خوف کا حملہ

427

    زندگی میں ہر شخص کبھی نہ کبھی خوف کا شکار ہوتا ہی ہے لہٰذا یہ ایک نارمل رویہ ہے۔ تاہم طب کی اصطلاح میں خوف و ہراس کے حملے (panic attack) سے مراد شدید خوف یا بے چینی کا حملہ ہے۔ یہ اچانک ہوتا ہے اور اس کا دورانیہ بالعموم 30 سے60 منٹ تک ہوسکتا ہے۔ شروع شروع میں اس کا دورانیہ کم ہوتا ہے لیکن علاج نہ کروایا جائے یا اسے اندر ہی دبادیاجائے تو مرض بڑھ سکتا ہے۔ جن افراد میں اس کا حملہ شدید ہوتا ہو‘ انہیں اس وقت موت اپنے سامنے کھڑی نظر آتی ہے۔ یہ کیفیت یا بیماری شدیدخوف کا باعث ضرور بنتی ہے ہے مگرمریض کو سمجھنا چاہئے کہ اس سے موت واقع نہیں ہوتی۔یہ حملہ نہ صرف قابل علاج ہے بلکہ اس پر قابو بھی پایا جاسکتا ہے ۔ نیزضروری نہیں کہ”پینک اٹیک“ کی کوئی ظاہری وجہ بھی ہو‘ اس لئے کہ یہ بعض اوقات بیٹھے بٹھائے بھی ہو سکتا ہے۔

اہم علامات
شدید”پینک اٹیک“ کی شناخت کچھ جسمانی اور نفسیاتی علامات سے کی جاتی ہے۔
جسمانی علامات میںدل کا شدید تیز دھڑکنا، سانس لینے میں دشواری،کپکپی، پسینے آنا، سر چکرانا اوراس میںدرد، سینے، معدے یا کمر میں درد، متلی،کھانے پینے یا نگلنے میں دشواری، گلے میں کچھ اٹکا ہوا محسوس ہونا، شدید سردی یا گرمی کا احساس، جسم شل ہونا یا پٹھوں میں کھچاﺅ وغیرہ شامل ہےں۔اس کی علامات دل کے دورے سے مشابہت رکھتی ہیں۔
اس کی نفسیاتی علامات میں قوتِ ضبط کا ختم ہونا، پاگل پن محسوس ہونا، باہر نکلتے ہوئے شدید خوف، بدحواسی، توجہ کم یا ختم ہونے کا احساس اورنیند اڑنا وغیرہ شامل ہیں۔ مریض کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے موت اس کے سر پر منڈلانے لگی ہو۔ ایسے مریضوں کو ایگورا فوبیا (agora phobia)بھی ہوسکتا ہے۔ اس فوبیا میں مریض ہجوم والی جگہوں پرجانے سے خوفزہ ہوتا ہے۔

چونکہ پینک اٹیک میں مریض کی ذہنی حالت کافی نازک ہوتی ہے‘ اس لیے کبھی مریض کو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ اسے کچھ نہیں ہو رہا‘ اس کی بتائی ہوئی علامات درست نہیںاوریہ کہ وہ بالکل ٹھیک ہے۔ ایسا کرنے سے مریض کی حالت مزیدبگڑ سکتی ہے۔

کرنے کے کام
پینک اٹیک کی صورت میں درج ذیل امور پر توجہ دیں:
٭ سب سے پہلے مریض کی حالت کو سمجھیں۔ اس کی حالت میں بہتری لانے کے لیے اس کی تکلیف کو محسوس کرناانتہائی ضروری ہے۔ جب موت سر پرمنڈلاتی نظرآ رہی ہو تو مریض کو تسلی دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے بتانا چاہئے کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں‘ اس لئے کہ اس کی یہ حالت کسی حقیقی خطرے کی وجہ سے نہیں بلکہ جسم میں ہونے والے کیمیائی ری ایکشن کا نتیجہ ہے۔
٭ اگر وہ رونے یا چیخنے لگے تو اسے پرسکون رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس کے لئے مریض کا دھیان دوسری جانب مبذول کروانے کی کوشش کریں۔ اس کے جوتے اتروا کر اسے کسی اونچی جگہ مثلاً کرسی، صوفے یا سیڑھی وغیرہ پر کھڑے ہونے کی ہدایت کریں۔
٭ اب اسے آہستہ آہستہ گہری سانس لینے کی ہدایت کریں۔ مریض کو یہ تصور کرناچاہئے کہ اس کا پورا جسم غبارے کی مانند آکسیجن سے بھر اور پھرخالی ہو رہا ہے۔ یہ عمل کرنے سے رفتہ رفتہ مرض کی علامات میں کمی آنے لگے گی۔
٭ اٹیک کی صورت میں ابتدائی طبی امداد کے بعد مریض کو مکمل طور صحت یاب ہونے میں مدد کے لیے ماہرِنفسیات سے جلد رابطہ کریں۔ ایسے مریض کو اپنوں کی مدد کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے ایسے افراد سے دور ہونے کی بجائے ان کا بھرپور ساتھ دیجئے۔