ہائپرتھائی رائیڈ ازم

ہائپرتھائی رائیڈ ازم

تھائی رائیڈ ایک تتلی نما غدہ ہے جو گلے میں حلق کے نیچے عین درمیان میں ہوتا ہے۔ یہ بنیادی طورپردو طرح کے ہارمون خارج کرتا ہے جن میں ٹی 4 اورٹی 3  شامل ہیں۔ یہ ہارمونزدل کی دھڑکن، وزن، پٹھوں کی طاقت، سانس، جسمانی درجہ حرارت، خون میں چربی کی مقدار، ماہانہ ایام اورتوانائی استعمال ہونے جیسے مختلف عوامل کو باقاعدہ رکھتے ہیں۔ اس سے متعلق ایک اہم مسئلہ ہائپر تھائی رائیڈ ازم ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں تھائی رائیڈ گلینڈغیرمعمولی طورپرفعال ہوکرضرورت سے زیادہ مقدارمیں ہارمونزخارج کرنے لگتا ہے۔ اس سے جسمانی افعال میں تیزی پیدا ہوتی ہے۔

حاملہ خواتین، 60 سال سے زائد عمر کے افراد، وہ عورتیں جن کے ہاں گزشتہ چھ ماہ میں بچے کی پیدائش ہوئی ہو، خوراک یا ادویات کے ذریعے غیرمعمولی مقدارمیں آئیوڈین استعمال کرنے والے، ٹائپ ون ذیابیطس کے مریض یا خون کی ایک کم پائی جانے والی بیماری  کے شکار افراد میں اس کے امکانات نسبتاً زیادہ ہوتے ہیں۔ خاندان میں اس مرض کی موجودگی بھی اس کے امکانات کو بڑھاتی ہے۔

وجوہات کیا ہیں

٭ ایک آٹوامیون بیماری (Grave’s disease) اس کا بڑا سبب ہے۔ ایسے میں متاثرہ فرد کا مدافعتی نظام تھائی رائیڈ غدود پرحملہ آورہو کر اسے زیادہ متحرک کر دیتا ہے۔

٭بعض اوقات تھائی رائیڈ پرگلٹیاں بن جاتی ہیں۔ عموماً یہ کینسرزدہ نہیں ہوتیں مگرغیر معمولی طورپرفعال ہو کر تھائی رائیڈ ہارمونزکی پیداوار کو بڑھا تی ہیں۔

٭تھائی رائیڈ کی سوزش کے باعث ہارمونزغدود سے رِس جاتے ہیں۔

٭تھائی رائیڈکی کارکردگی کوبہتر بنانے کے لئے ضرورت سے زیادہ ادویات کا استعمال کیا جائے تو بھی اس یہ مسئلہ پیش آسکتا ہے۔

علامات کیا ہیں

 متاثرہ فرد میں پریشانی، بے چینی، تھکاوٹ، نیند میں دشواری، پٹھوں کی کمزوری، وزن میں کمی، کپکپاہٹ، ڈائریا، مزاج میں اچانک تبدیلی اورتھائی رائیڈ میں سوجن(یہ بعض اوقات سانس لینے یا چبانے میں دشواری کا باعث بن سکتی ہے) جیسی علامات ظاہرہوتی ہیں۔ گرمی برداشت نہ کرپانا، دھڑکن کا بے قاعدہ اورتیز ہونا یا باربارپیشاب آنا بھی اس کی مثالیں ہیں۔

تشخیص اورعلاج

میڈیکل ہسٹری، جسمانی معائنے یا تھائی رائیڈ کے مختلف ٹیسٹوں سے اس کے مسائل کی تشخیص ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد ہارمونزکی مقدار کم کرنے کے لئے اینٹی تھائی رائیڈ ادویات جبکہ تھرتھراہٹ، تیز دھڑکن اورگھبراہٹ جیسی علامات کو کم کرنے کے لئے بھی دوائیں دی جاتی ہیں۔ دوسرا طریقہ علاج ریڈیوآئیوڈین تھیراپی ہے جس کا مقصد زیادہ ہارمون بنانے والے خلیوں کو تباہ کرنا ہے۔ مزیدبرآں کوئی فرد کسی وجہ سے دوا نہ لے سکتا ہو یا تھائی رائیڈ میں سوجن زیادہ ہوتو سرجری کا آپشن استعمال کیا جاسکتا ہے۔

پیچیدگیاں

علاج میں تاخیرکے باعث دل کی دھڑکن بے قاعدہ ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً خون کے لوتھڑے بن سکتے ہیں، سٹروک، ہارٹ فیلوراوردل کے دیگر مسائل بھی پید اہوسکتے ہیں۔اس کے علاوہ ہڈیوں کا بھربھرا پن، حمل ٹھہرنے میں دشواری یا ٹھہر جائے تو اس میں پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں۔

thyroid hormones, hyperthyroidism, thyroiditis, lumps, Grave’s disease, radio iodine therapy, complications

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

LEAVE YOUR COMMENTS