متوازن غذا, باقاعدہ ورزش بنائے مضبوط بون بینک

277

ہڈیاں کس چیز سے بنتی ہیں اور جسم میں ان کا کردار کیا ہے

ہڈیاں جسم میں دو طرح کے اجزاءسے تشکیل پاتی ہیں۔اس کا ڈھانچا خاص قسم کی پروٹین سے بنتا ہے جسے مضبوط رکھنے کے لئے قدرت نے ہڈیوں میں کیلشیم اور فاسفیٹ کا ذخیرہ رکھا ہے ۔ہڈیاں ہمارے جسم کو مخصوص شکل دینے‘ مختلف اعضاءکو حرکت دینے اورہمارے چلنے پھرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اسی طرح یہ ہمارے پٹھوں کو سہارا دیتی ہیں جس کے باعث وہ اپنا کام بخوبی سر انجام دے سکتے ہیں۔

٭ہڈی اور جوڑ کی ساخت میں کیا فرق ہے؟
٭٭قدرت نے انسانی جسم میں تقریباً ہر ہڈی کے اختتام پرایک جوڑ رکھا ہے۔جوڑ کی ترتیب ایسی ہوتی ہے کہ ایک ہڈی، پھر ایک کرکری ہڈی اور پھر اس کے ساتھ ایک ہڈی کا سرا ہوتا ہے۔یہ تینوں مل کر ایک جوڑ بناتے ہیں۔ کرکری ہڈی میں لچک کی بنا پر جوڑ حرکت کرتا ہے۔ اس کے برعکس ہڈی سخت اور سیدھی ہوتی ہے۔

٭ماہرینِ امراض ہڈی وجوڑ کن بیماریوں کا علاج کرتے ہیں؟
٭٭وہ ہڈیوں،جوڑوں ،پٹھوں اور کمر کے تمام مسائل کا علاج کرتے ہیں۔

٭ہڈی‘ جوڑ اور پٹھوں کی عام بیماریاں کون سی ہیں؟
٭٭ ہڈیوں سے متعلق طبی مسائل کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتاہے۔پہلے حصہ چوٹ یا زخم  ہے جس میں ان کمزوریوں یا خرابیوں کو ٹھیک کیا جاتا ہے جو کسی حادثے یا گرنے کی وجہ سے ہڈی ،جوڑ یا پٹھوں میں نمودار ہوجاتی ہیں۔دوسرا حصہ آرتھوپیڈکس

ہے جس میں آرتھرائٹس،ہڈیوں کا کینسراورپٹھوں کے مسائل وغیرہ شامل ہیں۔

٭ماہر امراض مفاصل اور ماہر امراض ہڈی و جوڑ اپنے دائرہ کار کے حوالے سے ایک دوسرے سے کیسے مختلف ہیں؟
٭٭ماہر امراض مفاصل جوڑوں میں مسائل کا علاج صرف ادویات سے کرتا ہے جبکہ ماہر امراض ہڈی و جوڑ ضرورت پڑے توآپریشن بھی کرتاہے۔اس کی مثال جوڑوں کی ایک بیماری گنٹھیاہے جس میں بیماری کے اثرات اور مستقبل میںہونے والے نقصان کو روکنے کے لئے ادویات دی جاتی ہیں۔ اس بیماری کی وجہ سے اگر جوڑوں کی ساخت میںکوئی خرابی آجائے تو اسے آپریشن کی مدد سے ٹھیک کرنا یا مصنوعی جوڑ لگاناہو تو یہ کام آرتھوپیڈک سرجن کرتے ہیں۔

٭فریکچر اور موچ میں کیا فرق ہے؟
٭٭فریکچر میں ہڈی ٹوٹ جاتی ہے۔ اس کے برعکس موچ میں ہڈی نہیں ٹوٹتی بلکہ اس کے گرد موجودرباط یا پٹھے زخمی ہوجاتے ہیں۔

٭ اگر ہڈی ٹوٹ جائے توکیا ابتدائی طبی امداد دی جاسکتی ہے؟
٭٭اگر ہڈی ٹوٹ جائے تو ابتدائی طبی امداد میں سب سے پہلے متاثرہ حصے کو ساکن کریں۔فریکچر سادہ ہو یا پیچیدہ ‘ دونوں صورتوں میں ٹوٹی ہوئی ہڈی کو کھپاچ (بانس کا ٹکڑا) یا گتے وغیرہ سے باندھ کر سہارا دیں۔اگر فریکچر بازو میں ہو تو اسے ایسے باندھیں کہ اسے سہارا مل سکے یعنی وہ ساکن رہے۔اگر وہ پیچیدہ فریکچر ہو تو مریض کے زخم کو ہر گز کھلا نہ چھوڑیں بلکہ ڈریسنگ کر کے اس پر صاف کپڑے کی گدی باندھ کر رکھیں اور اس پر پٹی باندھ دیں۔ مزیدبرآں مریض کو فوراً ہسپتال لے جائیں جہاں فریکچر کا مکمل علاج کیا جائے گا۔

