لاکڑا کاکڑا

45

چکن پاکس یا لاکڑا کاکڑا ایک ایسی بیماری ہے جو ایک وائرس سے لاحق ہوتی ہے جسے ویریسیل زوزٹر( varicellazoster ) کہتے ہیں ۔ 2011ء میںجے وی آئے (Journal of Virology) میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ میں لندن یونیورسٹی کے تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ چکن پاکس ان خطوں میں زیادہ عام نہیں جہاں دھوپ زیادہ پڑتی ہے ‘ ا س لئے کہ سورج کی روشنی جلد پر چکن پاکس کے وائرس کو غیرمتحرک کردیتی ہے۔ اگرچہ ایسے میں وائرس کے لیے دوسروں تک منتقل ہونا بہت مشکل ہوجاتا ہے تاہم اس وائرس کی روک تھام میں دیگر عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ان میں درجہ حرارت، ہوا میں نمی کی شرح ، رہائش کی جگہ اور ماحول قابل ذکر ہیں ۔

مرض کی علامات
چکن پاکس کی علامات مندرجہ ذیل ہیں :
٭یہ بیماری پہلے سے متاثرہ شخص کے ساتھ ملنے جلنے ہونے کے 10سے20 دن کے بعد ہو سکتی ہے۔
٭دانے نکلنے سے پہلے ہلکا سا بخا ر ہوتا ہے۔
٭بچوں کو بڑوں کی نسبت بے چینی اور تھکاوٹ زیادہ ہوتی ہے۔
٭ دانے نکلتے ہی مریض کو خارش شروع ہو جاتی ہے اور بخار کے ساتھ بھوک بھی کم ہو جاتی ہے۔
٭سب سے پہلے دانے چھاتی،کمر یا چہرے پر نکلتے ہیں۔ اس کے بعد وہ جسم کے باقی حصوں مثلاً منہ وغیرہ پر بھی نمودار ہوجاتے ہیں۔
چکن پاکس کیسے پھیلتا ہے
لاکڑاکا کڑابہت آسانی سے اور جلدی پھیلنے والی بیماری ہے‘ اس لئے کہ اس کا وائرس مریض کے کھانسنے اور چھینکوں سے دوسروں کو لگ سکتا ہے۔اس کے پھیلنے کا اصل سبب چکن پاکس کے دانے ہوتے ہیں جن کا لمس دوسروں کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔مزیدبرآں جن بچوں کو چکن پاکس ہوجائے‘ وہ دانے نکلنے سے دو دن پہلے اور آخری دانے کے مندمل ہونے تک بیماری کے جراثیم پھیلا سکتے ہیں۔

شنگلز اور چکن پاکس میں فرق
چکن پاکس کا وائرس بعض اوقات جسم میں خوابیدہ حالت میں کافی عرصے یعنی کچھ مہینوں یا سالوں تک رہتا ہے جس کے بعد وہ جلد کے کچھ حصوں میں انفیکشن کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس کو شنگلز(shingles) کہتے ہیں۔ یہ بچوں اور بڑوں‘ دونوں کو ہوسکتا ہے مگر اس فرق کے ساتھ کہ بڑوں کو بچوں کی نسبت جلد کے ان حصوں میں درد کم ہوتا ہے۔
اس کے برعکس چکن پاکس چھوٹے دانوں کی مانند جسم پر نمودار ہوتا ہے ۔ پہلے دانے خشک اور سُرخ ہوتے ہیںاور بعد میں ان کے اندر پانی بھر جاتا ہے۔ دانے تین سے پانچ دن کے اندر پورے جسم پر نکل آتے ہیں ‘ پھر10 دن کے اندر مندمل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور ان کا رنگ گہرا سُرخ اور کالا ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات دانوں کے مندمل شدہ نشانات ایک سے دو مہینے تک رہ سکتے ہیں جس کے بعد جسم مکمل طور پر صاف ہو جاتا ہے۔

