ہارمونز، زندگی پر اثرات

70

ہارمونز، زندگی پر اثرات

ہارمونز کیا ہیں‘ ان کا ہماری زندگی سے کیا تعلق ہے ‘ ان کی کمی بیشی کیا مسائل پیدا کرتی ہے، جانئے ڈایابیٹک انسٹی ٹیوٹ پاکستان لاہورسے تعلق رکھنے والے ماہر امراض غدود ڈاکٹرجاویداقبال سے گفتگو کی روشنی میں تحریر کردہ اس مضمون میں

یہ بات تو اکثر لوگ جانتے ہیں کہ ہمارے جسم کے تمام افعال کو دماغ کنٹرول کرتا ہے لیکن بہت سے لوگ شاید یہ نہیں جانتے کہ وہ یہ کام دو طریقوں یا ذریعوں سے انجام دیتا ہے۔ان میں سے پہلا ذریعہ اعصاب ہیں جن کے ذریعے ہدایات جسم کے مختلف اعضاء کو دی جاتی ہیں اوروہ ان کے مطابق کام کرتے ہیں۔ دوسرا ذریعہ مختلف غدود ہیں جو خاص طرح کی رطوبتیں یا کیمیائی مادے خارج کرتے ہیں۔ ان مادوں کو ہارمونز کہا جاتا ہے ۔

زندگی پر اثرات
ہارمونز کا ہماری زندگی‘ جسمانی افعال اور ان کی کارکردگی سے گہرا تعلق ہے ۔ مثال کے طور پر ہمارے جسم میں مالیکیولوں کی ٹوٹ پھوٹ کا کیمیائی عمل چلتا رہتا ہے جس کے نتیجے میں توانائی پیدا ہوتی ہے۔اسے میٹا بولزم کہا جاتا ہے ۔یہ عمل ہارمونز کے ذریعے ہی کنٹرول ہوتا ہے اور ان کی کمی بیشی سے متاثر بھی ہوتا ہے۔کن پٹھوں میں کتنی پروٹین پیداکرنا ہے اور چکنائی یا گلوکوز کو توانائی کے لئے استعمال کرنے سے متعلق تمام امور ہارمونز کے ذریعے کنٹرول ہوتے ہیں۔

جسم میں تعمیرو مرمت کا کام ‘ نشوونمااور قد کے بڑھنے یا نہ بڑھنے کاتعلق ہارمونز سے بھی ہے ۔کچھ ہارمونز کا تعلق موڈ کے ساتھ بھی ہوتاہے ۔ اگر یہ زیادہ خارج ہوں تو فرد غصیلا ہو گااوراگر وہ کم ہوں گے توفرد ڈپریشن میں چلا جائے گا۔ جن لوگوں میں ’کارٹی سول‘ لیول کم ہو‘ ان پر اگر تھوڑا سا ذہنی دبائو آجائے تو وہ بیمار پڑ جاتے ہیں۔ اگر یہ زیادہ مقدار میں ہو (خواہ اندرونی طور زیادہ پیدا ہو یا باہر سے زیادہ لیا گیاہو) تو فرد سٹیرائڈ سائی کوسس کا شکار ہو سکتا ہے۔ ایسے میں وہ منفی انداز میںسوچنے لگتاہے اور اسے یہ وہم ہوتا ہے کہ ہر کوئی اسے نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔

اگرپچوٹری گلینڈ سے نشوونما سے متعلق ہارمون زیادہ مقدار میں خارج ہو تو فرد کی نشونما تیز ہوجاتی ہے ۔عموماً 18تا21 سال کی عمر میں قد مکمل ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد جب یہ ہارمون زیادہ نکلتا ہے توہاتھ‘ پائوں اور زبان کا سائز بڑھنا شروع ہو جاتا ہے ۔ اسے میڈیسن کی زبان میں "ایکرومیگالے” کہا جاتا ہے۔ اسے ایکرومیگالے اس لئے کہتے ہیں کہ یہ صرف ’’ایکرل‘‘ یعنی بیرونی اعضاء مثلاً ناک‘ کان‘ ہاتھ‘ پائوں اور انگلیوں کوبڑھاتا ہے۔ اس سے فرد اپنے آپ کو قوی الجثہ سمجھنا شروع ہو جاتا ہے حالانکہ وہ اندر سے بیمار ہوتا ہے۔ اس سے مریض کے جبڑے باہر کو آ جاتے ہیں ‘ زبان لمبی ہو جاتی ہے اور پائوں اتنے بڑے ہو جاتے ہیں کہ اسے عموم 14نمبر کاجوتا فٹ آتا ہے۔ اس کا علاج سرجری کے ذریعے ہوتا ہے ۔ انجکشن کے ذریعے بھی اس کا علاج ہوتاہے جو ہر مہینے لگتاہے اور کافی مہنگا ہوتا ہے۔

