بیٹھنے کے غلط انداز کہیں بھٹا نہ بٹھا دیں

189

دنیا بھر میں کمر میں درد کی شکایت اتنی زیادہ ہے کہ ماہرین لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک وہ جنہیں کبھی نہ کبھی کمر میں درد کی شکایت ہوئی اور دوسرے وہ، جنہیں یہ ابھی ہونی ہے ۔ اس کا ایک بڑا سبب اٹھنے بیٹھنے کے غلط انداز ہیں۔زیر نظر مضمون میں فزیکل تھراپسٹ سامیہ ریاض نے معاملے کاتفصیل سے جائزہ لینے کی کوشش کی ہے


”سیدھے بیٹھ جاو اور ادھر ادھر مت جھکو۔“
ہم میں سے اکثر نے سکول کے زمانے میں اپنے اساتذہ سے اس قسم کے احکامات سن رکھے ہیں۔ لیکن اکثریت نہیں جانتی کہ بغیر جھکے سیدھے ہو کر بیٹھنا ہمارے پٹھوں کی صحت کے لئے کس قدر ضروری ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی نے جہاں زندگی میں آسانیاں پیدا کر دی ہیں ‘وہیں صحت سے متعلق مسائل کو بڑھا بھی دیاہے۔ لوگوں کی اکثریت کا طرز زندگی ایسا ہے جس میں ان کی روٹین صبح نو سے شام پانچ کی دفتری نوکری یا کاروبار تک محدود ہو کررہ گئی ہے۔ایسے میں انہیں پیدل چلنے کے مواقع بہت کم ملتے ہیں اور دن بھر ایک سیٹ پر بیٹھے بیٹھے ہی تمام کام نمٹا دیا جاتا ہے۔
اس روٹین میں ذہنی کاوشیں تو زیادہ ہیں مگر جسمانی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہےں۔متحرک نہ رہنے صرف موٹاپا ہی جنم نہیں لیتا (جوکئی بیماریوں کی جڑ ہے) بلکہ دن بھرغلط انداز میں بیٹھے رہنے سے جسمانی ساخت بھی متاثر ہوتی ہے۔ یہ جسم کو غیر متوازن کر دیتی ہے۔ مزید برآں بیٹھنے کے غلط طورطریقوں کی وجہ سے ہم جلدی تھک جاتے ہیں اور ہمیںکمر میں درد جیسے مسائل کا سا منا بھی کرنا پڑتا ہے۔
کمپیوٹر یا میز کی طرف جھکا ہواسر اور خم دار مڑی ہوئی کمرکی پوزیشن نہ صرف کمر اور گردن کے پٹھوں کے کھچاﺅ کا سبب بنتی ہے بلکہ اس سے صحت کے دیگر مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔ نظر کی کمزوری، چھوٹی سانسیں، سست نظام انہضام، ذہنی اور جسمانی تھکاوٹ، کمر کا درد اور کندھوں، گردن اور کلائی پر دباﺅ وغیرہ اس کی کچھ مثالیں ہیں۔
بیٹھنے کے لئے درست انداز کی اہمیت دفتر تک محدود نہیں ہے‘۔ گاڑی ڈرائیو کرنے‘ کسی کے گھر جا کر ملنے ملانے‘ باہر کھانے یا کسی اور غرض سے جانا ہو‘ہر جگہ بیٹھتے ہوئے درست انداز کا علم ہونا اور اسے اپناناضروری ہے۔
آپ کے بیٹھنے کا ڈھیلا ڈھالا طریقہ دیکھنے والوں کو بھی آپ میںاعتماد کی کمی اور سست مزاجی کا تاثر دیتا ہے۔ اس کے برعکس بیٹھنے کے درست طریقے کے ساتھ آپ دوسروں کو زیادہ پراعتمادہونے اور چست مزاجی کا تاثر دیتے ہیں۔ لمبے عرصے تک اس اسی انداز میں بیٹھے رہنا آپ کی جسمانی ساخت کو بھی خراب کر دیتا ہے۔
بیٹھنے کے درست انداز
بیٹھتے ہوئے درج ذیل امور کا خیال ضروری ہے : ٭ بیٹھتے ہوئے آپ کا سر بالکل سیدھا ہو۔ یہ نہ تو آگے کی طرف جھکاﺅ ہوا ہواور نہ نیچے کی طرف۔
٭آپ کے گھٹنے آپ کے کولہوں کے متوازی نہ ہوں بلکہ تھوڑے سے نیچے ہوں۔
٭ آپ کے کندھے پیچھے کی جانب اور ڈھیلے ہوں۔
٭آپ کے پاﺅں زمین کے ساتھ لگے ہوں۔
٭ بیٹھتے وقت کرسی کا سہارا استعمال کریں۔ دفتری میز پر اپنے ہاتھوں کو آرام دہ حالت میں رکھیں اوراپنے بازوں کو کرسی کے نیچے تک نہ لے جائیں۔ بازوﺅں کو بغیر سہارا دئے ہوئے کام نہ کریں۔ اپنی کمر کو بندوق کے گز کی طرح سیدھی رکھنے کی کوشش کریں۔
٭ بیٹھتے ہوئے اپنی ٹانگوں کو ایک دوسرے پر یا گھٹنوں کے اوپر نہ رکھیں۔ اس سے خون کی گردش متاثر ہوتی ہے۔
٭اپنے پیروں کو زمین پر سیدھا رکھیں اورانہیں حرکت دیتے رہیں۔اس عادت کو فوری طور پر اپنانا قدرے مشکل ہے مگر آپ اسے ہر 30منٹ میں پانچ منٹ کی مشق کے ساتھ باآسانی اپنی روٹین کا حصہ بنا سکتے ہیں۔

 

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x