس کو بتانا ہے۔ بعض صورتوں میں آگاہی ہونے کے باجود وہ کچھ نہیں کر پاتیں جس کے اسباب ان کی مجبوریاں‘بدنامی کاخوف یاقانون کی کمزوریاں ہو سکتے ہےں مگر آگاہی ان سب سے بچاتی ہے۔ معاشرہ جتنا زیادہ آگاہ ہو گا‘ وہ اتنا ہی ایسی خواتین کی مدد کر سکے گا۔

نفسیاتی علاج اورکونسلنگ
سینڈروم کی شکار خاتون کا نفسیاتی علاج اورکونسلنگ اہم مرحلہ ہے۔ماہرنفسیات نہ صرف ان کی بلکہ ان کے گھروالوں کی ذہنی حالت کو بہتر کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔بیماری کی تشخیص سے لے کر اس کے علاج تک اورمریضہ کو اس قابل بنانے تک کہ وہ اپنے اور بچوں کے مستقبل کے لئے درست سمت کا تعین کرکے درست فیصلے کر سکے‘ماہرنفسیات اس کی مدد کر سکتا ہے ۔

پولیس میں رپورٹ
تشدد کی شکار خاتون کو چاہئے کہ وہ پولیس میں رپورٹ درج کروائے۔پاکستان میں ریسکیو 1122کی ٹیم اس ضمن میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔اگرخاتون ایسا نہ کر پائے تو اس کے میکے والوں‘ پڑوسیوں یا رشتہ داروں کو اس کی مدد کرنی چاہئے۔
گھریلو تشدد سے متعلق قوانین سخت (مثلاً ملازمت سے برخواستگی) ہونے چاہئےں۔ پولیس کے پاس اختیار ہونا چاہئے کہ وہ عورت کو تحفظ اورمرد کوسزا دے سکے۔ پاکستان میں بھی اس سے متعلق قانون موجود ہے مگر اس کو زیادہ موثر بنانے او ر اس پر کما حقہ ‘ عمل کروانے کی ضرورت ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں عورت کی ایک کال پر پولیس حرکت میں آ جاتی ہے اور اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔یہاں بھی بڑے شہروں کی پولیس کے پاس اس طرح کے کیس آتے ہیں اور وہ ایکشن لیتی ہے مگر اس سے متعلق ہمارے ملک کی خواتین میں آگاہی موجود نہیں اور اگر ہے بھی تو معاشرتی دباﺅ اور مجبوریوں کی وجہ سے وہ کال نہیں کرتیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ خواتین پولیس رپورٹ کر وا کرملزم سے ہمدردی کرنے لگتی ہیں یا پھر انہیں یہ خوف ستانے لگتاہے کہ جب وہ رہا ہو گا تو معاملہ مزید بگڑ جائے گا۔ یہ خدشات بے بنیاد نہیں‘ اس لئے حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خواتین کو تحفظ دینے کے لیے موثر قانون سازی کرے ۔
اگر آپ اپنے ارد گرد ایسی کوئی خاتون دیکھیں تو اسے ماہرنفسیات کے پاس ضرور لے کر جائیں۔اگر کوئی خاتون میرے پاس آئے تو میں بحیثیت معالج نہ صرف اس کا نفسیاتی علاج کروں گا بلکہ دیگر معاملات میں بھی اس کی راہنمائی کروں گا۔یاد رکھئے‘ آپ کا ایک قدم کسی خاتون کی زندگی بچا سکتا ہے۔

فلاحی مراکز اور سوشل ورکرز کا کردار
ہمارے ملک میں بے سہارا خواتین کے لئے کچھ مراکز بھی قائم ہیں لیکن خواتین سمجھتی ہیں کہ وہاں جانا خود پر بدنامی کا داغ لگوانے کے مترادف ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ ایسے اقدامات کرے جن سے اس تاثر کا خاتمہ ہو اور بے سہارا خواتین کو سہارا مل سکے۔ اس کے ساتھ سپورٹ گروپس کا کردار بھی بہت اہم ہے تاکہ ایسی خواتین راہنمائی اور حوصلہ پاسکیں ۔سول سوسائٹی جب تک اس ضمن میں متحرک نہیں ہو گی‘ تب تک کچھ زیادہ فائدہ نہیں ہو گا۔

 

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

٭ ڈاکٹر صاحب! میں اپنی جلد کے حوالے سے بہت پریشان ہوں۔ ی

خوبصورتی کاتناظر ہو یا صحت کا‘ جسم کے دیگراعضاءکی طرح

کینسر ایک مہلک اور جان لیوا مرض ضرور ہے لیکن اس کی بروقت