• Home
  • فیچر
  • شادی کے انتخاب میں ترجیحات: چاند سی دلہن‘خوابوں کا شہزادہ

شادی کے انتخاب میں ترجیحات: چاند سی دلہن‘خوابوں کا شہزادہ

84

جیون ساتھی کا انتخاب زندگی کا اہم ترین فیصلہ ہوتا ہے ‘ اس لئے کہ نہ صرف باقی زندگی اس کے ساتھ گزارنا ہوتی ہے بلکہ اس کے اثرات نسلوں تک جاتے ہیں۔ اس لئے شریک حیات چننے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس سلسلے میں لوگوں کی ترجیحات میں فرق ہوتاہے جو ایک فطری امر ہے۔اس حوالے سے ہر ایک کا اپنا معیار ہے جس کے پورا ہونے پر ہی کسی کو زندگی میں شامل کیا جاتا ہے۔
ہمارے ہاں شادی صرف لڑکے اورلڑکی کا ہی معاملہ نہیں بلکہ یہ دو خاندانوں کے درمیان تعلق قائم ہونے کی بات ہے۔ہمارے ہاں محبت کی شادی(اپنی پسند) اور ارینجڈمیرج(والدین کی پسند) دونوں کا رواج شانہ بشانہ چل رہا ہے۔

اگر ہم لڑکے کی نظر سے جیون ساتھی کے انتخاب کی بات کریں تو لوگوں کی بڑی تعداد یہ چاہتی ہے کہ لڑکی بہت خوبصورت ،تعلیم یافتہ اور کھاتے پیتے گھرانے کی ہو۔ اس سوچ کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ رشتے کی تلاش شروع کرتے ہیں اورایسا بہت کم ہوتا ہے کہ انہیں اپنے معیار کے مطابق زندگی کا ساتھی فوراً مل جائے ۔ایسے میں وہ اپنے کچھ معیارات پر سمجھوتا کر لیتے ہیں جو حقیقت پسندانہ اپروچ ہے۔
دوسری جانب لڑکیوں کے خوابوں کے شہزادے کی ممکنہ خصوصیات کی فہرست بھی بہت طویل ہے۔ اس میں بالعموم لڑکے کو ملازمت ، پیسہ، گھر، تعلیم اور شکل وصورت کے معیارات پر پرکھا جاتا ہے۔اگر یہ تمام خصوصیات پائی جائیں تو رشتے کوقبول کر لیا جاتا ہے ورنہ یہ کوشش ایک پھر جاری ہوجاتی ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اچھے رشتوں کی تلاش میںلوگ اپنی رہائش تبدیل کرلیتے ہیں تاکہ ان کے معیارزندگی اوررہن سہن کو دیکھتے ہوئے لڑکی کا رشتہ بڑے گھرمیں ہو جائے۔عام مشاہدے کی بات ہے کہ آئیڈیل کی تلاش میں لڑکیوں کی عمریں زیادہ ہو جاتی ہیں اورپھر انہیں اپنے معیارات پرایسے سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں جن پر وہ عام حالات میں کبھی تیار نہ ہوتیں۔

بسا اوقات لڑکی چاہتی ہے کہ لڑکابھلے عمر میں دوگنا ہو مگر پیسے والا ہونا چاہیے۔اس صورت حال میں صرف پیسہ ہی اہم ہوتا ہے اور ایک دوسرے کو سمجھنا،پیارمحبت،توجہ اورایک دوسرے کے لئے وقت کی اہمیت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔اس سے شادی کے بعدان کے تعلقات پر برا اثر پڑتا ہے اور نوبت طلاق یا خلع تک جا پہنچتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ محبت کی شادی میں لڑکا لڑکی محض جذبات کی رو میں نہ بہہ جائیں بلکہ حقیقت پسندانہ انداز میں معاملے کا جائزہ لیں ۔ دوسری طرف والدین اپنے بچوں کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہوئے ان کی پسندناپسندکا خیا ل بھی رکھیں ۔اپنے معیارات اتنے بلند نہ رکھیں کہ کوئی اس پر پوراہی نہ اترسکے۔ہر انسا ن میں خوبیاں اور خامیاں پائی جاتی ہیں ۔ اچھی سوچ اورپیارمحبت کے ساتھ خامیوں کو سدھارا جاسکتا ہے لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب رویوں میں لچک اور گنجائش ہوگی۔

فلموں ،ڈراموںاور ناولوں نے ایسا ماحول پیدا کردیا ہے کہ چاند سی دلہن اور شہزادے کی تلاش ہی لوگوں کامقصد حیات ٹھہرا ہے۔ایسے میں بعض لوگوںکی عمریں انتظار میں گزرجاتی ہیں جبکہ کچھ شادی تو کر لیتے ہیں لیکن ان کے درمیان نباہ نہیں ہوپاتا۔ کامیاب ازدواجی زندگی کے لئے ہمیں چاہئے کہ ظاہری نمودونمائش سے پچیں،شادی کے انتخاب میں حقیقت پسندانہ معیارات کو اپنائیں اوراس سلسلے میں مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x