کچی شراب‘ خطرہ جان کیوں

340

گزشتہ برس اکتوبر میں یہ خبر میڈیا میں نمایاں طور پر شائع اور نشر ہوئی کہ کراچی میں29 افراد کچی شراب پینے کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ بیسیوں کو ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ اس سے پہلے براعظم افریقہ کے ایک ملک کینیا میں ایسی ہی شراب پینے سے 61 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ ہندوستان اور دیگر مشرقی ممالک میں ہر سال بہت سے لوگ شراب کی اس خطرناک قسم کے ہاتھوں لقمہ اجل بنتے ہیں ۔لہٰذا ضروری ہے کہ اس کی نوعیت‘ تاریخ ‘تیاری اورزہریلے پن پر کچھ گفتگو ہوجائے۔
قدیم انسانی تاریخ کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا زمانہ قبل از تاریخ کہلاتا ہے جس کے بارے میں ہمیں کچھ معلوم نہیں‘ اس لئے کہ وہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ نہیں رہا۔ دوسرا دور‘ پتھر کا دور کہلاتا ہے جس میں انسان نے پتھر کے بنے ہوئے ہتھیار اور اوزار استعمال کرنا شروع کئے۔ اس کے بعد دھات کا زمانہ آتا ہے جس میں وہ مختلف دھاتوں سے بنی ہوئی چیزیں استعمال کرنے لگا۔ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ انسان نے شراب نوشی پتھر کے دور میں ہی شروع کر دی تھی ۔کچھ لوگوں کے خیال میں شراب کوابتداً شہد سے تیار کیاگیا جسے مِیڈ(mead) کہا جاتا ہے۔ تاہم اس کا امکان کم ہے‘ اس لئے کہ مکھیاں اسے بہت زیادہ مقدار میں تیار نہیں کرتیں۔ لہٰذا زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ شراب شروع شروع میں جنگلی انگوروں سے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں تیار کی گئی جہاں یہ پھل کثرت سے پایا جاتا تھا۔
اس کی ابتداء یادریافت انگور وں کے قدرتی طور پرگلنے سڑنے کے باعث ہوئی۔آج سے تقریباً 12 ہزارسال قبل مصر اور چین قدرے زیادہ ترقی یافتہ ممالک تھے۔ اس دور میں وہاں شراب کوباقاعدہ طور پر بنانا شروع کیا گیا اور اس کا دوا اور مذہبی رسومات کے طور پراستعمال شروع ہو گیا۔ مصر میں شراب کے دیوتا کو شعری خدا ( sirius)کا نام دیا گیا تھا جس کی پوجا ملک کے ہر کونے میں ہوتی تھی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مصر کے لوگ بیئر(bear) کی17اور انگور سے بنی شراب کی24 قسمیں تیار کر سکتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شراب سے بھرے ہوئے برتن مردوں کے ساتھ دفن کئے جاتے تھے تاکہ وہ آئندہ زندگی میں اسے استعمال کرسکیں۔ 1922ء میں جب مصری شہنشاہ کنگ ٹٹ (King Tut) کے مقبرے کو کھودا گیا تو وہاں بھی شراب کے برتن برآمد ہوئے جن پراسے تیار کرنے والوں سے متعلق معلومات بھی درج تھیں۔
شراب سازی میں عمل خمیر سے استفادہ کیاجاتا ہے۔یہ وہی عمل ہے جس میں گھروں کے اندر آٹے میں تھوڑا سا خمیر ملاکر آٹا خمیر کیا جاتا ہے اور اسی طرح دودھ سے دہی بھی بنایا جاتا ہے۔ اگر دودھ قدرتی طور پر بگڑ جائے تو وہ بھی دہی، ہی ہوتاہے تاہم خراب ذائقے کی وجہ سے کھائے جانے کے قابل نہیں ہوتا۔ اس بدذائقگی کاسبب یہ ہے کہ اس میں کارفرما بیکٹیریا اور پھپھوندیاں ہماری پسند کی نہیں ہوتیں۔ شراب کی تیاری کیلئے استعمال ہونے والے خمیر (yeast) کی تقریباً 700 قسمیں ہیں اور ہر ایک سے تیار کردہ شراب الگ ذائقے کی ہوتی ہے۔ خمیر کاربوہائیڈریٹس کو شراب میں بدل دیتا ہے۔ اس میں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بلبلے نکلتے ہیں جن سے جھاگ بنتی ہے۔
