آگ سی لگ رہی ہے سینے میں

444

آگ سی لگ رہی ہے سینے میں

شاعری اور محاورے کی زبان میں ”سینے میں آگ“ سے مراد رنج و غم، جوش و جذبہ یا انتقام لیا جاتا ہے۔ لیکن بعض لوگوں کو مخصوص کھانے یا پیٹ بھر کر کھانے کے بعد یاکبھی کبھار اس کے بغیر ہی سینے میں جلن محسوس ہوتی ہے۔ بعض اوقات اسے دل کا درد سمجھ لیا جاتا ہے ‘ حالانکہ اس کا تعلق خوراک کی نالی میں تیزابیت  سے ہے جو اگر بڑھ جائے تو ایک بیماری کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اسے گرڈ (GERD) یعنی ”Gastroesophageal Reflux Disease“ کہتے ہیں۔

دنیا بھر میں اوسطاً 60 فی صد لوگوں کو سال میں ایک بار جبکہ10سے  20 فی صد لوگوں کو ہفتے میں ایک بار تیزابیت کی علامات کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ امریکہ میں 44 فی صد لوگوں کو مہینے میں ایک بار‘ 14 فی صدکو ہفتے میں ایک بار اور سات فی صد کو روزانہ سینے میں جلن کی کیفیت سے گزرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں اس سے متعلق مصدقہ اعدادوشمار دستیاب نہیں‘ تاہم شفا انٹرنیشنل ہسپتال فیصل آباد کے ماہرِامراض معدہ و جگر ڈاکٹر شاہد رسول کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں معدے کی سب سے عام بیماریاں السر اور تیزابیت ہیں۔

معدے میں تیزاب

تیزاب کو ہم ایک خطرناک چیز کے طور پر جانتے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال قدرتی طور پر ذہن میں آتا ہے کہ انسانی جسم اور خصوصاً معدے میں اس کا کیا کام ہے اور وہاں یہ کیونکر پیدا ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر شاہد رسول کا کہنا ہے کہ ان کے پاس بعض لوگ پریشانی  کے عالم میں آکر بتاتے ہیں کہ ’میرے معدے میں تیزاب ہے۔‘ حقیقت یہ ہے کہ معدے میں اس کا پیدا ہونا فائدہ مندہے۔

”منہ میں خوراک کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر کے خوراک کی نالی کے ذریعے معدے میں پہنچایا جاتا ہے تاکہ اسے ہضم   کیا جا سکے لیکن اب بھی ٹھوس چیزوں خصوصاً گوشت ‘سبزیوں اور پھلوں وغیرہ کو مزید نرم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ معدہ یہ کام اپنے عضلات کی حرکت اور”ہائیڈروکلورک ایسڈ“ نامی تیزاب کی مدد سے کرتا ہے۔“

میو ہسپتال لاہورمیں شعبہ امراضِ معدہ و جگر کے ساتھ وابستہ ڈاکٹر عدیل قمرکا کہنا ہے کہ ہمارے معدے میں روزانہ اوسطاًدو سے چار لیٹررطوبتیں خارج ہوتی ہیں جن کی تقریباً نصف مقدار تیزاب پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان کے مطابق معدے میں تیزاب کی موجودگی صرف اسی صورت میں فائدہ مند ہے جب وہ ایک خاص حد میں رہے: ” اگر ا س کی مقدار بڑھ جائے تومریض کو سینے میں جلن ہوتی ہے جیسے اندر کوئی آگ سی لگی ہو۔ اگر یہ تیزاب کم پیدا ہو تو کھانا ٹھیک طرح سے جذب نہیں ہو پاتا جس کی وجہ سے ایکلورو ہائیڈ ر یا (achlorhydria) ہو جاتا ہے۔ایسے میں فرد کو ڈائیریابھی ہوسکتا ہے ۔“

جلن‘ سینے میں کیوں

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معدے میں کسی وجہ سے کوئی مسئلہ پیدا ہو تو جلن سینے میں کیوں محسوس ہوتی ہے۔ ڈاکٹر عدیل قمراس کے جواب میں کہتے ہیں کہ خوراک کو معدے تک ایک خاص نالی کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے جو سینے کے درمیان سے گزرتی ہے۔ جس جگہ خوراک کی نالی اور معدہ آپس میں ملتے ہیں‘ وہاں ایل ای ایس (lower esophageal sphincter) کی صورت میں ایک والوہوتاہے جو اس میں سے کھاناگزرجانے کے بعد بند ہوجاتا ہے:

