لڑکیاں کیوں نہ کھیلیں

139

”سارہ جا رہی ہے …۔ دیکھیں، کرکٹ اس کی زندگی ہے ۔ کھیلنے دیں اسے۔“
ماں چاہتی ہے کہ اس کی بچی کا والد اپنی بیٹی کو قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کے لئے منعقد ہونے والے مقابلے میں شرکت کی اجازت دے ۔جواب میں نظر کا چشمہ پہنے ادھیڑ عمر کے ایک مضبوط شخص کی دھیمی مگر پرعزم آواز بلندہوتی ہے:
”میں نے کہا ناں کہ لڑکیاں کرکٹ نہیں کھیلتیں…“ ماں چپ چاپ باہر آجاتی ہے۔

اور پھر لڑکی اپنے باپ سے اجازت لئے بغیر روانہ ہونے کے لئے اپنی کِٹ اٹھاتی ہے۔ اس کی ماں اس سے کہتی ہے کہ اپنے باپ سے ایک دفعہ بات کر لے لیکن جواب میں وہ کہتی ہے :
”ابو سے بات نہیں کی جا سکتی، صرف سنی جا سکتی ہے…“ اور پھر روانہ ہو جاتی ہے۔
آخری سِین یہ ہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیموں میں ایک میچ ہو رہا ہے۔ آخری گیند بچی ہے اور آسٹریلیاکو یہ میچ جیتنے کے لئے صرف دو رنز درکار ہےں۔ سارہ بال کراتی ہے اور آسٹریلین کھلاڑی کو بولڈ کر دیتی ہے۔ سب خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں اور اسے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں۔ ماں بہت خوش ہوتی ہے۔ باپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آجاتے ہیں اور وہ بھی اپنی بیٹی کو کال کرکے اسے مبارکباد دیتا ہے۔
ٹی وی پر ایک موبائل کمپنی کایہ اشتہار دیکھ کر دادی ماں بھڑک اٹھیں:
” یہ کیسا اشتہار ہے ۔ لڑکیوں کوبتایا جا رہا ہے کہ بڑے جاہل ہیں۔ انہیں اس بات پر ابھارا جا رہا ہے کہ گھروں سے باہر نکلنے کے لئے بڑوں کی اجازت کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایسے اشتہارات دیکھ کر ہی تو شہلا کو ہمت ہوتی ہے بڑوں کے سامنے نہ کرنے کی۔… لیکن میں اپنے گھر میں ایسا ہرگزنہیں ہونے دوں گی۔“
”دادی، مان جائیں ناں پلیز!“ شہلا نے منہ بسورا۔

”نہےں نہےں نہےں…اےسا نہےں ہو سکتا۔مےں نے جو کہہ دےا‘ سو کہہ دےا۔ ہمارے خاندان مےں پہلے کبھی اےسا ہوا‘ نہ آئندہ کبھی ہو گا۔ ٹھےک ہے‘ لڑکیوں کو آزادی ہونی چاہئے لےکن اتنی آزادی بھی اچھی نہےں ہوتی۔ “ دادی اماں نے فےصلہ کن انداز مےںجواب دیا۔
”اری ‘روشن آرائ! کیا ہورہا ہے‘گھر مےں اتناشور کیوں مچا ہے‘بھئی خےر تو ہے‘ےہاں تو مےدانِ جنگ کاماحول لگتا ہے؟“دادا جی اچانک گھر مےں داخل ہوئے تو صحن مےں دادی اماں‘شہلا اور ابو کسی بات پر بحث وتکرارمےں مصروف تھے۔

”دےکھ لیا اپنی لاڈلی کو…“دادی اماں نے داداجی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”مےں تو پہلے دن سے لڑکیوں کی پڑھائی کے حق مےں نہےں تھی۔ وہ تو مےں تو بہو کی ضد کے آگے خاموش ہو گئی تھی‘ لےکن مجھے پتہ تھا کہ اےک دن ےہ ہو کر رہے گا۔“ دادی کاپارہ تھا کہ اترنے کا نام ہی نہ لے رہا تھا۔
”ارے کوئی بتائے تو سہی کہ ہوا کیا ہے…؟ دادا جی کے پلے کچھ نہ پڑ رہاتھا۔
” بات ےہ ہے کہ …“ شہلا کی امی نے تمہید باندھنا شروع کی۔
”مےں بتاتی ہوں کہ بات کیا ہے۔“ دادی اماں نے سخت لہجے مےں شہلاکی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:”ےہ صاحبزادی اب سکول کی کھےلوں مےں حصہ لےنا چاہتی ہےں اور بہو کہہ رہی ہےں کہ اس مےں حرج ہی کیا ہے۔“

