خالص شہد کی پہچان

1

خالص شہد کی پہچان

ایک زمانے میں کھانے پینے کی زیادہ تر چیزیں گھروں میں یا چھوٹے پیمانے پر بنتی تھیں لہٰذا ان میں ملاوٹ بھی کم ہی ہوتی تھی۔ بتدریج ان کی مانگ بڑھتی چلی گئی جسے پورا کرنے کے لئے اتنی مقدار میں چیزیں دستیاب نہ تھیں۔ ایسے میں ملاوٹ کا سہارا لیا جانے لگا جو نہ صرف خریداروں کے ساتھ دھوکہ اوران کے پیسے کا نقصان ہے بلکہ ان کی صحت کے لئے بھی سخت نقصان دہ ہے۔ دوسری طرف لوگوں کی اکثریت نہیں جانتی کہ چیزوں کے خالص ہونے کی پہچان کیسے کریں۔

خالص شہد کی خصوصیات

٭یہ اتنا گاڑھاہوتا ہے کہ اس کو بوتل میں ہلانا مشکل ہوتا ہے۔

٭گرم یا سرد کرنے سےاس کے ذائقے میں فرق محسوس ہوتا ہے۔

٭ جس پھول سے شہد نکالا گیا ہو‘صرف اس کی ہلکی سی خوشبو آتی ہے اور شہد کو گرم یا سرد کرنے سے یہ خوشبو جاتی رہتی ہے ۔اگر اس میں سے کسی اورچیز کی خوشبو آئے تویہ خالص نہیں۔

٭گرم کرنے سے اس میں بلبلے نہیں بنتے بلکہ وہ ہلکا سا گاڑھا ہو جاتا ہے۔

٭پانی میں حل کرنے پر نیچے بیٹھ جات ہے‘حل نہیں ہوتا۔

٭اگر ماچس کی تیلی کے صاف سرے کوخالص شہد میں ڈبو کر آگ کے قریب لایا جائے تو وہ آگ پکڑ لے گا۔

٭ڈبل روٹی پر لگانے سے ڈبل روٹی چند منٹ میں سخت ہونے لگتی ہے۔

٭سفید کپڑے پر شہد کے قطرے گرانے سے اس پر داغ نہیں بنتے۔

٭خالص شہد کبھی بھی بالکل صاف و شفاف نہیں ہوتا۔اس میں شہد کی مکھی کے پرکا کوئی نہ کوئی ذرہ یا پھول کا زردانہ (پولن) رہ جاتا ہے۔

٭شہد کو انڈے کی زردی میں ڈال کر مکس کرنے کی کوشش کی جائے تو انڈے کی زردی کچھ دیر بعد ایسے دکھائی دے گی جیسے اسے پکایا گیا ہو۔

٭خالص شہد کو اپنے انگوٹھے پر گرا کر دیکھیں۔اگر وہ گر جائے یا پھیل جائے تو وہ ملاوٹ زدہ ہے۔اس لئے کہ خالص شہد آپ کے انگوٹھے سے چپکا رہے گا۔

خالص شہد خریدتے ہوئے معیار‘قیمت اور لیبل کو ذہن میں رکھئے۔ بوتل پر مصنوعی فلیورز کے نام اس کے غیر خالص ہونے کی سب سے پہلی نشانی ہے۔

pure honey, identification, sticky, does not leave stain, thick

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x