حمل, ذرا ہٹ کے

490

زندگی میں بعض اوقات ایسے مراحل آتے ہیں جب آپ کو ایسی خوشخبری ملتی ہے کہ آپ خود کو ہواو¿ں میں اڑتا محسوس کرتے ہیں لیکن اگلے ہی لمحے ساری خوشی ہوا ہوجاتی ہے اور آپ ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔ بہت سی حاملہ خواتین کو بھی اس کیفیت سے گزرنا پڑتا ہے ۔ بعض اوقات ان کا حمل اپنی جگہ پر نہیں بلکہ ایک مخصوص نالی میں ٹھہر جاتا ہے ۔ایسے میں حمل نہ صرف ضائع ہوجاتا ہے بلکہ بروقت تشخیص اور علاج نہ ہو تو متوقع ماں کی جان بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے ۔ خواتین کی صحت کے ایک اہم پہلو سے متعلق فریحہ فضل کی خوبصورت تحریر


”آپ کسی بہت ہی پیارے مہمان کو خوش آمدید کہنے کے لئے تیاریاں کر رہی ہوں اور اچانک‘ اسے دیکھنے سے قبل ہی خداحافظ کہنا پڑ جائے تو کیسا لگتا ہے؟ مجھے یہ بتائیے کہ خوابوں کا ٹوٹنا کیسا ہوتا ہے؟ ایسے ہی ناں جیسے خوشی اور سرمستی کے عالم میں جھولا جھولتے ہوئے رسی اچانک ٹوٹ جائے؟ میرے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا۔ ابھی تو میں نے جھولا شروع ہی کیا تھا۔ ابھی مہینہ بھر پہلے ہی تو ڈاکٹر نے مجھے ماںبننے کی نوید سنائی تھی۔ پورے دو برس بعداللہ نے یہ خوش خبری دی تھی۔ میں اور احمد تو گویا ہواﺅں میںاڑ رہے تھے۔ جذبات کا ایک ریلا تھا۔ خوشی‘مسرت‘ جوش اورانوکھے پن کا احساس تھا۔ ابھی تو یقین کی ہی منزل پوری نہیں ہوئی تھی…“
انجم اپنی سب سے پیاری سہیلی سعدیہ کو بپتا سناتے ہوئے رو پڑی۔ وہ ایک لمحے کے لئے رکی‘ پلو سے آنسو صاف کئے اور کہانی کو وہیں سے شروع کیا جہاں سے سلسلہ ٹوٹاتھا:

”حمل کو پانچ ہفتے بھی نہیں گزرے تھے کہ میرے پیٹ میں شدید درد ہونا شروع ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی میرے کندھوں میںبھی تکلیف شروع ہوگئی۔ یہ ایک عجیب سی اوراذیت ناک تکلیف تھی۔“
انجم کے شوہر احمد اسے فوراًڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ اس نے خون اور پیشاب کے ٹیسٹ لینے کے بعد الٹراساﺅنڈ کیا۔ اس کے بعد اس نے جو کچھ کہا‘ وہ گویا انجم کے کانوں میں صورِ اسرافیل پھونکنے کے مترادف تھا۔ ڈاکٹر نے اسے بتایا کہ بچہ اپنی جگہ پر نہیں بلکہ فیلوپی نالی  میں ہے۔ اس سے پہلے کہ نالی پھٹ جائے‘ انہیں اس کا کچھ کرنا ہوگاورنہ آپ کی جان کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔
فیلوپی نالیاں دو عدد پتلی سی نالیاں ہیں جو انڈے کو بیضہ دانی سے بچہ دانی میں لانے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ اطالوی ڈاکٹر گیبریلو فیلوپیو نے انہیں معلوم کیا جس کی بنا پر انہیں یہ نام دیا گیا۔
مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق اس ’ننھے‘ کو اس مرحلے پرہی ختم کرنا پڑا جب وہ ابھی ہونے اور نہ ہونے کے درمیان تھا۔ انجم کے بقول ’خالی پن کا احساس میری رگوں کوکاٹ رہاتھا مگر ہم مجبور تھے۔‘ ڈاکٹر نے انہیں بتایا کہ تکنیکی زبان میں اسے ’ای سی‘یعنی ایکٹوپک حمل  کہتے ہیں۔

 

