چھوٹے بچے ،بڑے مسائل

508

”مکمل طور پرصحت مند بچے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں۔ اللہ کے فضل سے میرا بیٹا موحدایک تندرست بچہ ہے لیکن پھر بھی اس کے بارے میں دوسروں کے مشاہدات اور باتیں مجھے فکر میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ان میں سے کچھ ٹھیک ہوتی ہیں تو کچھ بالکل بے سروپا ثابت ہوتی ہیں۔ہم مائیں بعض اوقات چھوٹی چھوٹی باتوں پر بلا وجہ پریشان رہتی ہیں اور بعض اوقات بڑی بڑی باتوں کو چھوٹا سمجھ کر نظرانداز کر جاتی ہیں۔اس کا حل علم اور معلومات ہی ہیں۔ ہمیں اس طرف بھرپور توجہ دینی چاہئے۔“ناجدہ حمید کی معلوماتی تحریر


بچوں میں بھینگا پن
میرا بیٹا موحد ابھی کچھ ہی دن کا تھا کہ اسے بخار ہو گیا۔اسے ہسپتال لے جاےا گیا جہاں وہ دو دن داخل ر ہا۔اس دوران میرے بھائی ملنے کے لےے آئے تو موحد کو غور سے دیکھنے لگے۔ وہ بولے کہ ’مجھے اس کی آنکھوں میں فرق لگ رہا ہے۔‘جب میں نے بھی غور سے دیکھا تو مجھے بھی ایسا ہی معلوم ہوا۔میں تو بہت فکر مند ہو گئی کہ شاید بخار سے ایساہو گیا ہے۔صبح جب ڈاکٹر آئے تو میں نے انہیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی آنکھیں چھے ماہ کی عمر تک ٹھیک زاوےے پر آتی ہیں اس لےے فکر کی کوئی بات نہیں۔ یہ سن کر میرے دل کو کچھ حوصلہ ہوا۔شفانیوز کے ساتھ گفتگو میں ڈاکٹرز ہسپتال اینڈ میڈیکل سنیٹرکے ماہر امراض بچگان ڈاکٹر شاہد اسلم نے بتایا:
”بچوں کی آنکھوں میں پیدائشی طور پرتھوڑابہت فرق محسوس ہوتا ہے جو بعد میں ٹھیک ہو جاتا ہے۔ ایک سال کا ہونے کے بعدبھی اگر یہ ٹھیک نہ ہو تو ماہر امراض چشم کو ضرور دکھانا چاہےے۔ وہ معائنے کے بعد ہی بتا سکے گا کہ کیا مسئلہ ہے اورپھر وہ علاج تجویز کرے گا۔“
بچوں میں بھینگے پن کی وجوہات بتاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایسا آنکھ کے پٹھے کی کمزوری،نظر کی خرابی یا گردن توڑ بخار وغیرہ کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔

گردن سنبھالی نہ جائے
ایک دن میری ہمسائی ہمارے گھر آئی۔ان کا بھتیجا میرے بچے سے چند دن ہی بڑا تھا۔ میرا بیٹا جب چار ماہ کا تھا تو اس نے گردن اٹھا نا شروع کر دی تھی۔ جب انہوں نے موحد کو دیکھا تو بولیں کہ’ میرا بھتیجا تو ابھی تک اپنی گردن نہیں اٹھا سکتا۔ہم نے ڈاکٹر کو چیک کراےا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ اس کی گردن کے پٹھے کمزور ہیں‘ اس لےے ابھی تک یہ اپنی گردن نہیں سنبھال سکا۔‘
ڈاکٹر شاہد کا کہناہے کہ عموماً بچہ چوتھے ماہ سے گردن اٹھانا شروع کردیتا ہے۔ اگر چھے ماہ تک بھی وہ گردن نہ سنبھال سکے تو ڈاکٹر کو چیک کرانا ضروری ہوتاہے۔ انہوں نے مزید بتاےاکہ اس کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں گردن کے پٹھوںیاکمر کے پٹھوں کی کمزوری،دماغی کمزوری،جسمانی کمزوری یاگردن توڑ بخار شامل ہیں۔ ڈاکٹر سے معائنے کے بعد ہی اس کی اصل وجہ معلوم ہو سکتی ہے جس کے بعد اس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔

