جب سب امیدیں ٹوٹ جائیں… آخری امید‘ آخری سہارا

368

عام انسانی زندگی اسباب پر ہی منحصر ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ معجزات کی بھی اس دنیا میں کمی نہیں اور طب کی دنیامیں تو اس کامشاہدہ کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے۔ یہ عامل ہماراحوصلہ بڑھاتا ہے اورہمیں یاد دلاتا ہے کہ امید کا دامن آخر وقت تک تھامے رکھنا چاہئے ۔یہ ہمیں احساس دلاتاہے کہ کوئی بالادست اور رحمدل ہستی ہماری مدد کیلئے موجود ہے‘ تاہم انسانوں کے ذمے معجزات کا انتظار کرتے رہنا نہیں بلکہ اپنے بس میں جو کچھ ہو، وہ کر گزرنا ہے۔خالد رحمٰن کی ایک خوبصورت تحریر


”109 دن پر مشتمل وہ عرصہ ہمارے لیے بہت بے چینی اور پریشانی کا حامل تھا۔ اسے یادکرنا اور دہرانا بھی بہت تکلیف دہ ہے۔“
بچی کی پیدائش کے فوری بعد کے وقت کو یاد کرتے ہوئے اس کی ماں نے بتایا کہ ولادت کے وقت بچی کا وزن نوپاﺅنڈ سے کچھ زیادہ تھا۔بچی بہت خوبصورت اور بظاہر صحت مندتھی۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ اگرچہ اس کے دل دھڑکنے کی آواز (heart murmur) معمول سے ذرامختلف ہے لیکن کسی پریشانی کی بات نہیں۔چنانچہ والدین مطمئن تھے۔
دو ہفتے پلک جھپکتے گزرگئے۔ اس دوران سب کچھ ٹھیک ہی لگتا تھا لیکن پھرایک دن بچی نے فیڈلینے سے انکارکردیا۔ ماں کے بقول ’ہم دیکھ رہے تھے کہ اس کے چہرے کی شادابی ختم ہوگئی ہے۔ ہمیں جب احساس ہواکہ کچھ گڑبڑ ہے توہم اسے لے کر بچوں کے ماہر ڈاکٹر کے پاس پہنچے۔ اس نے بھی بچی کو دیکھتے ہی اپنی تشویش کااظہار کیا۔ اس دوران ہمیں بھی صاف نظر آنے لگا تھا کہ بچی کو سانس لینے میں تکلیف ہورہی ہے۔ ‘
ڈاکٹر کے مشورے پربچی کو فوراً ایک بڑے ہسپتال لے جایا گیا جہاں اس نے دو ہفتے گزارے۔ ڈاکٹروںنے معائنے کے لیے ایک باریک سی ٹیوب اس کے دل میں داخل کی۔ یہ ایک طرح سے سرجیکل پروسیجر کا آغاز تھا۔ اب بھی بیماری کی نوعیت پوری طرح واضح نہ ہوئی تو کسی قدر ہچکچاہٹ کے ساتھ بچوں کے ایک اورمعروف سرجن سے رابطہ کیاگیا۔ اس وقت کی کیفیت کو یادکرتے ہوئے اس خاتون کا کہنا تھا کہ’ ہچکچاہٹ کی وجہ یہ تھی کہ ہم اب تک یہ یقین کرنے کے لیے تیار نہ تھے کہ بچی کوکوئی بڑا مسئلہ درپیش ہے۔ لیکن جلد ہی ہمیںاندازہ ہوگیا کہ کسی تاخیر کے بغیر ہمیںہرطرح کے ٹیسٹوں اور سرجری کے لیے تیار ہوجانا چاہےے۔‘
بچی کی عمر بمشکل ایک ماہ تھی۔ ابتدائی ٹیسٹوں سے یہ واضح ہوگیا کہ اس کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ اس کے دل کے والو میں خرابی تھی جس کے لیے آپریشن ضروری تھا۔ ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ بہتر ہے سرجری سے قبل بچی کا وزن کچھ بڑھ جائے جو اب گھٹ کر بمشکل آٹھ پاﺅنڈ رہ گیا تھا۔ دوسری جانب اس کے دل کی حالت دیکھتے ہوئے انتظار بھی ممکن نہ تھا۔
