بچہ کس مسئلے میں کیسے روتا ہے

چھوٹے بچوں کا معدہ جلدی بھر جاتا اور جلدی خالی ہوتا ہے۔ اس لیے انہیں بار بار بھوک لگتی ہے اور وہ روتے ہیں۔ اسی طرح بعض بچے تنگ کپڑوں یا نیپی گیلی ہونے کی وجہ سے بھی روتے ہیں۔ خواتین بالخصوص وہ جو پہلی دفعہ ماں بنی ہوں، اس بات پر پریشان ہوتی ہیں کہ دودھ پلانے یا نیپی تبدیل کرنے کے بعد بھی ان کا بچہ مسلسل کیوں رو رہا ہے۔ دراصل رونے کی اور بھی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ بچہ کس مسئلے میں کیسے روتا ہے یعنی بچے کے رونے کے انداز سے اس کی ضروریات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

بچے کے رونے کے انداز

بھوک میں رونا

بھوک لگنے پر بچہ پہلے آہستہ سے رونا شروع ہوتا ہے۔ پھر بتدریج اس کی آواز بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اگر ماں نے ابھی ابھی اپنے بچے کو دودھ پلایا ہے تو ٹھیک ورنہ اسے دوبارہ دودھ پلائیں۔

درد کی وجہ سے رونا

بچے کا درد کی وجہ سے رونا عام رونے سے مختلف ہوتا ہے۔ اگر وہ درد میں مبتلا ہو تو مسلسل روتا اور چیختا ہے۔ ایسے میں رونے کی آواز میں تیزی، سختی، غیر سریلا پن اور چھوٹا سا وقفہ ہوتا ہے۔

بے چینی

جب بچہ پریشان ہو تو وہ ہلکی آواز اور وقفوں کے ساتھ بھی روتا ہے۔ اس طرح کے رونے میں آواز آہستہ آہستہ بلند ہوتی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ بچہ چاہتا ہے کہ اسے گود میں لیا جائے۔ گیلی نیپی بھی بچے کی بے چینی میں اضافہ کرتی ہے۔

مائیں کیا کریں

بچہ کس مسئلے میں کیسے روتا ہے، یہ جاننے کے بعد اگلا مرحلہ انہیں چپ کروانے کا ہے۔ رونے کی وجہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان باتوں پر عمل کریں:

٭پیدائش سے لے کر تین ماہ تک کی عمر کے بچوں کو پیٹ میں درد ہوتا ہے۔ اسے زیادہ تر صورتوں میں قولنج سمجھ لیا جاتا ہے جو کہ درست رویہ نہیں ہے۔ اس کی عام وجہ معدے میں گیس ہو سکتی ہے۔ ایسے میں اسے کندھے سے لگا کر پیٹھ پر مساج کریں تو اسے ڈکار آتا ہے۔ یوں گیس نکل جانے سے درد ٹھیک ہو جاتا ہے۔

٭ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر چھوٹے بچوں کو دوا نہ دیں۔

٭بعض مائیں بنا سمجھے بچے کے روتے ہی اسے دودھ پلا دیتی ہیں۔ اس وجہ سے وہ بھوک کے معاملے میں غلط معمول اختیار کر لیتا ہے۔ اگر یہ عادت پختہ ہو جائے تو اسے بعد میں دور کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہر دفعہ رونے پر دودھ نہ پلائیں بلکہ رونے کی وجہ جاننے کی کوشش کریں۔

٭بچوں کے بہتر آرام کے لیے ضروری ہے کہ انہیں تنگ کپڑے پہنانے سے گریز کریں۔

٭سردیوں میں انہیں فلالین اور گرمیوں میں خالص کاٹن کے کھلے کپڑے پہنائیں۔ ریڈی میڈ کپڑوں میں بالعموم نائلون زیادہ ہوتی ہے جس سے بچے کی جلد پر ریشز پڑ سکتے ہیں۔

٭چھ ماہ کی عمر کے بعد اسے الگ بستر پر سلائیں۔ ضرورت محسوس ہو تو بھالو، گڑیا یا سرہانا وغیرہ دیں۔

٭چھوٹے بچوں کو نیند کی دوا نہ دیں۔

٭درد کی صورت میں بچے کے پیٹ پر ہلکی سی مالش کریں اور اسے سہلائیں۔ اگر وہ پھر بھی رورہا ہو تو اُسے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔

دو سے تین ماہ کے بچوں کا رونے کا دورانیہ تقریباً دن میں چار گھنٹے ہوتا ہے۔ اگر وہ اس سے زیادہ وقت تک روئے تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

چیونٹیوں سے متعلق حیران کن حقائق

Read Next

Basic trauma life support

Leave a Reply

Most Popular