ممکنہ پیچیدگیاں
چکن پاکس ایک غیر مضر اور خود ہی ٹھیک ہو جانے والی (self limiting)بیماری ہے تاہم بعض اوقات اس میںکُچھ پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
٭ دا نوں پر خارش کی وجہ سے جلد پر بیکٹیریا کا انفیکشن ہو سکتا ہے جس سے جلد سرخ ہو جاتی ہے،اس میں درد ہوتا ہے اور دانوں میں پیپ بھی پڑ سکتی ہے۔
٭نمونیا چھاتی کا انفیکشن ہے جس سے کھانسی اور سانس لینے میں دشواری ہوسکتی ہے۔
٭ ایسے میں دماغی سوزش ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے مریض لڑکھڑا کر چلتا ہے تاہم یہ مسئلہ اس مرض کا شکار ہونے والے 5000 افراد میں سے ایک میں ہوتا ہے۔
٭ کچھ بچے احتیاط اور بروقت اور مکمل علاج نہ کروانے کے باعث جگر کی سوزش کاشکار ہوسکتے ہیں۔
مندرجہ بالا پیچیدگیاںایک سال سے کم عمر کے بچوں‘ 15 سال سے زائد عمر کے افراد یا کمزور مدافعتی نظام والے لوگوں میں زیادہ دیکھی گئی ہیں۔
احتیاطی تدابیر‘علاج معالجہ
٭ چونکہ چکن پاکس آسانی سے پھیلنے والی بیماری ہے اس لئے بچے کو تمام دانے خشک ہوجانے تک سکول بالکل نہیں بھیجنا چاہئے۔

٭ جب آپ کے بچے کو چکن پاکس ہو تو سکول میں ضرور بتائیں تاکہ وہ احتیاطی تدابیر کر سکیں۔
٭ نوزائیدہ بچے ،حاملہ ،کیموتھیراپی یاسٹیرائیڈز لینے والے افراد چکن پاکس کے مریض سے دور رہیں۔
٭جن بچوں کو لاکڑ اکاکڑا ہوتا ہے وہ عام طور پرپانچ سے سات دن تک بیمار رہ سکتے ہیں اوران میں سے صرف چند ایک کو ہی ہسپتال داخل ہونے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ دیگر افراد خود ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔
٭ مریض کا جسم چونکہ پانی والے دانوں سے بھرا ہوتا ہے اس لئے وہ بہت تکلیف میں ہوتے ہیں لیکن اگر ان دانوں پر کوئی کریم لگا دیں یا بخار کے لئے پینا ڈال کی گولی دے دیں تو وہ ٹھیک رہتے ہیں۔
٭ ایسے میں ڈسپرین دینے سے گریز کریں کیونکہ اس سے گردے متاثر ہو سکتے ہیں۔
٭ اگر رات کو خارش کی وجہ سے نیند نہ آئے توانہیںاینٹی ہسٹامین (Antishistamine) کی ایک خوراک دی جاسکتی ہے ۔
٭ چونکہ یہ ایک وائرل بیمای ہے ‘اس لئے اس میں کسی اینٹی بائیوٹک کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن خاص حالات میں ڈاکٹر کی تجویز کے مطابق اینٹی وائرل دوا دی جاسکتی ہے ۔
٭ اگر حاملہ خاتون اس کا شکار ہوگئی ہو تواس کے ہاں جنم لینے والے نوزائیدہ بچے کو بھی یہ بیماری لاحق ہوسکتی ہے۔
کرنے کے کام
٭ لاکڑا کاکڑا وائرل بیماری ہے اور وقت مقررہ پر خود ہی ٹھیک ہو جاتی ہے اس لئے نہ زیادہ پریشا ن ہوں اور نہ بچے کو زیادہ دوائیںدیں۔
٭ بچے کو پانی جوس‘ یخنی‘ شربت اور میٹھی چیزیں زیادہ دیں تاکہ اس کے جسم میں کمزوری پیدا نہ ہونے پائے۔
٭ اگر بچے کے رویے میں کوئی تبدیلی نظر آئے تو فوراً اپنے معالج سے رجوع کریں ۔
٭یاد رکھیں جن بچوں کی عمر ایک سال سے زیادہ ہو ان کو چکن پاکس کی ویکسین ضرور لگوائیں ۔
٭ چکن پاکس جب ایک بار ٹھیک ہو جائے تو عام طور پر دوبارہ نہیں ہوتا تاہم اس کے امکانات ختم نہیں ہوتے لہٰذا اس کی ویکسین ضرور لگوائیں۔
٭ چونکہ بچہ خارش کرتا ہے‘ اس لئے دانے نکلتے ہی اس کے ناخن تراش دینے چاہئیں ۔
٭ بچے کو ٹھنڈے کپڑے پہنانے چاہئیں جو جلد کے ساتھ رگڑ نہ کھائیں ۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of