ڈِمپلز کی سائنس

4

ڈِمپلز کی سائنس

بعض افراد، خصوصاً خواتین کے ایک جبکہ کچھ کے دونوں گالوں پرگڑھے سے بنے ہوتے ہیں جو چہرے کی خوبصورتی کوچار چاند لگا دیتے ہیں۔اس پرجہاں شاعروں نے خوبصورت اشعارکہے ہیں وہاں کئی گیت بھی لکھے گئے ہیں۔ زمانہ قدیم میں خوش قسمتی کی علامت سمجھے جانے والے ان گڑھوں کوڈمپلزکہتے ہیں۔ زیادہ ترصورتوں میں یہ خصوصیت موروثی یعنی والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے تاہم کبھی کبھارچہرے کی چربی بھی ان کا سبب بن سکتی ہے۔ اس صورت میں یہ وزن کم ہونے کے بعدغائب ہوجاتے ہیں۔

یہ جسم میں کہیں بھی ہو سکتے ہیں تاہم زیرنظر تحریرمیں ہم گالوں، ٹھوڑی اورکمر میں پائے جانے والے ڈمپلز سے متعلق جانیں گے۔

زیادہ ترصورتوں میں یہ خصوصیت موروثی یعنی والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہےکے ڈمپل

چہرے میں ایک ایسا پٹھہ ہے جوتاثرات ظاہرکرنے میں مدد دیتا ہے۔ مثلاًجب کوئی شخص ہنستا ہے تو یہ سکڑجاتا ہے۔ نتیجتاً چہرے کے کنارے ابھرتے ہیں اورمسکراہٹ نمایاں ہوجاتی ہے۔ عموماً یہ گالوں میں ایک ہڈی سے شروع ہوکر چہرے کے کنارے سے جڑ جاتا ہے۔ تاہم بعض صورتوں میں یہ پیدائشی طورپردو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ ایسے میں اس کا ایک حصہ چہرے کے اوپری کنارے جبکہ دوسرا نچلے کنارے سے جڑا ہوتا ہے۔ پھر جوں ہی ان کے اوپرموجود جلد حرکت کرتی ہے تو پٹھوں کے درمیان گڑھابن جاتا ہے۔ گالوں کے ڈمپلزمردوں کے مقابلے خواتین میں زیادہ عام ہیں۔

ٹھوڑی کے ڈمپل

ٹھوڑی کے ڈمپل کے لئے’’چاہ ذقن‘‘ اور’’چاہ زنخدان ‘‘ کی اصطلاحات بھی استعمال کی جاتی ہیں جن کا لفظی مطلب ٹھوڑی کا کنواں ہے۔ یہ بھی پیدائشی ہوتے ہیں مگران کی وجہ پٹھے نہیں بلکہ نچلے جبڑے کی ہڈیاں ہیں جومکمل طورپرجڑی نہیں ہوتیں۔ یہ ٹھوڑی پردائرے یا لائن کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں اورمرد وں میں زیادہ عام ہیں۔

کمر کے ڈمپل

یہ کمر کے نچلے حصے میں ریڑھ کی ہڈی کے دونوں طرف ہوتے ہیں۔ یہ ٹشوزکی اس پٹی کی وجہ سے بنتے ہیں جوکولہے کی ہڈی کے سامنے والے حصے، اس کے بیرونی کنارے اورجلد کو آپس میں جوڑتی ہے۔ یہ زیادہ ترخواتین میں پائے جاتے ہیں۔

science of dimples, face dimple, chin dimple

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x