اپینڈی سائٹس کو جانئے

1

اپینڈی سائٹس کو جانئے

یہ نظامِ قدرت ہے کہ اگرجسم کا کوئی ایک حصہ تکلیف میں مبتلا ہو جائے تو پورا جسم اسے محسوس کرتا ہے۔ پیٹ کا درد بھی ایسی ہی ایک کیفیت ہے جو اگر ہو جائے توانسان نہ تو چین سے بیٹھ سکتاہے اورنہ سو سکتا ہے۔ اس کیفیت کی مختلف وجوہات ہیں جن میں سر فہرست اپھارہ اوربد ہضمی کا شکار ہونا ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ چھوٹی آنت کی سوزش بھی ہے جسے ’’اپینڈی سائٹس‘‘ کہا جاتا ہے ۔اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو کئی طرح کے مسائل سامنے آسکتے ہیں ۔

اپینڈی سائٹس

اپینڈکس دراصل چھوٹی آنت اوربڑی آنت کے سنگم پربڑی آنت کے نچلے سرے سے جڑی ایک آنت ہے جسے اندھی آنت بھی کہاجاتا ہے۔ یہ پیدائشی طو رپر ہرشخص میں موجود ہوتی ہے۔ یہ بعض افراد میں پتلی اوردو سے تین سینٹی میٹرلمبی جبکہ کچھ لوگوں میں موٹی اورسات سے 10سینٹی میٹرتک طویل ہوسکتی ہے۔اپینڈکس کی سوزش کو اپینڈی سائٹس کہا جاتا ہے۔اس آنت کے بند ہونے کی وجہ سے یہاں جراثیم کی افزائش شروع ہو جاتی ہے جو بعد میں سوزش کا سبب بنتی ہے۔

اپینڈی سائٹس یوں توکسی بھی عمر میں ہوسکتا ہے لیکن21 سے22برس کی عمر میں اس کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ مرد اور خواتین‘ دونوں اس سے متا ثر ہو سکتے ہیں لیکن خواتین کے مقابلے میں یہ مرض مردوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ یہ مرض کسی بھی موسم میں ہو سکتا ہے لیکن بہاراورگرمیوں میں اس سے زیادہ افرادمتاثر ہوتے ہیں۔

مرض کی علامات

 اپینڈی سائٹس کی وجہ سے پیٹ میں درد ہو تو اس کی ایک اہم علامت یہ ہے کہ وہ ناف کے گرد سے شروع ہوکر پیٹ کے دائیں اورنچلے چوتھائی حصے میں داخل ہوجاتا ہے۔ا س کے علاوہ متلی، الٹیاں،بخار،دست،پیشاب کا جلن کے ساتھ آنا اوربھوک کا ختم ہونا بھی اس کی علامات میں شامل ہیں۔ جب مریض کو پیٹ میں شدید درد کے ساتھ اس پرسوجن ہوجائے اور پھر یہ درد اچانک ختم ہو جائے تو ایسااپینڈکس کے پھٹ جانے سے ہوتا ہے جس کے سبب پیٹ میں پیپ بھی پھیل سکتی ہے ۔

اس مرض کی کچھ علامات دیگر بیماریوں سے بھی ملتی ہیں جس کی وجہ سے تشخیص میں مشکل پیش آتی ہے۔ ان علامات میں دائیں گردے میں درد،بڑی اورچھوٹی آنت کی سوزش اوربیضہ دانی میں سوجن شامل ہیں ۔اگر یہ علامات نمودار ہوں تو فوراً کسی سرجن سے رابطہ کرنا چاہئے اورتشخیص ہونے کی صورت میں بغیر وقت ضائع کئے آپریشن کرواکے مزید پیچیدگیوں سے بچنا چاہئے ۔

آپریشن کے بعد احتیاطیں

آپریشن کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد ادویات کا اثرختم ہوجاتا ہے۔ مزید برآں مریض بیدار ہونے کے بعد کروٹ بدلنے اورٹانگیں ہلانے کے قابل ہو جاتا ہے۔ سرجری کے بعد مریض کو کچھ احتیاطیں کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو مندرجہ ذیل ہیں

٭اگر مریض کو الٹیاں آئیں تو اسے کروٹ کے بل لٹانا چاہیے۔

٭آپریشن کے تقریباً چار گھنٹے بعد سرجن مریض کو کچھ کھانے پینے کی اجازت دے دیتا ہے۔ شروع میں قہوہ‘پانی‘چائے‘دودھ اور نرم غذا مثلاً فرنی اورکھیر کھلانا زیادہ بہتر ہے ۔

٭ آپریشن سے اگلے دن مریض گھر جاسکتا ہے۔اس کے چلنے پھرنے کی کوئی ممانعت نہیں ہوتی اورنہ ہی کھانے پینے کے حوالے سے کوئی خاص پرہیز بتائی جاتی ہے۔ تاہم آپریشن کے زخم کو گیلا ہونے اورپسینے سے بچانا چاہئے۔

٭آپریشن کے بعد کی پٹی تقریباً چار دنوں تک صاف رہتی ہے جس کے بعد اسے تبدیل کرانا چاہیے۔ ٹانکے آٹھ دن بعدکھولے جاتے ہیں جس کے بعد عموماً دواکی ضرورت نہیں رہتی۔

٭مریض ٹانکے نکلوانے کے بعد نہا سکتا ہے اوراپنے زخم کوپانی اورصابن سے دھوسکتا ہے۔ اگر زخم زیادہ ہو تو وزن اٹھانے سے اس وقت تک پرہیز کرنا چاہیے جب تک کہ معالج اس کی اجازت نہ دے۔

کب سرجن سے رجوع لازمی

مندرجہ ذیل مسائل کی صورت میں معالج سے فوری رجوع کریں

٭زخم سے پیپ ،خون یا پاخانے کا خارج ہونا۔

٭قبض کی شکایت ہونا۔

٭پیٹ کا سوج جانا ۔

٭ الٹیوں کے سبب زخم کا کھل جانا۔

٭بخار رہنا۔

appendix, appendicitis, symptoms, after treatment care

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x