” جن لوگوں میں یہ والو ڈھیلا ہوجائے ‘ ان میں تیزابی مادے اوپر کی طرف یعنی خوراک کی نالی میں آنے لگتے ہیں۔ معدہ اپنی مخصوص ساخت کی وجہ سے اس تیزاب کو برداشت کرلیتا ہے لیکن خوراک کی نالی ایسا نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے میں ہمیں سینے میں جلن اور درد محسوس ہوتا ہے۔ اگر یہ مادے منہ میں آجائیں تو منہ کا ذائقہ خراب ہو جاتا ہے اوراس میں چھالے بھی بن جاتے ہیں۔

تیزابیت کی وجوہات

ڈاکٹرشاہد رسول کے مطابق اس مسئلے کی بڑی وجوہات کھانے پینے کی غیرصحت مندانہ عادات اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی ہے:
”معدے میں تیزابیت کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ لوگ رات کو دیر سے کھانا کھاتے اور اس کے فوراً بعد سونے کے لئے لیٹ جاتے ہیں۔ اس کی ایک اور وجہ پین کلرز اور دیگر دواﺅں کا زیادہ استعمال ہے لہٰذا ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اور غیرضروری طور پر دوائیں نہیں لینی چاہئیں“۔

ڈاکٹر عدیل قمر کے مطابق معدے میں موجود کچھ بیکٹیریا بھی اس کا سبب بنتے ہیں جنیں ایچ پائیلوری (H- pylori)کہتے ہیں۔ مزید برآں کچھ لوگوں کا ”ایل ای ایس“ پیدائشی طور پر بھی ڈھیلا ہوتا ہے اورتمباکو نوشی سے بھی اس کا تعلق ہے ۔

علامات اور پیچیدگیاں

تیزابیت کی سب سے بڑی علامت سینے میں جلن ہے تاہم ڈاکٹر ضیاءالدین ہسپتال کراچی کی ماہرغذائیات ڈاکٹرشازیہ ارم کے مطابق اس کی دیگر علامات میں خشک کھانسی، گلاخراب، پھولا ہوا پیٹ، ہچکیاں یا کھٹی ڈکاریں آنا اورگلے میں گلٹی وغیرہ شامل ہیں۔

ڈاکٹرعدیل قمر کے مطابق نیند نہ آنا‘ آنکھوں، سر، چھاتی یا کمر میں درد ہونا بھوک پیاس نہ لگنا اور وزن نہ بڑھنا بھی اس کی علامات ہیں۔

ان کے بقول اگر تیزابیت کا مسئلہ زیادہ عرصے تک برقرار رہے تو خوراک کی نالی اور معدے میں السر بننے لگتے ہیں۔ ان سے خون بہنے کی شکایت پیدا ہو سکتی ہے جس سے خون کی الٹی بھی آ سکتی ہے۔ اگرخوراک کی نالی میں السر زیادہ دیر رہیں تو وہ تنگ ہونے لگتی ہے جس سے کھا نا نگلنے میں رکاوٹ پیش آتی ہے۔

مرض کی تشخیص

ڈاکٹر عدیل قمر کے مطابق علامات سے اس کی تشخیص ہو جاتی ہے‘ تاہم بعض اوقات کچھ ٹیسٹ بھی کئے جاتے ہیں:
"ان میں سب سے عام ٹیسٹ  "اینڈوسکوپی”  ہے جس میں ایک کیمرا منہ کے راستے معدے میں ڈالا جاتا ہے۔  اس سے معدے اور خوراک کی نالی کا جائزہ  لیا سکتا ہے۔ اس دوران کسی حصے میں سوجن محسوس ہو تو اس کا چھوٹا ساٹکڑا لے لیا جاتا ہے جسے ’ بائیوپسی‘ کہتے ہیں۔  "ایچ پائیلوری”  کا اندازہ خون کے ایک ٹیسٹ سے ہوجاتا ہے ۔  ایک اور ٹیسٹ  "بیریم سٹڈی” کہلاتا ہے جس میں مریض کو ایک خاص محلول پلا کر اس کا ایکسرے لے لیا جاتا ہے۔ ایک اور ٹیسٹ  "پی ایچ مانیڑنگ ”  ہے جس میں معدے اورخوراک کی نالی میں تیزابیت کی شدت دیکھی جاتی ہے۔  اس کے علاوہ ایک اور ٹیسٹ  "مینومیٹری” کہلاتا ہے جس میں "ایل ای ایس”  کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

تیزابیت کا علاج

ڈاکٹر عدیل قمر کا کہنا ہے کہ جو چیزیں پر ہیز میں شامل ہیں‘ وہی علاج کے لئے بھی استعمال ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ کچھ دوائیں دی جاتی ہیں جن سے تیزاب کی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ انہیں پی پی آئی (proton-pump inhibitors) کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ سیرپ بھی دئیے جاتے ہیں جومعدے کی دیواروں پر لیپ کر دیتے ہیں جس سے آرام آجاتاہے۔ چھ سے آٹھ ہفتوں پر مشتمل علاج ہے اور مریض کو ابتدائی ایک ہفتے یا 10 دن میں ہی آرام آجاتا ہے۔ یہ ادویات ڈاکٹر کے مشورے سے ہی لینی چاہئیں۔ تیزابیت کے نتیجے میں اگر خوراک کی نالی تنگ ہوجائے تو سرجری کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔

چیدہ چیدہ

٭ معدے میں تیزابیت کی بڑی وجوہات مرغن غذائیں‘ بسیارخوری اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی ہیں۔ اس لئے متوازن مقدار میں سادہ اور متوازن غذاﺅں کے ساتھ ساتھ ورزش کوبھی اپنا معمول بنایا جائے ۔
٭ رات کا کھانا سونے سے دو یا تین گھنٹے پہلے کھایا جائے اور کھانا کھانے کے فوراًبعد لیٹنے سے پرہیز کیا جائے۔یہ بھی ضروری ہے کہ الکوحل اور سگریٹ نوشی سے پرہیز اور سافٹ ڈرنکس کا استعمال محدود کیا جائے ۔
٭ لوگوں میں یہ تاثر عام ہے کہ ٹھنڈا دودھ پینے سے تیزابیت کم ہوتی ہے ۔ماہرین امراض معدہ کے مطابق ایسا کرنے سے تیزابیت بڑھتی ہے‘ لہٰذا وہ مریضوں کو یہ تجویز نہیں کرتے۔
٭ سونے کے دوران اپنا سر چار سے چھ انچ اونچا رکھنے سے بھی تیزابیت میں کمی آتی ہے ۔
٭ ذہنی دباﺅ کے نتیجے میں ایسے ہارمون پید اہوتے ہیں جو تیزابیت بڑھاتے ہیں‘ لہٰذا اس سے بچنے کی کوشش کی جائے۔


تیزابیت میں کمی لانے والی غذائیں

اگرآپ اس مسئلے کا شکار ہیں تو درج ذیل غذاﺅں کو اپنی خوراک میں مستقلاً شامل رکھئے:

سبزیاں: سبزیوں میں چونکہ چکنائی اور چینی کی مقدار کم ہوتی ہے لہٰذا وہ معدے میں تیزابیت کم کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ ان میں سے پھلیاں، بروکلی، ایسپریگس ، پھول گوبھی ، سبز پتوں والی سبزیاں، آلو اور کھیرے زیادہ مفید ہیں۔ ادرک میں قدرتی طور پر دافع سوزش خصوصیات پائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے یہ تیزابیت سمیت معدے کے کئی مسائل کا قدرتی علاج ہے۔آپ اسے کدوکش کر کے یا سلائس کی شکل میں کھانوں کی تراکیب اور سمودی میں شامل کر سکتے ہیں اور اس کی چائے بھی پی سکتے ہیں۔

جئی کا دلیہ: جئی کا دلیہ فائبر کا بہترین ذریعہ ہے جو معدے میں موجود اضافی تیزاب کو جذب کر لیتاہے۔ اس سے تیزابیت کی علامات میں نمایاں کمی آتی ہے ۔ فائبر کے دیگر ذرائع میں بران بریڈ اورچھلکے سمیت چاول شامل ہیں۔

غیر ترش پھل: غیر ترش پھلوں بشمول خربوزہ، کیلا، سیب اور ناشپاتی ‘ترش پھلوں کے مقابلے میں کم تیزابیت کا باعث بنتے ہیں۔

گوشت اور طریقہ استعمال: چربی کے بغیر گوشت مثلاً چکن، ٹرکی، مچھلی اور دیگر سمندری غذاﺅں میں چکنائی کم ہوتی ہے لہٰذا وہ تیزابیت کا کم باعث بنتی ہیں۔ انہیں ابال کر، گرل کر کے اور کم آئل میں بھون کر یا پانی میں تل کر (poached) کھایا جا ئے تو زیادہ بہتر ہے ۔

انڈے کی سفیدی: یہ بہتر انتخاب ہے۔ اس کی زردی سے دور رہیں، اس لئے کہ اس میں چکنائی زیادہ ہوتی ہے جو تیزابیت کا باعث بن سکتی ہے۔

دیگرغذائیں: ایوکیڈو یعنی مگرناشپاتی (ناشپاتی کی شکل کا شیرہ دار پھل)، اخروٹ، السی کے بیج ، زیتون کا تیل ، سورج مکھی کا تیل اور تِل صحت بخش چکنائیوں کے اچھے ذرائع ہیں جو تیزابیت کا کم باعث بنتے ہیں۔ سیرشدہ چکنائیوں اور ٹرانس فیٹس کو صحت بخش چکنائیوں سے تبدیل کر لیں۔

(ڈاکٹر شازیہ ارم‘ ماہر غذائیات‘ ڈاکٹر ضیاءالدین ہسپتال کراچی)