خواتین کے ہارمون
تولید کے عمل کے ساتھ تین ہارمونز یعنی ایف ایس ایچ  ،ایل ایچ  ا ور تھائی رائیڈ کاتعلق بہت گہرا ہے۔ ’’ایف ایس ایچ ‘‘ نشوونما کے علاوہ جنسی بلوغت اور تولیدی عمل کو باقاعدہ بناتا ہے جبکہ ’’ایل ایچ‘‘ کی تحریک پر بیضہ دانی (ovary) سے انڈے باہر آتے ہیں۔اگر پچوٹری غدود سے ایف ایس ایچ ہارمون نہ آ رہا ہو یا بیضہ دانی اسے پیدا نہ کر رہی ہو خاتون کو حمل نہیں ٹھہر پاتا۔ اگر ’’ایل ایچ‘‘مناسب مقدار میں نہ ہو تو خواتین کے ایام متاثرہوتے ہیں۔اگر تھائی رائیڈہارمونز میں کمی ہو تو اس سے ماہانہ ایام کے دوران خون زیادہ آ سکتا ہے اور اگر یہ زیادہ مقدار میں ہو تو خون کم آئے گا۔

ایک اور ہارمون پرولیکٹن  بھی اہم ہے جس کا تعلق ماں کے دودھ سے ہے۔ اگر اس کی زیادتی ہو جائے توخاتون کو ایام باقاعدگی سے آئیں گے لیکن اس کی بیضہ دانی میں انڈے پیدا نہیں ہوں گے۔ اس کا نتیجہ بانجھ پن کی شکل میں نکلتاہے ۔

’ایف ایس ایچ‘ اور’ایل ایچ‘ کی بدولت بیضہ دانی سے ایسٹروجن اور پروجیسٹیرون خارج ہوتے ہیں۔ ایسٹروجن خواتین کی نسوانیت کے تناظر میں ان کی جسمانی نشوونما میں مدد دیتا ہے جبکہ پروجیسٹیرون ماہانہ ایام اور حمل سے متعلق ہے۔ ان دونوں ہارمونز کو خواتین کے جنسی ہارمون کہا جاتا ہے‘ اس لئے کہ خواتین کی نسوانیت کا تعلق انہی سے ہوتاہے۔ خواتین کے تولیدی مسائل کا تعلق پچوٹری گلینڈ اور جنسی ہارمونز‘ دونوں سے ہو سکتاہے۔ بڑھاپے میں خواتین کی شرمگاہ سکڑ جاتی ہے جس سے پیشاب پر کنٹرول کم ہوجاتا ہے اور ان کے کپڑے باربار خراب ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں انہیں ایسٹروجن دینا پڑتا ہے،اس لئے کہ ان میں اس کی کمی ہو جاتی ہے ۔ یہ گولیوں اور جیلی‘ دونوں شکلوں میں دی جاتی ہے۔

مردانہ ہارمونز
مردوں میں جنسی ہارمون کو ٹیسٹی سٹیرون  کہا جاتا ہے۔ یہ مردانہ خصوصیات مثلاً داڑھی کے بال آنا‘ آواز کاذرابھاری ہو جانا اور جنسی اعضاء کی نشوونمااور فعالیت میں مدد دیتا ہے۔ اگر اس ہارمون کی مقدار کم ہو جائے تو فرد ہائپو گونیڈازم (hypogonadism) کا شکارہو جاتا ہے ۔اس وجہ سے بلوغت کے تناظر میں مردانہ نشوونمامتاثر ہوتی ہے یا سپرم پیدا نہیں ہوتے ۔اگر کسی فرد میں اس طرح کا مسئلہ ہو تو اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی یہ کہ خصئے سپرم پیدا نہ کررہے ہوں اور دوسری یہ کہ پچوٹری غدود سے ’ایف ایس ایچ‘ اور’ ایل ایچ‘ ہی نہ آئیں۔اگر ٹیسٹوسٹیرون میں مسئلہ ہو تو تھیراپی سے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ یہ کیپسول کی شکل میں بھی دیا جاتا ہے اورانجکشن کی صورت میں بھی ۔