پی جے ایم ڈی  کے مطابق اس حمل کی شرح 130میں سے ایک ہے۔ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سنٹر کراچی میں ڈاکٹر احسان اور ڈاکٹر محمود کے زیر نگرانی ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اس کی شرح پچھلی دودہائیوں میں کافی حد تک بڑھ گئی ہے۔
”ڈاکٹر صاحبہ ! اکٹوپک حمل ہوتاکیا ہے؟“احمد کے لئے یہ اصطلاح بالکل نئی تھی۔ لاہور سے تعلق رکھنے والی ماہر امراض زچہ و بچہ ڈاکٹر ماریہ انور انہیں بتانے لگیں کہ یہ حمل کے ابتدائی ایام میںلا حق ہونے والی پیچیدگیوں میں سے ایک اہم پیچیدگی ہے۔اس کے لغوی معنی ’اپنے مقام سے ہٹ کر‘ ہیں۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا:

”بعض اوقات حمل بچہ دانی سے باہر ٹھہر جاتاہے اور وہیں اس کی نشوونما شروع ہوجاتی ہے۔95فی صد صورتوں میں یہ فیلوپین ٹیوب میں ٹھہرتا ہے۔ اسی لئے اسے ’ٹیوبل حمل‘ بھی کہتے ہیں۔ “
ہر وہ چیز جو معمول سے ہٹ کر ہو‘پیچیدگی اور مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ یہی کچھ اس قسم کے حمل میں بھی ہوتا ہے۔ اسی لئے تو ایمبریو جب ذرا بڑا ہوتاہے تو ناکافی جگہ کے باعث نالی پھٹ جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے اندرونی طور پر خون بہنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے باعث حاملہ خاتون ’شاک ‘میں چلی جاتی ہے۔ ایسے میں فوری طور پر کسی قریبی ہسپتال میں متعلقہ ڈاکٹرسے رجوع کرنا چاہئے۔ اگر تشخیص اورعلاج میں تاخیر ہوجائے توخاتون کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
میڈیسن کی زبان میں’ شاک‘ سے مراد کسی زخم یاشدید مرض سے پیداشدہ وہ کیفیت ہے جس میں خون کے حجم میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ اس کی علامات میں بلڈپریشر میں کمی ‘ تیز نبض‘ بے آرامی‘ پیاس اور ٹھنڈی جلد ہیں۔یہ حمل خواتین کی تولیدی زندگی اور صحت کے لئے خطرناک حد تک تباہ کن اثرات مرتب کرسکتا ہے۔
”لیکن ڈاکٹر صاحبہ! کسی خاتون کو کیسے پتہ چلے گا کہ اس کے حمل کو یہ مسئلہ ہے؟“ انجم نے ڈاکٹر ماریہ سے استفسار کیا۔

 

ڈاکٹر نے انہیں بتایا کہ اس حمل کا آغاز نارمل حمل کی طرح ہی ہوتا ہے مگر 6 سے10ہفتوں کے دوران اس خاص پیچیدگی کی علامات نمودار ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ ابتداءمیں حاملہ خاتون کو پیٹ کے نچلے حصے کے درمیان ایک جانب شدید درد محسوس ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ اس کی شدت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے جس کے بعد یہ پیڑو  کے پورے حصے میں پھیل جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگر حاملہ خاتون کاخون معمول سے زیادہ خارج ہونا شروع ہو جائے تو یہ خطرے کی علامت ہے۔ کندھوں میں شدید دردمحسوس ہونا بھی اس کی ایک علامت ہے تاہم یہ درد اعصابی درد سے بالکل مختلف ہوتاہے۔ یہ عموماً اس جگہ پر ہوتا ہے جہاں بازو اورکندھا ملتے ہیں۔اسی طرح پاخانے کے مقام  پر شدید دباﺅ محسوس ہوتا ہے۔ خصوصاً پیشاب اور پاخانہ کے وقت یہ بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے ڈائریا اور متلی کی کیفیت بھی ہوسکتی ہے۔
ڈاکٹر ماریہ نے بتایا کہ ہسپتال میں ڈاکٹر فوری طور پر پیشاب اور خون کا ٹیسٹ کرتے ہیں۔ یہ ایچ سی جی  ہارمون کے لئے کیا جاتاہے جس سے حمل کی تشخیص بھی ہوجاتی ہے۔اس کے ساتھ خون میں ہیموگلوبن کی مقدار چیک کی جاتی ہے اور فوری طور پر الٹراساﺅنڈ کیا جاتا ہے۔ اگر حمل بچہ دانی سے باہر ہو توالٹراساﺅنڈ میں بروقت پتہ چل جاتا ہے۔ اگر ٹیوب پھٹ گئی ہو تو پیٹ کے اندر نچلے حصے میں خون جمع ہوجاتا ہے جو الٹراساﺅنڈمیں باآسانی دیکھا جاسکتا ہے۔ اس طرح کسی اندرونی پیچیدگی سے بروقت آگاہی ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹر ماریہ کہتی ہیں کہ تکلیف کی شدت اور علامات کی بنیاد پر ڈاکٹر علاج تجویز کرتے ہیں کیونکہ ایکٹوپک حمل کے علاج کے متعدد طریقے ہیں۔مثلاً اگر مریضہ فوراً ہسپتال پہنچ جائے اور علامات شدید نہ ہوں تو ادویات یا انجکشن سے علاج ممکن ہے۔ دوسری صورت میں ڈاکٹر علاج کے متبادل طریقے اختیار کرتے ہیں۔

