ریبیز

اکثر دیکھا گیا ہے کہ بچے گلیوں میں نظر آنے والے کتوں کو پتھر مار رہے ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ بچوں کو کاٹنے کو بھی دوڑتے ہیں۔ کوئی کتا بنا کسی وجہ کے کاٹنے کو دوڑے یا اس کی مسلسل رال ٹپک رہی ہو تو امکان ہے کہ وہ ریبیز یعنی باولے پن کی بیماری کا شکار ہے۔ یہ ایک ایسا مرض ہے جو بالعموم کتے کے کاٹے سے ہوتا ہے۔ مگر بلیاں، گھوڑے اور چمگادڑ بھی اس کا باعث بن سکتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے 2017 کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 59 ہزار اموات اس کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ ان میں سے 95 فی صد ایشیاء اور افریقہ کے ممالک میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو 2013 میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق یہاں ہر سال اوسطاً 5000 افراد اس جان لیوا مرض کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

ریبیز کیسے پھیلتا ہے

ریبیز وائرس سے پھیلنے والا مرض ہے۔ اس کا شکار کتا (یا بہت کم صورتوں میں کوئی اور جانور) جب کسی شخص کو کاٹتا ہے تو اس کی تھوک میں موجود وائرس اس شخص کے خون میں شامل ہو کر دماغ تک پہنچ جاتا ہے۔ اگر کوئی بھی کتا کاٹ لے تو فوراً متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر کو دکھائیں۔ اگر اسے لگے کہ وہ کتا باولا تھا تو پھر اس میں ہرگز تاخیر نہ کریں۔ مرض کی علامات ظاہر ہونے کے بعد اس کا علاج ممکن نہیں رہتا۔

مرض کی علامات

باولے کتے کے کاٹے سے بیماری کی علامات ظاہر ہونے تک کا وقفہ (incubation period) چند دن سے چند ماہ پر محیط ہو سکتا ہے۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کتے نے جسم کے کس حصے پر کاٹا ہے۔ مثلاً اگر اس نے پاؤں پر کاٹا ہو تو وائرس کو حرکت کرتے ہوئے دماغ تک پہنچنے میں زیادہ وقت لگے گا۔ پھر بیماری کی علامات دیر سے ظاہر ہوں گی۔ چہرے یا دماغ کے نزدیک کسی حصے پر کاٹنے کی صورت میں بیماری جلد شروع ہو سکتی ہے۔

بر وقت علاج نہ ہو تو مرض کی علامات شروع ہو جاتی ہیں جو شروع میں انفلوئنزا کی طرح کی ہوتی ہیں۔ ان میں بخار، سر درد، متلی، اُلٹیاں، طبیعت کی خرابی، بے چینی، ہیجان، بے یقینی اور غیر حقیقی چیزوں کا نظر آنا شامل ہیں۔

اس کے علاوہ عضلات میں کھچاؤ، لعاب دہن کی زیادتی، منہ سے جھاگ نکلنا، پانی کا خوف، ہوا سے حساسیت، آخر میں کوما اور پھر موت مریض کا مقدر بن جاتی ہے۔ عضلات میں کھچاؤ کے باعث مریض کے لیے کچھ نگلنا یا سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ پانی کو دیکھ کر ہوا کے جھونکے کو محسوس کر کے یا اچانک شور سن کر اُسے دورہ پڑ جاتا ہے اور جسم کے عضلات کھیچ جاتے ہیں۔ یہی بیماری کا سب سے اہم ٹیسٹ ہے۔

ابتدائی طبی امداد

کتے نے کاٹ لیا ہو تو سب سے پہلے زخم کو صابن اور پانی سے اچھی طرح دھوئیں۔ 10 سے 15 منٹ تک دھونے سے تقریباً 30 فی صد وائرس ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد فوری طور پر ایسے ہسپتال جائیں جہاں ریبیز کے علاج کی سہولت دستیاب ہو۔ ڈاکٹر مریض کا معائنہ کرنے کے بعدیہ اندازہ لگاتا ہے کہ زخم کتنا گہرا ہے۔

اس طرح کے زخم تین قسموں کے ہوتے ہیں۔ ابتدائی زخم میں جلد نہیں پھٹی ہوتی بلکہ اس پر صرف تھوک لگا ہوتا ہے۔ ایسے میں ویکسین کی ضرورت نہیں ہوتی۔ درمیانے درجے کے زخم میں جلد پر کھرونچے لگے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ریبیز ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس لیے مریض کو ویکسین لگا دی جاتی ہے۔ جلد پر ایک یا ایک سے زیادہ دفعہ کاٹنے کے ایسے نشانات ہوں جن سے جلد گہرائی تک پھٹ چکی ہو تو اسے گہرا زخم کہا جاتا ہے۔ اس صورت میں ویکسین کا ٹیکا زخم کے اندر لگتا ہے اور کچھ دن کے وقفوں سے چار سے پانچ ٹیکے لگتے ہیں۔

گہرے زخم کے ساتھ اسے آر آئی جی(Rabies Imunogloblin) ویکسین بھی دی جاتی ہے۔ عام ویکسین سے 13 یا 14 دنوں میں قوت مدافعت مضبوط ہونا شروع ہوتی ہے۔ اس کے برعکس آر آئی جی فوراً اینٹی باڈیز بنا کر مرض کا مقابلہ شروع کر دیتی ہے۔

بچاؤ کی تدابیر

ریبیز سے بچاؤ کے لیے ان احتیاطی تدابیر پر عمل کریں:

٭اپنے اردگرد کے علاقے کی صفائی کا خیال رکھیں تا کہ گلی میں پھرنے والے کتے اور بلیاں ادھر کا رخ نہ کریں۔

٭جو لوگ کتوں یا جانوروں کے قریب رہتے ہیں، وہ پہلے سے ہی ریبیز کی ویکسی نیشن کروا لیں تاکہ اس بیماری کا شکار نہ ہوں۔

٭پالتو جانوروں کی خصوصی طور پر ویکسی نیشن کرائیں۔

٭کتوں کی بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن کی جانی چاہیے تا کہ ریبیز کا خطرہ کم ہو۔

٭جہاں اس مرض کی شرح زیادہ ہو وہاں بچوں کو ریبیز کی ویکسی نیشن بھی کروائیں۔ اگر کبھی مستقبل میں ریبیز کا شکار کتا کاٹ لے تو پھر صرف ایک بوسٹر ڈوز لگے گی اور بیماری کا خطرہ ٹل جائے گا۔

Vinkmag ad

Read Previous

حمل سے پہلے کن باتوں کا خیال رکھیں

Read Next

ڈمپلز کیسے بنتے ہیں

Leave a Reply

Most Popular