” اوہو!اسے کہتے ہےں’کھودا پہاڑ‘نکلا چوہا“‘ دادا جی نے گہرا سانس لےتے ہوئے کہا۔
” داداجی! چوہا نہےں‘ چوہیا“ ببلو نے چٹکلا چھوڑا:”اس لئے کہ معاملہ شہلا کا ہے۔“
”خاموش!“ ماں نے ببلو کو ڈانٹا:”تمہےں معلوم نہےں کہ کتنی سنجیدہ بات ہو رہی ہے۔“
” تو کےا آپ کےلئے ےہ کوئی بات ہی نہےں؟“ دادی نے عجیب نظروں سے داداجی کو دےکھا۔
”روشنی! تو ہی بتا کہ تجھے اس پر اعتراض کیا ہے؟“ داداجی نے دادی کو مخاطب کیا۔
” کوئی اےک ہو تو بتاﺅں ناں…۔مےرا پہلا اعتراض تو ےہ ہے کہ اچھل کود اور دوڑبھاگ لڑکوں کے کام ہوتے ہےں‘ لڑکیوں کے نہےں۔ لڑکیوں کو نچلا بےٹھنا چاہئے اورگھرداری سےکھنی چاہئے۔ دوسری بات ےہ ہے برادری والے باتےں بنائےں گے کہ لڑکی ماڈرن ہو گئی ہے۔ بھلا ہمارے خاندان کی لڑکیوں نے کبھی اس طرح کے کام کئے ہےں جو شہلا کرنے جا رہی ہے۔ اس طرح تو ہماری ناک کَٹ جائے گی۔ آخری بات ےہ ہے کہ اس کی پڑھائی کابھی حرج ہوگا۔“
”ہاں بھئی! کچھ اعتراضات تو بجاہےں…“ داداجی نے شہلا کی طرف دےکھ کر کہا۔
”داداجی! پلےز‘ آپ تو مان جائےں۔ “ شہلا کو اپنی آخری امےد بھی دم توڑتی نظر آئی :
”مےں وعدہ کرتی ہوں کہ کوئی اےسا کام نہےں کروں گی جس سے آپ کی عزت اور وقارپر حرف آئے ۔ مےں آپ کوپڑھائی کے حوالے سے شکاےت کا موقع کبھی نہےںدوں گی۔اگر اےسا ہوا تو بےشک مجھے سکول سے اٹھوا لیجئے گا۔“ آخری جملہ بولتے ہوئے اس کی آنکھےں بھر آئےں۔
”نہےں پُترنہےں! اےسا نہےں کہتے۔“ دادا جی کی آنکھوں مےںبھی نمی آگئی :”آخر آپ لوگوں کو ہو کیا گےا ہے؟ آپ سب بات کا بتنگڑکیوں بنا رہے ہےں؟“انہوں نے سب کی طرف دےکھتے ہوئے کہا: ”آزادی ذمہ داری کے ساتھ ملتی ہے اور میری بچی غےرذمہ دار نہےں ہے۔ رہی خاندان کی بات ‘تو اسے مےںسنبھال لوں گا۔“ دادا جی کا بھی پارہ چڑھ گیا۔
”لےکن اس کا فائدہ کیا ہے؟“ دادی نے دادا کی طرف سوالےہ نظروں سے دےکھا
شہلا اپنے سکول کے اندر صرف دوڑ مےں حصہ لےنا چاہتی ہے۔ مےری نظر مےں اس کے فائدے ہی فائدے ہےں اور نقصان کوئی بھی نہےں۔“ داداجی نے کہا۔
” اس کا کیا فائدہ ہے ؟ ذرا ہم بھی تو سنےں!“ دادی نے آنکھےں جھپکائےں۔