کاربوہائیڈریٹس کی کئی قسمیں ہیں جن میں ہر طرح کی مٹھاس والی اشیاء مثلاًگلوکوز‘ لیکٹوز‘ مالٹوز اور چینی شامل ہیں۔ پھلوں اور اناج کے اندر موجود نشاستہ بھی چینی میں تبدیل ہو جاتا ہے لہٰذا شراب بنانے کے لئے ہر طرح کے اناج مثلاًجو‘ مکئی‘ گندم اور چاول وغیرہ کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس میں نشہ آور اور خمار پیدا کرنے والا عنصر الکوحل ہے۔ اس کی کئی اقسام ہیں جن میں سے ایک ایتھے نال (ethanol)ہے۔ پھپھوندیوں کے شروع کردہ کیمیائی عمل کے دوران ہی زہریلا الکوحل یعنی میتھے نول (methanol )بھی پیدا ہوتا ہے۔ دونوں قسم کے الکوحل کی رنگت اور بو یکساں ہوتی ہے لیکن میتھے نول زہر قاتل ہے۔ ایک کلوگرام سیب سے 1.4 گرام میتھنال بنتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے جسم کے اندر بھی بیکٹیریا اور پھپھوندیوں کی وجہ سے قدرتی طور پر زہریلی شراب ان سبزیوں اور پھلوں سے بنتی ہے جو ہم غذا کے طور پر کھاتے ہوتے ہیں۔ ہمیں اس کا مضر اثرمحسوس نہیں ہوتاجس کا سبب یہ ہے کہ اس کی مقدار بہت ہی کم ہوتی ہے اوروہ بھی بننے کے بعد سانس کے ذریعے اور گردوں سے ہو کر پیشاب کے راستے خارج ہو جاتی ہے۔ہماری سانس میں اس کی مقدار ساڑھے چار پی پی ایم (parts per million)ہوتی ہے۔
کچی شراب کو جب ابالا جائے تو 67 ڈگری سینٹی گریڈ پراس میں موجودزہریلا میتھے نول بخارات میں تبدیل ہو کر اُڑ جاتا ہے جس کے بعد 87ڈگری پر ایتھے نول اور پھر 100 ڈگری پر پانی ابلتا ہے۔ اس طرح تینوں عناصر کو الگ کیا جا سکتا ہے تاہم شراب میں پانی ایک خاص مقدارمیں رہنے دیا جاتا ہے۔ عام شرابوں مثلاً جن( gin)‘ وہسکی (whiseky) اورکونیاک(cognac) وغیرہ میں الکوحل کی شرح زیادہ ہوتی ہے جنہیں ’سپرٹ‘ کہا جاتا ہے۔ اگرچہ عمل تبخیر سے100فی صد خالص الکوحل تیار کیا جا سکتا ہے لیکن اسے گاڑھا کیا جائے تواس کا ذائقہ جاتا رہتا ہے۔شراب بنانے والے اکثر لوگ اپنا منافع بڑھانے کیلئے میتھے نول کو قصداً الگ نہیں کرتے یا اسے گاڑھا کرنے اور بہترذائقے کیلئے قصداً باقی شراب میں ملا دیتے ہیں۔ اس کے زہریلے پن کا یہ عالم ہے کہ اس کا صرف10 ملی لٹر انسان کو بینائی سے مکمل طور پر محروم کر سکتا ہے اور سوا تین اونس یعنی 100 ملی لٹرجان لیواثابت ہو سکتا ہے۔اس کا زہریلا پن مکمل تیاری کے12 سے زیادہ گھنٹے گزارنے کے بعد نمودار ہوتا ہے اور بدقسمتی سے اس وقت تک اس کے زہر نے اپناکام کر دیا ہوتا ہے اور پینے والا نقصان اٹھا چکا ہوتا ہے۔
لوگ کچی شراب صرف اس وجہ سے پیتے ہیں کہ یہ مستند شراب سے کئی گنا سستی ہوتی ہے۔نچلے اور متوسط درمیانے طبقے کے مزدور اس کی طرف زیادہ کھنچتے ہیں۔ اس کا سونگھنا یا جسم کے ساتھ زیادہ مقدار میں لگنا بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ شراب کئی صنعتوں میں مثلاً جمنے سے روکنے‘ پینٹ ہٹانے اور دافع جراثیم (antiseptic ) عامل کے طور پربھی استعمال ہوتی ہے۔ گھروں میں صفائی وغیرہ کے کام بھی آتی ہے اورکبھی کبھارچھوٹے چھوٹے بچے اسے پی کر اس کے زہریلے اثرات کا شکار ہوجاتے ہیں۔
قرآن کریم میں کہا گیا ہے کہ اس کے فوائد بھی ہیں لیکن اس کے نقصانات ‘ فوائد سے زیادہ ہیں۔ آج بہت سی بیماریوں کا تعلق اس ’ام لخبائث ‘ کے ساتھ ثابت شدہ ہے۔ لہٰذا جو لوگ اس کے عادی ہیں‘ انہیں چاہئے کہ اپنی صحت اور جان جیسے بڑے فوائد اور نعمتوں کی خاطر اسے چھوڑ دیں۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of