قبض کیسی بیماری ہے

معدے اور آنتوں کے مسائل میں سے ایک اہم اور عام مسئلہ قبض ہے۔ قبض کے بارے میں بہت سے تصورات پائے جاتے ہیں۔ اکثر افراد روزانہ مناسب مقدار میں پاخانہ نہ آنے کو قبض قرار دیتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ روزانہ ایک ہی وقت پر ایک ہی طرح کا پاخانہ آنا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں تو یہ قبض کی علامت ہے۔ یہ دونوں باتیں درست نہیں۔ قبض کیسی بیماری ہے، یہ سمجھنے کے لیے اس کی علامات اور وجوہات کو جاننا ضروری ہے۔

قبض کی علامات

اگر کسی فرد کو نیچے بیان کی گئی علامات میں سے کسی ایک کا بھی سامنا ہو تو وہ قبض کا شکار ہو سکتا ہے:

٭ ہفتے میں تین سے کم مرتبہ پاخانہ آنا۔

٭سخت پاخانہ آنا۔

٭پاخانے کے لیے زور لگانا۔

٭یوں محسوس ہونا کہ ریکٹم یعنی بڑی آنت کے آخری حصے میں کوئی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے پاخانہ خارج نہیں ہو رہا۔

٭یوں محسوس ہونا کہ پاخانہ مکمل طور پر خارج نہیں ہوا۔

٭پاخانہ خارج کرنے کے لیے پیٹ پر دباؤ ڈالنے یا ایسے دیگر اقدامات کی ضرورت پیش آنا۔

کسی شخص کو تین ماہ سے مذکورہ علامات میں سے دو یا اس سے زائد علامات کا سامنا ہو تو اسے دائمی قبض سمجھا جاتا ہے۔

قبض کی وجوہات

قبض عموماً تب ہوتی ہے جب پاخانہ نظام انہضام میں بہت آہستہ حرکت کرتا ہے یا بڑی آنت سے خارج نہیں ہوتا۔ نتیجتاً یہ خشک اور سخت ہو جاتا ہے اور اسے خارج ہونے میں مشکل ہوتی ہے۔ دائمی قبض کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں۔ مثلاً:

٭اینل فِشر، آنتوں میں تنگی یا کولون کینسر وغیرہ کی وجہ سے بڑی آنت یا اس کے آخری حصے میں رکاوٹ ہونا۔

٭اعصابی مسائل کے باعث ان پٹھوں کی حرکات متاثر ہونا جن کے سکڑنے کی وجہ سے پاخانہ حرکت کرتا ہے۔

٭پیڑو کے پٹھوں کا کمزور ہونا یا ان میں دیگر مسائل ہونا۔

٭ذیابیطس، تھائی رائیڈ کے مسائل یا ایسی دیگر کیفیات کا شکار ہونا جو ہارمونز کے عدم توازن کا سبب بنتی ہیں۔

٭پانی کم پینا اور فائبر کم اور پروسیسڈ خوراک زیادہ استعمال کرنا۔

بچاؤ کے لیے ٹِپس

یہ ٹِپس قبض سے بچاؤ اور اگر ہو جائے تو اس سے نپٹنے میں مدد دیں گی۔ دائمی قبض کی صورت میں کچھ ادویات کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ ان کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے سے کیا جا سکتا ہے۔

٭فائبر کے حامل کھانے زیادہ کھائیں۔ اس کے لیے دالیں، سبزیاں، پھل، ہول گرین سیریل اور چوکر استعمال کریں۔

٭پروسیسڈ کھانے، گوشت اور ڈیری مصنوعات کم استعمال کریں۔

٭جتنا ممکن ہو متحرک رہیں اور باقاعدگی سے ورزش کریں۔

٭زیادہ مشروبات پیئیں۔

٭ذہنی تناؤ سے بچنے کی کوشش کریں۔

٭پاخانے کی حاجت ہو تو اسے نظر انداز نہ کریں۔

٭پاخانے کے لئے ایک وقت (بالخصوص کھانے کے بعد) مقرر کرنے کی کوشش کریں تاکہ ایک روٹین بن جائے۔

٭جب بچوں کی خوراک میں ٹھوس غذا شامل کریں تو اس میں فائبر والی اشیاء استعمال کریں۔

کبھی کبھی قبض ہو جاتا ہو اور پھر خود ہی ٹھیک بھی ہو جاتا ہے۔ یہ بار بار ہو اور اس کے ساتھ کچھ اور علامات بھی طاہر ہوں تو اسے سنجیدہ لینا چاہیے۔ مثلاً قبض کے ساتھ پاخانے میں خون آئے، وزن کم ہونا شروع ہو جائے، بخار رہنے لگے یا الٹیاں آنے لگیں تو یہ بڑی آنت کے کینسر، اس میں بل پڑنے یا انفیکشن کی علامات ہو سکتی ہیں۔

Vinkmag ad

Read Previous

مردہ بچوں کی پیدائش

Read Next

Feeding your baby

Most Popular