٭ہڈیوں کی بیماریاں کن افراد میں زیادہ پائی جاتی ہیں۔ ان تکالیف کی شرح خواتین میں زیادہ کیوں ہے ؟
٭٭قدرت نے مرد اور عورت کو مختلف بنایا ہے۔سن یاس کے بعد خواتین اور بڑی عمر کے مرد حضرات میں ہڈیوں کے مسائل زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں۔ خواتین میں ان بیماریوں کی وجہ ان کے ہارمونز میں وقت کے ساتھ کمی بیشی ہے۔ سن یاس کے بعدعموماً خواتین میں وہ ہارمونز ختم یا بہت کم ہوجاتے ہیں جو ہڈیوں کی مضبوطی کے لئے اہم ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس مرد حضرات میں ہارمونز کی سطح تاحیات یکساں رہتی ہے۔ مزیدبرآں مردوں کی نسبت خواتین کی جسمانی سرگرمیاں بھی محدود ہوتی ہیں۔ان کی جسمانی سرگرمیوں کا نسبتاً کم ہونا اور متوازن غذا نہ لینا بھی اس کی وجوہات میں شامل ہیں ۔

٭نشوونما پاتے بچے بھی ہڈیوں ،جوڑوں اور پٹھوں کے درد کی شکایت کرتے ہیں۔اس کی وجہ بالعموم کیا ہوتی ہے؟
٭٭مختلف سٹڈیز میں یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ پوری دنیامیں ہر عمرکے افراد وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر بچے کمروں، کمپیوٹر یا ٹی وی تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ہروقت اندر بیٹھے رہنے کی وجہ سے وہ سورج کی روشنی سے محروم رہتے ہیں جس کے باعث ان میں وٹامن ڈی کی کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔قدرتی اور متوازن غذا کی جگہ جنک فوڈ اور بازار کی ناقص اشیاءنے لے لی ہے۔اس لئے بچوں میں بھی یہ شکایات دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ اگران کی ہڈیوں میں درد کی شکایت برقرار رہے تو معالج سے ضرور رجوع کریں تاکہ بروقت تشخیص اور علاج کو یقینی بنایا جاسکے۔

٭بچوں کو وٹامن ڈی کی کمی سے کیسے محفوظ رکھا جائے؟
٭٭بچوں کے لئے سورج کی روشنی بہت ضروری ہے لہٰذا اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ کچھ وقت اس میں گزاریں۔دوسری بات یہ ہے کہ وٹامن ڈی ایک ایسا وٹامن ہے جو مختلف غذاو¿ں مثلاً گوشت،مچھلی اورانڈے میںوافر مقدار میں پایا جاتاہے۔تاہم ان اشیاءکو اگر تیل میں پکایا جائے تو یہ وٹامن باقی نہیں رہتا لہٰذا کوشش کرنی چاہئے اس سے بھرپور غذاو¿ں کو ابال کر ، کوئلوں پر پکا کر یا کچا استعمال کیا جائے تاکہ ان میں اس کی مناسب مقدار باقی رہے اور کھانے والے کے جسم کی ضرورت پوری کرے۔

٭”بون بینک“ سے کیا مراد ہے؟
٭٭ہڈیوں کے آپریشن کے دوران بعض اوقات مریض کی ہڈی چھوٹی ہوجاتی ہے۔ کسی حادثے ‘چوٹ یا آرتھرائٹس کی وجہ سے بھی ایسا ہو جاتا ہے۔ ایسے میں کوئی بھی انسانی ہڈی استعمال کرکے اس ضرورت کو پورا کر لیا جاتا ہے۔ بون بینک میں خاص درجہ حرارت اور ماحول میںمحفوظ کردہ وہ ہڈیاں ہوتی ہیں جویاتو دوران علاج کسی مریض سے نکالی گئی ہوتی ہیںیا بعد ازمرگ کسی انسان کی طرف سے عطیہ کی گئی ہوتی ہیں اور بوقت ضرورت کسی دوسرے انسان کو لگا دی جاتی ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں لوگ زندگی میں مرنے کے بعداپنی ہڈیاں عطیہ کرنے کی وصیت کرجاتے ہیں جو کسی ضرورت مند انسان کو نئی زندگی دینے کے مترادف ہے۔ پاکستان میں کوئی ایسا نظام نہیں‘ تاہم اسے متعارف کرانے اور پروان چڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔

