چیونٹیوں سے متعلق حیران کن حقائق

چیونٹیاں گروہوں کی شکل میں، کالونیاں بنا کر اور منظم انداز میں رہتی ہیں۔ ان کی ایک کالونی میں ملکہ، کارکن، سپاہی اور نر چیونٹیاں (drones) ہوتی ہیں۔ جسامت کے لحاظ سے ملکہ سب سے بڑی ہوتی ہے، پھر بالترتیب سپاہی، کارکن اور نر چیونٹیاں آتی ہیں۔ یہ سب اپنے ذمے مختلف کام انجام دیتی ہیں۔ چیونٹیوں سے متعلق حیران کن حقائق یہ ہیں۔

رہن سہن

ڈرون، ملکہ کے ساتھ مل کر افزائش نسل کے عمل کو شروع کرتے اور اس کے فوراً بعد مر جاتے ہیں۔ پھر ملکہ پہلی مرتبہ تقریباً درجن اور اس کے بعد روزانہ کم و بیش 800 انڈے دیتی ہے۔ کارکن چیونٹیوں میں سے زیادہ تر نسل بڑھانے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ ان کے ذمے ملکہ اور بچوں کی دیکھ بھال کرنا، گھر کی صفائی اورخوراک تلاش کرنا ہوتا ہے۔

دوسری طرف سپاہی چیونٹیاں اپنے علاقے کی حفاظت کرتی ہیں۔ یہ کھانے اور رہنے کی جگہ کے لیے دوسرے محلوں پر حملے بھی کرتی ہیں۔ اگر یہ کامیاب ہو جائیں تو وہاں کی ملکہ کو مار کر انڈے چرا لیتی ہیں۔ پھر ان سے پید اہونے والے بچوں کو غلام بنا کر رکھا جاتا ہے۔

انسانوں جیسی خصوصیت

ان میں انسانوں جیسی کئی خصوصیات ہوتی ہیں۔ مثلاً انسان مختلف جانوروں کو پال کر ان سے خوراک حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی دیگر حشرات خصوصاً پودوں پر پائے جانے والے ایک کیڑے(aphid) کو بارش سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے گھر میں جگہ دیتی ہیں۔ یہ انہیں مرجھائے ہوئے پودوں سے تازہ پودوں تک بھی منتقل کرتی ہیں۔ اس کے بدلے میں ان کیڑوں سے خارج ہونے والا مادہ خوراک کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔

چیونٹی اور کیڑا-چیونٹیوں سے متعلق دلچسپ حقائق-شفانیوز

جسمانی اعضاء

٭ان میں سانس لینے کے لیے جسم کے کناروں پر چھوٹے چھوٹے سوراخ (spiracles) ہوتے ہیں۔ یہ سوراخ نالیوں کے ایک جال سے جڑے ہونے کے باعث آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کے تبادلے میں مدد دیتے ہیں۔

٭ان کے کان نہیں ہوتے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ قوت سماعت سے بھی محروم ہیں۔ یہ سننے کے لیے گھٹنوں کے نیچے موجود ایک عضو کی مدد لیتی ہیں۔

٭جن چیونٹیوں کی آنکھیں نہیں ہوتیں وہ اپنے سر پر موجود انٹینا کے ذریعے پیغام رسانی کرتی ہیں۔ یہ انہیں درجہ حرارت میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کو جانچنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں وقت سے پہلے بارش کی خبر ہو جاتی ہے۔

٭چونٹیوں کے دو معدے ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک ان کی کھانے کی ضرورت پوری کرتا ہے۔ دوسرے میں دیگر ساتھیوں کے لیے خوراک محفوظ کی جاتی ہے۔

دلچسپ اور حیرت انگیز

٭چیونٹیوں میں زیادہ تر مادہ ہی ہوتی ہیں اور نر صرف تبھی پیدا ہوتا ہے جب ایک نئی نسل یا کالونی شروع کرنا ہو۔

٭چیونٹیوں میں صرف ملکہ اور ڈرون کے پر ہوتے ہیں جو ان کے ملاپ (mating) کے بعد جھڑ جاتے ہیں۔

٭ملکہ چیونٹی بننے کے لیے جینز نہیں بلکہ زیادہ پروٹین پر مشتمل خوراک اہم ہوتی ہے۔

٭یہ 140 سے 168 ملین سال قبل روئے زمین پر ظاہر ہوئیں۔

٭یہ اس قدر طاقتور ہیں کہ اپنے وزن سے 10 سے 50 گنا زیادہ وزن اٹھا سکتی ہیں۔

٭چیونٹیاں اپنے دشمنوں کو ان کی بو سے یاد رکھتی ہیں اور اسے ساتھیوں میں پھیلا دیتی ہیں۔

٭انہیں درد محسوس نہیں ہوتا مگر خود کو پہنچنے والے نقصان کا علم ضرور ہوتا ہے۔

٭سال 2000 میں جنوبی امریکہ کے ملک ارجنٹینا میں چیونٹیوں کی سب سے بڑی بستی منظر عام پر آئی۔ یہ 3700 میل تک پھیلی ہوئی تھی۔

٭باقی حشرات کے مقابلے میں ان کی زندگی کا دورانیہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ یہ کچھ ہفتوں سے کئی سال تک زندہ رہ سکتی ہیں۔ اس کا انحصار ان کی قسم، کھانے اور کام پر ہوتا ہے۔

٭چیونٹیاں پانی کے اوپر کچھ دیر تک تیرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس کے برعکس کچھ سانس لینے والے سوراخوں کو بند کر کے اور جسمانی سرگرمیوں کو روک کر اس کے اندر بھی 24 گھنٹوں تک زندہ رہ سکتی ہیں۔

٭بعض اوقات یہ ایک دوسرے کی نقل کر کے چیزیں سیکھتی ہیں۔ مثلاً گھر کا راستہ یاد کروانا ہو تو قطار میں پہلے والی چیونٹی رک کر پیچھے مڑتی اور اطراف کا جائزہ لیتی ہے۔ پھر باقی بھی یہی عمل دہراتی ہیں اور راستہ یاد کر لیتی ہیں۔

Vinkmag ad

Read Previous

ڈمپلز کیسے بنتے ہیں

Read Next

بچہ کس مسئلے میں کیسے روتا ہے

Leave a Reply

Most Popular