ہارمونز جب پچوٹری گلینڈسے آتے ہیں تو ایک ہی ہوتے ہیں۔ جب وہ مرد کے خصئے کو تحریک دیتے ہیں تو وہ سپرم بناتا ہے جبکہ عورت کی بیضہ دانی اس کی تحریک پر انڈے بناتی ہے۔

ہارمون سے متعلق عمومی مسائل
عموماً دو ہارمونز کی کمی بیشی زیادہ مسائل پیدا کرتی ہے۔ ان میں سے پہلاتھائی رائیڈ جبکہ دوسرا انسولین ہے۔ تھائی رائیڈازم دو طرح کا ہوتا ہے۔ اگر ہارمون کی مقدار کم ہو تو اسے ہائپوتھائی رائیڈازم کہا جاتا ہے۔ اس صورت میں اگر وزن زیادہ ہو تو مریض کو تھکاوٹ زیادہ محسوس ہوگی‘ اسے عام موسم میں بھی سردی زیادہ لگے گی‘ آواز ذرا بھاری ہو جائے گی اور پٹھوں میں درد کے علاوہ سستی بھی چھائی رہے گی۔

دوسری طرف ہائپرتھائی رائیڈازم کی بڑی نشانی یہ ہے کہ فرد کا کھانا پینا نارمل ہوتاہے لیکن اس کا وزن کم ہو جاتا ہے۔ اگر آپ اس کے شکار مریضوں سے ہاتھ ملائیں تو وہ گرم محسوس ہوں گے ۔ ان کے دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے‘ بھوک زیادہ لگتی ہے اور وزن کم ہوتا جاتا ہے۔بعض اوقات اس کی وجہ سے نشوونما تیز ہو جاتی ہے ۔

بعض اوقات وائرس کی وجہ سے بھی تھائی رائیڈ گلینڈ کی سوزش ہو جاتی ہے جسے تھائی رائیڈایٹس کہا جاتاہے ۔ اس وجہ سے بخار بھی ہوتا ہے ۔ اس سے شروع میں تھائی رائیڈہارمون بڑھ جاتے ہیں لیکن بعد میں بہت کم ہو جاتے ہیں۔آئیوڈین کی کمی سے بھی تھائی رائیڈازم پیدا ہوتا ہے ۔

ہمارے ہاں ایک اور مسئلہ بھی عام ہے جسے انسولین کی مزاحمت کے سینڈروم کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے خواتین میں پی سی او ایس بھی پیدا ہوتاہے ۔ اس میں ان کالبلبہ انسولین پیدا تو کرتا ہے لیکن جسم میں اس کے خلاف مزاحمت پیدا ہو جاتی ہے اورجسمانی خلئے اسے استعمال نہیں کرپاتے۔ اس مرض کی وجہ سے ان کے ماہانہ ایام متاثر ہوتے ہیں‘ چہروں پر بال نکل آتے ہیں اور بیضہ دانی میں انڈے پیدا ہونے کی بجائے جھلی دار تھیلی) بننا شروع ہو جاتی ہے ۔اس وجہ سے انہیں ایام میں دقت ہوتی ہے اور کمر میں دردہوتا ہے۔اس کے علاوہ حمل بھی نہیں ٹھہرتا۔ موٹاپے کی شکار خواتین بھی ان مسائل کا زیادہ شکار ہو سکتی ہیں۔

ہارمونز کے مسائل سے بچنے کے لئے لوگوں کو چاہئے کہ خود کو حتی الامکان ذہنی دبائو سے دور رکھیں اور متوازن غذا کھائیںجس میں کاربوہائیڈریٹس اور چکنائی کم جبکہ پھل اور سبزیاں زیادہ شامل ہوں۔ پھلوں کا جوس پینے کی بجائے انہیں کھانے کو ترجیح دیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر علاج کی ضرورت ہو تو بیماریوں کوجڑ سے اکھاڑپھینکنے کے بلندو بانگ دعوے کرنے والے نیم حکیموں پراعتبار نہ کریں اورہمیشہ مستند معالج سے ہی اپنا باقاعدہ علاج کرائیں۔

Hormones, female Hormones , Male  Hormones , hypogonadism, ovary

5 2 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x