خوشی کے اسباب

173

گود سے گور تک انسانی سعی کا حتمی مقصد خوشی کا حصول ہے۔ انسان اپنی آزاد مرضی سے جو کچھ کرتا ہے یا جو کچھ کرنے سے باز رہتا ہے، اس کے پیش نظرمقصد خوشی کا حصول ہی ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ بظاہر متضاد کاموں کا سبب بھی یہی مقصد ہے۔ ایک فرد اگر دنیاوی عیش و آرام میں اطمینان اور خوشی تلاش کرتا ہے تو ممکن ہے کہ ایک دوسرا فرد اپنے عقیدے کے مطابق اس جہاں کو فانی سمجھ کر اگلے جہان میں مستقل خوشی کے حصول کے لئے اس میں پڑنے سے اجتناب کرتا ہو۔ مقصد تاہم دونوں کا ایک ہی ہے، خوشی کا حصول۔
انفرادی سطح پر کام کرنے، کمانے، خرچ کرنے، آرام کرنے، تفریح میں وقت بتانے سے لے کر اجتماعی طور پر انسانوں کے لئے خیر کے اسباب پیدا کرنے تک انسان کی کوششیں اسی ایک منزل اور مقصد کی طرف پیش قدمی کا اشارہ کرتی نظر آتی ہیں۔ خوشی کے حتمی مقصد کے لئے انسانی کوششوں کی یہ حقیقت اتنی واضح ہے کہ بظاہر ناپسندیدہ اور خطرناک افعال کے مرتکب بھی اپنی دانست میں ان کاموں سے یا ان کے نتائج سے خوشی کشید کرنے کی توقع کر رہے ہوتے ہیں۔ ممکن ہے کہ بعض کام اکثریت کے خیال میں ضرر رساں اور ناپسندیدہ ہوں لیکن ان کو کرنے والے عمومی طور پر ان میں اپنی خوشی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ منشیات کے عادی فرد سے دریافت کریں تو وہ آپ کو بتائے گا کہ ان کے استعمال سے اسے فکروں اور پریشانیوں سے نجات مل جاتی ہے۔ جرم کا ارتکاب کر کے مجرم کوئی مالی فائدہ حاصل کر کے یا حسد اور انتقام جیسے کسی منفی جذبے کی تسکین کے ذریعے خوشی حاصل کرتے ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ یہ خوشیاں دراصل خوشیاں نہیں بلکہ مستقل دکھوں کا سبب بنتی ہیں۔
خوشی کا باعث بننے والے اسباب کا حصول انسانی جدوجہد کا ایک پہلو ہے۔ یہ اسباب مادی یعنی مال جائیداد، دولت ، اولاد بھی ہو سکتے ہیں اور غیر مادی یعنی پہچان، عزت، احترام، محبت جیسے جذبے بھی ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان اسباب سے لطف اندوز ہونا ایک بالکل مختلف امر ہے۔ خوشی کے اسباب سے لطف اندوز ہونے کے لئے درکار اشیا میں اہم ترین اچھی صحت ہے۔ یہ کوئی معمہ نہیں کہ غیر صحت مند یا بیمار فرد کے خوش رہنے کے امکانات ایک صحت مند فرد کی نسبت بہت کم ہوتے ہیں۔ آپ کے پاس دنیا جہاں کی نعمتیں ہوں لیکن آپ ان سے مستفید نہ ہو سکیں تو شاید یہ کیفیت اس فرد کی کیفیت سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہو جس کو یہ نعمتیں سرے سے میسر ہی نہ ہوں۔ خوش رہنے کے لئے جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ جذباتی اور نفسیاتی طور پر صحت مند ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ حسد، نفرت، کینے، بغض اورانتقام جیسے جذبات انسان کی خوشیوں کو بالکل اس طرح بے لطف بنا دیتے ہیں جس طرح بیماری کی کیفیت ایک فرد کو خوشیوں سے لطف اندوز ہونے سے محروم کر دیتی ہے۔
جب خوشی کا حصول ہی تمام انسانی سرگرمیوں کا مقصد ہے تو پھر ضرورت اس بات کی ہے کہ خوشی کے اسباب تلاش کرتے ہوئے ہم اپنے آپ کو ان اسباب سے لطف اندوز ہونے کے قابل بھی بنائیں۔ جہاں ہم اپنی انفرادی صحت کا خیال رکھ کے اپنے آپ کو خوشی سے لطف اٹھانے کے قابل بنائیں وہاں ہم مثبت جذبوں کی پرورش اور منفی جذبوں کی مزاحمت کے ذریعے اپنے خاندانوں، حلقہ احباب اور معاشرے میں خوشی کے اسباب پیدا کرنے اور ان سے لطف اٹھانے کا بندوبست بھی کریں۔ مثبت قدروں اور جذبات کے فروغ سے انسانی معاشروں میں یہ اہلیت بھی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ خوشی کے حصول کے لئے جائز اور ناجائز وسائل اور ذرائع میں تمیز کرنا بھی سیکھ جاتے ہیں۔ یہ کام ہم میں سے ہر ایک اپنی اپنی جگہ کر سکتا ہے، اس کے لئے ہم کسی حکومت یا ادارے کے محتاج نہیں۔
ہم خواہش کرتے ہیں کہ آپ کو خوشیوں اور کامیابیوں سے بھرپور 2018 نصیب ہو۔