تیزابیت بڑھانے والی غذائیں

ڈاکٹر ضیاءالدین ہسپتال کراچی کی ماہر امراضِ غذائیات ڈاکٹر شازیہ ارم کے مطابق درج ذیل غذائیں تیزابیت کا باعث بن سکتی ہیں:

زیادہ چکنائی والے کھانے: مرغن اور زیادہ چکنائی والے کھانوں کو ہضم کرنے کے لئے زیادہ تیزاب کی ضرورت پڑتی ہے لہٰذا ان کے استعمال سے معدے میں زیادہ تیزاب پیدا ہوتا ہے۔ یہ چیزیں چونکہ زیادہ دیر تک معدے میں پڑی رہتی ہیں لہٰذا ’ایل ای ایس‘ کو ڈھیلا کر دیتی ہیں جس سے تیزاب خوراک کی نالی میں آنے لگتا ہے۔ فرنچ فرائز ، اونین رِنگز ، ڈیری مصنوعات مثلاً مکھن، بالائی والا دودھ، عام پنیر اور خمیر اٹھائی ہوئی کریم میں چکنائی کی زیادہ مقدار پائی جاتی ہے لہٰذا ان کا استعمال ختم یا ہر ممکن حد تک کم کریں۔ بڑے گوشت یا بھیڑ کے گوشت کا چربی والا یا تلا ہوا حصہ، دیسی اور بناسپتی گھی ‘ آلو کے چپس، آئس کریم ‘سنیکس اور کریم ساس بھی اس فہرست میں شامل ہیں، سلاد پر کریم کی ڈریسنگ سے بھی پرہیز کریں۔

ٹماٹر اور ترش پھل: پھل اور سبزیاں صحت بخش غذا کا اہم جزو ہیں تاہم ان میں سے کچھ تیزابیت کا باعث بن سکتے ہیں۔ اگر آپ کو اکثر اس مسئلے کا سامنا رہتا ہے تو آپ کو چاہئے کہ ان اشیاءکا استعمال ختم یا بہت ہی کم کر دیں۔ ان میں مالٹے، چکوترے، لیموں، لائم (ایک قسم کا لیموں)، انناس، ٹماٹر( ٹماٹو ساس، یا وہ غذائیں جن میں یہ شامل ہو مثلاً پیزا وغیرہ) شامل ہیں۔

چاکلیٹ: اس میں میتھائلیکسن تھائن (methylxanthine) نامی ایک مادہ پایاجاتا ہے جو’ ایل ای ایس ‘کو ڈھیلا کرتا اور تیزابیت بڑھاتا ہے۔ اس لئے اس کا استعمال بھی کم سے کم کریں۔

تیزخوشبو والی غذائیں: لہسن، پیاز اور اس طرح کی تیزخوشبو والی دیگر غذائیں تیزابیت کو بڑھا دیتی ہیں۔ یہ ہرشخص کے لئے مسائل پیدا نہیں کرتیں‘ تاہم جن لوگوں کو اس کا مسئلہ ہو‘ وہ ان سے پرہیز کریں۔

کیفین: تیزابیت کے شکار لوگوں کو صبح کافی پینے کے بعدیہ زیادہ محسوس ہوتی ہوگی، اس لئے کہ اس میں موجود کیفین اس کا سبب بنتی ہے۔ پیپرمنٹ اور سپئےرمنٹ (جنگلی اور عام پودینہ ) کی حامل چیزیں مثلاً چیوگم بھی اسے بڑھا سکتی ہے۔

تیزابیت کے شکارلوگ اگرجاننا چاہتے ہیں کہ انہیں تیزابیت کس وجہ سے ہوتی ہے تو وہ ایک ڈائری بنائیں اور اس میں نوٹ کرتے جائیں کہ وہ کون سی غذائیں کھاتے ہیں، دن کے کس حصے میں کھاتے ہیں اور اس کے بعدان میں کون سی علامات نمودار ہوتی ہیں۔ کم از کم ایک ہفتے تک اس کا ریکارڈ ضرور رکھیں اور اگران کی خوراک میں ورائٹی زیادہ ہے تو پھرانہیں ذرا زیادہ عرصے کے لئے ڈائری لکھنا ہو گی۔ اس سے انہیں کھانے پینے کی ان چیزوں کا علم ہو سکے گا جو ان کے لئے تیزابیت کا باعث بنتے ہیں۔غذا میں کیا شامل کیا جائے اور کیا نہ کیا جائے؟ یہ سوال اپنے معالج سے ضرورپوچھیں ، اس لئے کہ ایک غذا ایک فرد کے لئے فائدہ مند تو دوسرے لئے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

Gastroesophageal Reflux Disease, GERD, Acid reflux disease, Heartburn, Acidity, Reasons for acidity, symptoms of acidity, diagnosis of acidity, treatment of heartburn, diet to reduce heartburn, diet that increases heartburn