خاتون کاکہنا تھا کہ’ڈاکٹر سے اس وقت کی ملاقات مجھے اچھی طرح یاد ہے جب وہ سرجری کا مشورہ دے رہے تھے۔ وہ ہمیں اطمینان دلانے کے لیے ہمارے سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ ان کی بات سننے سے زیادہ میری نظر ان کے ہاتھوں پرتھی اورمیں سوچ رہی تھی کہ یہ وہ ہاتھ ہیں جن سے وہ میری چھوٹی سی بچی کا سینہ کھول کر اس کے ننھے سے دل کاآپریشن کریں گے۔ ‘
بالآخر بچی کا بائی پاس ہوگیا۔ تھوڑی دیر کے لیے ایسے لگا کہ صورت حال بہتر ہورہی ہے لیکن اسے سانس لینے میں تکلیف تھی اور وہ خود فیڈ نہیں لے رہی تھی۔
”بچی کو ایک اور بائی پاس آپریشن کرانا پڑا تاہم اس کی طبیعت سنبھلنے کی بجائے مزید بگڑ گئی اور یہ بگاڑ پہلے سے بھی زیادہ تھا۔ہماری چھوٹی سی بچی اس وقت تک دومرتبہ بائی پاس سے گزر چکی تھی اور تین مرتبہ ٹیوب اس کے دل میں داخل کی گئی تھی۔ دنیا میں آنے کے وقت سے اب تک اس کی زندگی کا بڑا حصہ (جو اس کی ذہنی وجسمانی نشوونما کے لیے غیرمعمولی طورپر اہم تھا) ہسپتال ہی میں اور وہ بھی انتہائی نگہداشت کے وارڈ(ICU) میں گزراتھا۔ ہمارا بیشتر وقت یہ سوچتے ہوئے گزر جاتا کہ کیا یہ کبھی پوری طرح صحت یاب ہوسکے گی؟“
سانس لینے کے لیے وہ مصنوعی مشین (respirator) کی محتاج تھی۔ اس کے جسم میں مختلف قسم کی نالیاں لگی نظر آتی تھیں۔ والدین کو خیال آتا کہ شاید اسے مصنوعی والو لگوانا ہوگالیکن ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ اس کی اپنی الگ سے پیچیدگیاں ہیں۔ عمربڑھنے کے ساتھ ساتھ نسبتاً بڑے سائز کے والو لگانے کے لیے بار بار سرجری کے مراحل سے گزرنا پڑتاہے جبکہ خون کو پتلا کرنے لیے زندگی بھر ادویات بھی لینا ہوتی ہیں۔ ڈاکٹروں کے مشورے پر فیصلہ ہوا کہ ایک بار پھر بائی پاس ہو اور اگر ضرورت محسوس ہوتو مصنوعی والوبھی لگادیاجائے۔
اور پھر معجزہ ہوگیا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ بائی پاس کا تیسرا آپریشن کامیاب ہوگیا ہے اور مصنوعی والو کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ بچی کی تیزی سے بہتر ہوتی صورتحال ڈاکٹر کی بات کی گواہی دے رہی تھی۔ والدہ کے بقول ’بحالی صحت کی نوعیت ایسی تھی جیسے اچانک کوئی سوئچ جو پہلے آف تھا‘ا ب آن ہو گیاہو۔ شکر ہے کہ ہماری بچی جو ابھی تک اپنی زندگی کی بقاءکے لیے جدوجہد کررہی تھی ‘ تیزی سے نشوونما پارہی تھی۔ہمارے دوست احباب ہم سے دریافت کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ اچانک کیسے ہوگیا۔ ظاہر ہے کہ ہمارے پاس بھی اس کا کوئی جواب نہیں۔ ہم انہیں بتاتے ہیں کہ یہ فلمی دنیا کی کوئی کہانی نہیں جس کے انجام میں کوئی منطقی اسباب لازماًکارفرما نظرآئیں۔‘
انسانی زندگی اسباب پر ہی منحصر ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ معجزات کی بھی اس دنیا میں کمی نہیں ہے۔ طب کی دنیامیں تو اس کامشاہدہ ڈاکٹروں اور عام لوگوں کو ہوتاہی رہتا ہے۔ یہ عامل ہمارا حوصلہ بڑھاتا ہے اورہمیں یاد دلاتا ہے کہ امید کا دامن آخر وقت تک تھامے رکھنا چاہئے۔ ہمارے ذمے معجزات کا انتظار کرتے رہنا نہیں، بلکہ اپنے بس میں جو کچھ ہو، وہ کر گزرنا ہے ۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x