اگرٹیوب پھٹنے کا فوری خدشہ نہ ہو تو دوخاص قسم کے انجکشن لگا کر ایمبریوکی نشوونما کو روک دیا جاتا ہے۔اس سے وہ آہستگی سے ختم ہو کر جسم کا حصہ بن جاتاہے اور مریضہ آپریشن سے بچ جاتی ہے۔اس عمل میں درد نہیں ہوتا ‘تاہم اس کے بعد ایچ سی جی ہارمون کی سطح میں اتارچڑھاﺅ کا بغور جائزہ لیناپڑتا ہے۔ عموماً اس کے نارمل ہونے میں چار سے چھے ہفتے لگ سکتے ہیں۔اس کی کامیابی کا تناسب 90فی صد ہے۔ اگلے حمل کے لئے خاتون کو کم از کم تین ماہ تک انتظار کرنا چاہیے۔
علاج کا دوسرا طریقہ سرجری ہے۔یہ تب کیا جاتا ہے جب ایمبریو کا سائز بڑا ہو اورٹیوب پھٹنے کا اندیشہ ہو۔ اس صورت میں مریضہ کے پیٹ میں چھوٹا سا کٹ لگا کر اسے نکال دیاجاتاہے۔ اس عمل کو لیپرا سکوپی  یا کی ہول سرجری  کہتے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد فیلوپین ٹیوبز اور اووری کو بچانا ہوتا ہے تاہم بدترین حالات میں ان دونوں کو نکالنا بھی پڑ سکتا ہے۔ شدید صورت حال میں مریضہ کی جان بچانے کے لئے اوپن سرجری بھی کی جاتی ہے جسے لیپراٹومی  کہتے ہیں۔ یہ جنرل انستھزیا دے کر کی جاتی ہے۔

 

ڈاکٹر صاحبہ! نارمل حمل کتنے عرصے بعد دوبارہ ہوسکتا ہے؟ انجم نے بے تابی سے سوال کیا؟

اگر مریضہ کو ایک دفعہ ایکٹوپک حمل ہوجائے تو دوبارہ اس کے امکانات 15فی صد ہوتے ہےں تاہم ایسے حمل کے بعد نارمل حمل کا انحصار اس پیچیدگی کی نوعیت پر ہوتاہے۔اگر ٹیوب یا اووری نہ نکالی ہو تو آئندہ حمل ٹھہرنے کے امکانات 60 فی صد ہوتے ہیں۔ جو خواتین زیادہ عمر (35 تا 44 سال) کی ہوں‘ پی آئی ڈی  اور حمل ٹھہرنے کے مسائل کا شکار رہ چکی ہوں‘ان میں بھی اس کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
بعض خواتین کی فیلوپی نالیوں میں پیدائشی طور پر ابنارمیلٹی ہوتی ہے جو حمل کے مسائل کو جنم دیتی ہے۔سگریٹ نوشی کثرت سے کرنے والیوں میں بھی اس کا مکان زیادہ ہوتا ہے۔ اگر پہلے ہی پیٹ یافیلوپین ٹیوبز کی سرجری ہو چکی ہو تو ان کی وجہ سے بھی یہ پیچیدگی ہوسکتی ہے۔ضبط ولادت کے کچھ طریقے بھی اس کا باعث بنتے ہیں۔

اس تکلیف دہ تجربے سے نکلنا دشوار کام ہوتا ہے‘ خصوصاً اس وقت جب آپ پہلی مرتبہ حاملہ ہوئی ہوں۔تاہم اپنے شوہر اور گھر والوں کے تعاون اور محبت کے طفیل انجم اب کسی حد تک اس سے نکل آئی ہے۔”امید“ واحد ہتھیار تھا جو اسے اس صورت حال سے باہر لانے میں معاون ثابت ہوا۔ماضی کو دھکیل کر آگے کی طرف بڑھنا مشکل ہوتا ہے‘خصوصاً اس وقت جب وہم‘خوف اور خدشات آپ کے وجود کے گرد اکٹوپس کی طرح لپٹے ہوں۔ انجم اس بات پر یقین ہے کہ رات جتنی لمبی ہو‘صبح ضرور آتی ہے۔انشاءاللہ یہ رات بھی گزر جائے گی‘ اس لئے کہ مایوسی بہرحال کفراور شرک ہے۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of