٭ڈیکسا سکین کیا ہے اور یہ کیوں کرایا جاتا ہے؟
٭٭” بون ڈینسٹی ٹیسٹ “ایکسرے کی طرح کا ایک ٹیسٹ ہے جو یہ بتاتا ہے کہ زیر معائنہ ہڈی میںکیلشیم اور فاسفیٹ کا کتنا ذخیرہ موجود ہے۔اسی ٹیسٹ سے ڈاکٹر کو پتا چلتا ہے کہ مریض ہڈیوں کی کون سی بیماری مثلا ہڈیوں کا بھر بھرا ہونا یا گنٹھیا وغیرہ کا شکار ہے۔اس ٹیسٹ کی روشنی میں مریض کو ایسی ادویات دی جاتی ہیں جو ہڈیوں میں موجود ذخیروں کو بہتر بنا کر انہیں مضبوط بناتی ہیں۔ اس طرح مریض ہڈیوں کی کمزوری سے ہونے والے فریکچرز سے بڑی حد تک بچ جاتا ہے ۔اگر ڈاکٹر تجویز نہ کرے تو یہ ٹیسٹ کروانے کی بالعموم ضرورت نہیں ہوتی۔

٭ہڈیوں کو صحت مند،مضبوط اور بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
٭٭ ہڈیوں کو صحت مند،مضبوط اور بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے باقاعدہ ورزش نہایت ضروری ہے۔ ورزش سے مراد روزمرہ کے کام کاج نہیں بلکہ اپنے لئے کم از کم 30منٹ کی چہل قدمی یا ہلکی پھلکی جسمانی ورزش ہے۔اس کے علاوہ متوازن غذا خاص طورپر دودھ کی بنی اشیاءاپنی روزمرہ کی خوراک میں لازماً شامل کرنی چاہئےں۔

٭بچے عموماً دودھ پسند نہیں کرتے۔ ایسے میں ان کی ہڈیوں کی مضبوطی کے لئے کیا کرنا چاہئے؟
٭٭ آج کل کے بچے اپنی پسند کی چیز کے علاوہ کچھ بھی کھانے پرکم ہی راضی ہوتے ہیں۔ ایسے میںآپ انہیں سادہ دودھ کی بجائے دودھ سے بنی اشیاءمثلاً ملک شیک،پنیر اوردہی وغیرہ کھانے کا عادی بنائیں۔ اس کے علاوہ انہیں روزانہ ایک ابلاہوا انڈا کھلانے سے ان کی جسمانی ضرورتیں پوری ہوتی رہیں گی۔

٭کس عمر میں ہڈیوں کی صحت اور مضبوطی کے حوالے سے زیادہ محتاط ہوجانا چاہئے اور پھر اس مقصد کے حصول کے لئے کیا اقدامات اٹھانے چاہئں؟
٭٭ہڈیوں کی مضبوطی کے تناظر میں چند امور قابل توجہ ہیں۔اس میں پہلا عامل تو جینز(genes) ہیں جو کچھ لوگوں کی ہڈیوں کو تاحیات مضبوط رکھتی ہیں۔ دوسری چیز ہمارے جسم میں موجود ایک ’ بون بینک ‘ہے جسے ہم 30سال کی عمر تک مضبوط کر سکتے ہیں۔ آپ کو چاہئے کہ باقاعدہ ورزش کریں اور ایسی غذا کھائیں جو ہڈیوں کی مضبوطی بڑھانے میں مددگار ثابت ہو۔ 30سال کی عمر کے بعدجب ہڈیاں کمزور ہونا شروع ہوں گی تو یہ بون بینک انہیں مضبوط رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

٭انسانی جسم میں ایسے کون سے جوڑ اور ہڈیاں ہیں جو مصنوعی بھی لگائی جاسکتی ہیں؟
٭٭ انسانی جسم میں ویسے تو تمام جوڑ ہی تبدیل ہوسکتے ہیں اور کئے بھی جارہے ہیں لیکن اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے کہ تبدیلی کے بعد اس جوڑ یا ہڈی کی کارکردگی کا معیار کیا ہوگا۔ پوری دنیا میں سب سے اچھے نتائج کولہے،گھٹنوں،ٹخنے اورکہنیوں کی ہڈیوںکی تبدیلی کے ہیں۔اس کے علاوہ باقی جوڑ مثلاً جسم کے چھوٹے جوڑیاکندھے کے جوڑ وغیرہ کی تبدیلی کے لئے مریض کی تمام بیماریوں کے تفصیلی جائزے کے بعدہی کوئی قدم اٹھایاجاتا ہے۔