نیچے سے جڑی زبان
میری کزن کی ایک بیٹی تقریباً 10 سال کی ہو گئی لیکن وہ توتلا بولتی تھی۔ اس وجہ سے بچے اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ اگر ایک خاص وقت تک یہ مسئلہ حل نہ ہو تو متعلقہ ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہےے تاکہ اس کا بر وقت علاج ہو سکے۔ اس کا معائنہ کراےا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کی زبان نیچے سے جڑی ہوئی ہے۔ اس کوہلکا سا کٹ لگا کر ٹھیک کیا گیا۔اب ماشاءاللہ وہ بالکل ٹھیک بولتی ہے۔
ڈاکٹر شاہد کہتے ہیں کہ بچوں کا شروع میں توتلا بولنا نارمل بات ہے۔ چار سے پانچ سال کی عمر تک بچے صاف بولنے لگتے ہیں اور الفاظ صحیح ادا کرنے لگتے ہیں۔ اگر بچہ پانچ سال کی عمر تک بھی صاف نہ بول سکتا ہو تو اس کی کوئی خاص وجہ ہو سکتی ہے۔ اس کی زبان کے پٹھے کمزور ہو سکتے ہیں یا زبان نیچے سے جڑ ی ہو سکتی ہے۔
بچے کاایک مخصوص عمر تک صاف زبان میں نہ بولنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس کا معائنہ ضروری ہے۔ اگر کوئی اور مسئلہ نہ ہو تو ڈاکٹر اسے سپیچ تھیراپسٹ کے پاس بھیج سکتا ہے۔ یہاںاس بات کا دھیان رکھنا بھی ضروری ہے کہ چھوٹے بچوں کے ساتھ لاڈ پیار میںتوتلا نہ بولا جائے کیونکہ بچے جو سنتے ہیں‘ وہی بولتے ہیں۔ اسی طرح بچے کے توتلا بولنے پر نہ تو اسے سراہا جائے اور نہ ہی اس کا مذاق اڑاےا جائے۔ مذاق اڑانے سے بچے کی نفسیات پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جودیر پا بھی ہو سکتے ہیں۔

ٹیڑھی ٹانگیں، ٹکراتے گھٹنے
موحد دیکھنے میںتھوڑا سا کمزور بچہ ہے۔اس کا جسم زیادہ بھرا بھرا نہیں ہے۔ایک دن اس نے نیکر شرٹ پہنی ہوئی تھی ۔میری کزن ہمارے گھر آئی تو اس کے ساتھ کھیلنے لگی۔ موحد نے بھی خوب ٹانگیں بازو چلائے۔ میری کزن کا دھیان موحد کی ٹانگوں پرگیا تو کہنے لگیں کہ ’مجھے اس کی ٹانگیں ٹیرھی لگ رہی ہیں۔‘مجھے تو فکر لگ گئی۔ جب ڈاکٹر کے پاس اس کا چیک اَپ کرانے گئی تومیراوہم دور ہو گیا۔
ٹیڑھی ٹانگوں والے بچے کی گھٹنے سے نیچے والی ہڈی کا جوڑ اندر یا باہر کی طرف خمدار ہوتا ہے۔ بعض اوقات ہڈی کولہے کے جوڑ سے ہی پیدائشی طور پرٹیڑھی ہوتی ہے۔ اگر آپ کو شبہہ ہو تو ڈاکٹر سے ضرور معائنہ کرا لیں۔
ڈاکٹر شاہد کہتے ہیں کہ پاکستان میں یہ مسئلہ بچوں میں وٹامن ڈی کی کمی کے باعث زیادہ پایا جاتاہے۔ بچے میں اگر ایسامسئلہ نظر آئے تو ڈاکٹر وٹامن ڈی،کیلشیم ،خون کا ٹیسٹ اور ہڈیوں کا ایکسرے کرا سکتا ہے۔جن لوگوںکی ٹانگیںاندر کی طرف مڑی ہوتی ہیں ‘ان کے گھٹنے ٹانگیں جوڑنے سے آپس میں جڑ جاتے ہیں۔ اسے گھٹنوں کا ٹکرانا (knee knocking)کہتے ہیں۔ ایسے میں چلنے پھرنے میںتو مسئلہ نہیںہوتا لیکن بڑا ہونے پر آرمڈفورسزز وغیرہ میں ملازمت کے لےے اس پہلو کو مد نظررکھا جاتا ہے۔

ہموار نہیں،چپٹے پاوں
میں ایک دن اپنے شوہر کے ساتھ ان کے دوست کے ہاں گئی۔ ان کا بھی ایک بیٹا ہے جو تقریباً سوا سال کا ہے اوراب چلنا شروع ہو گیا ہے۔ وہ ماشاءاللہ کافی صحت مند بچہ ہے۔ وہ چلتاہوا اپنے بابا کے پاس گیا تو مجھے اس کے پاو¿ںچپٹے محسوس ہوئے۔میں نے فوراً اس کی ماما سے اس کا ذکر کردیا۔ ہم نے اسی وقت اٹھا کر اس کے پاو¿ں چیک کےے تو ان میں خم تھا۔ اس کاپاو¿ں صحت مند ہونے کے وجہ سے ایسا لگتا تھا کہ شاید اس کے پاو¿ں چپٹے ہیں۔
چپٹے پاو¿ں طبی لحاظ سے زیادہ بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ اس کی وجہ موروثیت بھی ہو سکتی ہے ۔ایسے میںپاو¿ ں کی ہڈی میں خم نہیں ہوتا بلکہ وہ سیدھی ہوتی ہے۔ ایسے بچوں کو چلنے میں تھوڑا بہت مسئلہ ہو سکتا ہے اور وہ چلتے ہوئے بار بار گر سکتے ہیں۔ ایسے بچوںکوکچھ سپیشل جوتے پہنانے کا کہا جاتا ہے۔ اس سے کچھ بہتری آجاتی ہے۔
ہم مائیں بعض اوقات چھوٹی چھوٹی باتوں پر بلا وجہ پریشان رہتی ہیں اور بعض اوقات بڑی بڑی باتوں کو چھوٹا سمجھ کر نظرانداز کر جاتی ہیں۔اس کا حل علم اور معلومات ہی ہیں۔ ہمیں اس طرف بھرپور توجہ دینی چاہئے۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x