”سب جانتے ہےں کہ بڑھاپے مےں ہماری ہڈےاں کمزور ہوکر بھربھری ہو جاتی ہےں۔ روشن آراءبےگم! تمہےںےہ بھی پتا ہے کہ عورتوں مےں اس بیماری کی شرح زےادہ ہے‘ اس لئے کہ زندگی کے مختلف مراحل مےں ان کا کےلشیم زےادہ ضائع ہوتا ہے۔ نوجوانی مےں جن لڑکیوں کی ہڈےاں مضبوط ہوتی ہےں‘بڑھاپے مےں وہ اس مرض سے بچی رہتی ہےں۔ جسمانی کھےلوں اور دوڑدھوپ سے ہڈےاں مضبوط ہوتی ہےں‘ لہٰذا ےہ کھےلےں لڑکیوں کےلئے بھی ضروری ہےں۔“
”لےکن ہمےں تو اےسا مسئلہ کبھی نہےں ہوا؟“ دادی نے سوال اٹھاےا۔
”تم تو ہر روز صبح سوےرے چکی پےستی تھیں‘ سرپردو دو گھڑے رکھ کرکئی کئی فرلانگ دور کنوےں سے پانی لاتی تھیں ‘ تالاب پر کپڑے دھونے جاتی تھیں اورکپڑوں کو کوٹ کوٹ کر ان سے مےل نکالتی تھیں اور گھر کے سارے کام کرتی تھیں…جانتی ہوکہ آج اےسا کچھ نہےں ہے۔ لڑکیوں کےلئے جم ےا پارک مےں جا کر ورزش کرنا ذرا مشکل ہے اور اگر شہلا کوسکول مےں موقع مل رہا ہے تو ہمےںاسے ضائع نہےں کرنا چاہئے۔ “ دادا جی نے لمبی چوڑی تقرےرکر ڈالی۔

دادا جی نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا: ”تھوڑی بہت ورزش ےا کھےل سے جسم کامدافعتی نظام مضبوط ہوتاہے۔ ا س سے جسم مےں اےسے مادے زےادہ مقدار مےںپےدا ہوتے ہےں جو بےمارےوں سے لڑ سکتے ہےں‘ لہٰذا کھےل ےا ورزش کرنے والے لوگ مختلف بیمارےوں کا مقابلہ بہتر طور پر کر سکتے ہےں۔“
”اچھا دادا جی! ےہ تو مجھے معلوم نہےں تھا۔“ ببلو پکارا۔
”جی ہاںپتر!اےسا ہی ہے“ دادا جی نے اسے چمکارا۔
”دادا جی‘ مےں اچھی بھی تولگوں گی!“ شہلا نے بھی ماحول بدلتے دےکھ کر حوصلہ پکڑا۔
”جی ہاں !بڑی عمر کی عورتوں مےںموٹاپا تےزی سے بڑھ رہا ہے جبکہ آج کل کی لڑکیوں مےں دبلا ہونے کاشوق جنون کی حد تک بڑھ گیا ہے اور تمہےں اچھی طرح سے علم ہے کہ وہ اس کےلئے کیا کچھ کررہی ہےں۔“ دادا جی نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔

”دادا جی! مےری بہت سی فرےنڈز ڈائٹنگ کررہی ہےں۔ وہ سارا سارا دن کچھ نہےں کھاتیں اور صرف چائے پر گزارا کرتی ہےں۔بعض اوقات وہ عجےب و غرےب قسم کی دوائےںبھی کھاتی ہےں۔ مےری اےک دوست نے دبلا ہونے کےلئے کوئی اےسی دوا کھائی جس کی وجہ سے اب اس کے جسم میں خون نہےںبن پاتا۔ اب تووہ ہڈےوں کا ڈھانچہ بن کر رہ گئی ہے۔“ شہلا نے بتاےا۔
”پتر! صحت مند طور پر وزن گھٹانے کا فطری طرےقہ ےہی ہے کہ آپ مناسب مقدار مےں متوازن غذا کھائےں اور جسمانی سرگرمیاں بڑھائےں۔اس کےلئے آپ گھر مےں ےا شام کو گلی مےں چہل قدمی بھی کر سکتی ہےں۔جو بچےاں اس طرح کی سرگرمےاں کرتی ہےں‘ وہ موٹاپے کا شکار نہےں ہوتےںاور بڑی عمر مےںپہنچ کر ہائی بلڈپرےشر‘ ذےابےطس اور چھاتی کے سرطان وغےرہ سے بھی بچی رہتی ہےں۔ “ دادا جی نے وضاحت کی۔
” داداجی! لےکن پڑھائی پر منفی اثربھی تو ہوتا ہے !“ ببلو نے کہا۔