٭گھٹنے کی تبدیلی کی ضرورت کب پڑتی ہے؟
٭٭اس معاملے میں دو چیزیں بہت اہم ہوتی ہیں۔پہلی درد کا اتنا شدید ہوناکہ اسے برداشت کرنا ناممکن ہوجائے اور دوسری یہ کہ مریض چلنے پھرنے سے بالکل ہی معذور ہو جائے۔ایسے حالات میں گھٹنوں کو تبدیل کر دیا جاتا ہے تاکہ مریض کو درد سے نجات حاصل ہو اور اس کے معمولات زندگی بہتر ہو جائےں۔

٭اس آپریشن کے بعد زخم کی بھرائی میں کتنا عرصہ لگتا ہے؟
٭٭عموماً دو ہفتے بعدزخم کے ٹانکے کھول دیئے جاتے ہیں اور زیادہ تر مریض دو ماہ کے اندر چلنا شروع ہوجاتے ہیںاور اپنے کام خود کرنے لگتے ہیں۔اس عرصے کے دوران اگر مریض معالج کی بتائی گئی ورزشیں باقاعدگی سے کرے تو جلد ہی سہارے اور دردکش دواو¿ں سے بھی نجات پالیتے ہیں۔

٭مصنوعی ہڈیاں یا جوڑ کتنے عرصے تک ہمارا ساتھ دیتے ہیں؟
٭٭ان کے ساتھ دینے کا کلی طور پر انحصار احتیاط اور طرز استعمال پر ہوتاہے۔ انہیں جتنی احتیاط سے استعمال کیا جائے گا‘ وہ اتنے ہی دیرپاثابت ہوں گے‘ورنہ بہت جلد ساتھ چھوڑ جائیں گے۔

٭تیل کا مساج درد میں آرام دینے میںکتنا کارآمد ہے؟
٭٭تیل کے مساج سے مریض بہتر ی محسوس کرتاہے کیونکہ مساج سے جسم میں خون کی گردش بہتر ہوتی ہے۔ اس کے باعث درد پیدا کرنے والے کیمیکلز درد کی جگہ سے دور چلے جاتے ہیں اور زخم کو مندمل کرنے والے اجزاءوہاں آ جاتے ہیں۔اس لئے تیل کا آہستہ آہستہ مساج کرنا فائدے سے خالی نہیں۔یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ مساج کے لئے تیل سے زیادہ مساج کاطریقہ اہم ہے۔بہتر طریقہ یہ ہے کہ آہستہ آہستہ اور نرمی سے مساج کیا جائے ۔غیر ضروری سختی اور دباو¿ سے جوڑ یا ہڈی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

٭ہڈی اتر جانے کی صورت میں ہمارے ہاں بہت سے لوگ مستند معالج سے زیادہ روایتی پہلوانوں پر یقین رکھتے ہیں۔اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
٭٭لوگ سہل پسندی یا مالی تنگی کے باعث پہلوانوں کا رخ کرتے ہیںجو کسی بھی طور مناسب نہیں۔ جب کیس بگڑ جاتا ہے تو پھر یہ لوگ بالآخرڈاکٹر سے ہی رجوع کرتے ہیں۔ اس لئے میرا تو مشورہ یہی ہے کہ غیر ضروری تکلیف اور ذہنی دباو¿سے بچنے کے لئے پہلے ہی کسی مستند ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہئے تاکہ بروقت علاج ہوسکے۔

٭کیا ایسا ممکن ہے کہ ان پہلوانوںکوبنیادی تربیت دے کر ہسپتالوں میں استعمال کیا جا سکے؟
٭٭ ہسپتال کا ماحول ان کے لئے سازگار نہیں ہوگا کیونکہ پہلوانوں سے بہتر کام کرنے والے اور زیادہ تربیت یافتہ فیزیوتھیر اپسٹ پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہاں ان کی جگہ نہیں بن سکے گی ۔

٭آخر میں آپ قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
٭٭شفانیوز کے قارئین کو میرا پیغام یہ ہے کہ اپنی جسمانی سرگرمیوں میں اضافہ کریں، باقاعدہ ورزش کریں،متوازن غذا کھائیں اور زیادہ سے زیادہ متحرک زندگی گزاریں۔ یہی صحت مند اور خوشحال زندگی گزارنے کا واحد حل ہے۔ اگر ہڈی یا جوڑ میں کوئی مسئلہ ہو تو خودعلاجی یا پہلوانوں کے پاس جانے کی بجائے فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہوسکے ۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

”اوسٹیوپوروسس “یعنی ہڈیوں کی کمزوری بنیادی طور پر غدو