” نہےں بےٹا!ماہرےن بتاتے ہےں کہ جو لڑکیاں کھےلوں مےںحصہ لیتی ہےں‘ ان کی تعلیمی کارکردگی باقی بچےوں سے بہتر رہتی ہے‘ اس لئے کہ وہ زےادہ صحت مند اور تازہ دم ہوتی ہےں۔ ورزش اور جسمانی کھےلوں سے ےادداشت‘ سےکھنے اور توجہ مرکوزکرنے کی صلاحیت بھی بہتر ہوتی ہے۔ لہٰذا اےسی لڑکیاں کلاس مےںبہتر کارکردگی کھاتی ہےں۔“
”اچھا!“ شہلا بھی چونکی۔
”اےسی لڑکیاں زندگی مےں زےادہ پراعتماد ہوتی ہےں اور ذہنی دباﺅ کامقابلہ بہتر انداز سے کر تی ہےں۔ عملی زندگی مےں تےن چےزےں بڑی اہم ہےں۔ پہلی اپنے اہداف کا تعےن‘ دوسری ان کے حصول کےلئے حکمت عملی بنانااور تےسری بہترےن کارکردگی دکھانا۔ ان تےنوں کی تربےت کھےلوں کے دوران بہت اچھے طرےقے سے ملتی ہے ۔اس سے ہم مل جل کر کام کرنا بھی سےکھتے ہےں۔“
”تو دادا جی…!کیا مےںاب کھےلوں مےں حصہ لے سکتی ہوں؟“
”جی ہاں! لےکن اس کےلئے تمہےں دو شرائط مانناپڑےں گی۔“ دادا جی بولے
”وہ کیا دادا جی؟“ شہلا فکرمند ہو گئی۔
” پہلی ےہ کہ تم ہمےں شکاےت کا موقع نہےں دو گی۔اور دوسری ےہ کہ …“
”دوسری کےا دادا جی“ شہلا بے تاب ہو رہی تھی۔
”بےٹا! برکت انہی کاموں مےں ہوتی ہے جن مےں بڑوں کی رضامندگی بھی شامل ہو۔ بزرگ جو کہتے ہےں‘ اس کے پےچھے ان کا تجربہ بولتا ہے۔ بعض اوقات انہےںنئی باتوں کا علم نہےں ہوتا‘ تاہم انہےںاچھے طرےقے سے بات بتائی جائے تو وہ سمجھ بھی جاتے ہےں اور مان بھی لےتے ہےں۔لہٰذا تمہےں اپنی دادی اماں کو مناناہی ہوگا۔“
”دادی پلیز…!“ شہلا نے دونوںہاتھ جوڑ دئےے۔
”ہاں ٹھےک ہے ۔ لےکن اےک شرط مےری بھی ہے۔“ دادی اماں بھی بولےں۔
”دادی آپ حکم کرےں حکم!“ شہلا سب کچھ ماننے کو تےار تھی۔
”تم گھر کے کام کاج مےں اپنی ماں کا ہاتھ بٹاﺅ گی اور کھانا پکانا بھی جلد سےکھو گی۔“ دادی اماں نے شہلا کی طرف دےکھا۔
”ضرور دادی ماں ضرور!آپ بہت اچھی ہےں۔“ شہلا نے لپک کر دادی کو اپنے بازوﺅں مےں لے لیا ۔ سب اس کی خوشی اور والہانہ پن دےکھ کر ہنس پڑے۔