ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

160

    شفانیوز انٹرنیشنل کا تازہ شمارہ نئے قارئین کے لئے تو نیا ہے ہی‘ پرانے قارئین کے لئے بھی اپنے اندر ایک نیا پن لئے ہوئے ہے ۔ اس کا سرورق انگریزی رسم الخط میں تحریرشدہ پیشانی کے ساتھ میگزین کے بائیں طر ف ہوا کرتا تھا لیکن اب وہ اردو رسم الخط میں پیشانی کے ساتھ دائیں طرف ہے ۔میگزین کے اندر اردوکے صفحات بڑھ گئے ہیں جبکہ انگریزی حصے کے صفحات کم ہو کر ”کورسٹوری“ اورڈاکٹر کے ساتھ انٹرویو تک محدود ہوگئے ہیں۔”شفا ست رنگ“ کے نام سے رنگین صفحات بھی اس کا حصہ بنا دئیے گئے ہیں جن کا بڑا حصہ مزیدار کھانے پکانے کی تراکیب پر مشتمل ہے ۔
جو لوگ شفانیوز میں ”قارئین کی آرائ“ کے نام سے کالم باقاعدگی سے پڑھتے ہیں‘ ان کے علم میں یہ بات ہو گی کہ قارئین کی طرف سے وقتاًفوقتاً یہ مطالبہ سامنے آتا رہتا تھا کہ میگزین میں اردو کے صفحات بڑھائے جائیں۔کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ انگریزی دان طبقہ بالعموم اردومیں شائع شدہ مضامین اچھی طرح پڑھ اور سمجھ لیتا ہے لیکن اردو قارئین کی بڑی تعداد انگریزی زبان میں اس سطح کی شد بد نہیں رکھتی کہ ان صفحات میں شائع شدہ مضامین سے کماحقہ فائدہ اٹھا سکے ۔یوں میگزین کا تقریباً ایک تہائی حصہ ان کے لئے بیکار جاتا ہے ۔بعض قارئین کی رائے تھی کہ انگریزی مضامین کا اردو میں ترجمہ شائع کیا جائے۔ایک تجویز یہ بھی تھی کہ انگریزی اور اردو میںالگ الگ میگزین شائع کئے جائیں۔ان سے ملتی جلتی کچھ اور تجاویز بھی قارئین کی طرف سے دی جاتی رہیں۔
اسی کالم میں آپ کو یہ بھی پڑھنے کو ملا ہوگا کہ قارئین کو میگزین کی یہ بات بہت پسند ہے کہ اس میں ان کی آراءکو صرف شائع ہی نہیں کیا جاتا بلکہ اہمیت بھی دی جاتی ہے اور موضوعات کے انتخاب میں ان کی ضرورت کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ قارئین کے مطالبے پر ادارے کی طرف سے اکثر وبیشتر یہ بات کہی جاتی رہی کہ اس پر غوروفکر جاری ہے اور مناسب وقت پر ہی اس کا فیصلہ کیا جائے گا۔ بڑے فیصلے عجلت میں نہیں کئے جانے چاہئیں‘اس لئے کہ ایسے میں کئی اہم پہلو نظرانداز ہو جاتے ہیں۔ادارے نے قارئین کی تمام آراءکو سنجیدگی سے لیااور ان کے تمام پہلوﺅں کاجائزہ لیا۔اس کے ساتھ ساتھ ان معاملات کو بھی بغور دیکھا جوبالعموم قارئین کی نظر وںسے اوجھل رہتے ہیں لیکن اپنی نوعیت کے اعتبار سے بہت اہم ہوتے ہیں ۔اس کے بعد جو فیصلہ ہوا‘ اس کی عملی صورت آپ کے سامنے ہے ۔
جب اردو اور نگریزی صفحات الگ الگ تھے تو بہت سے سیگمنٹس ایسے تھے جو دونوں طرف شائع ہوتے تھے جس کی وجہ سے موضوعات میں ورائٹی ذرا کم تھی ۔ نئی صورت حال میں کچھ نئے سیگمنٹس کی گنجائش پیدا ہو گئی ہے لہٰذا اب آپ کو اس میں زیادہ ورائٹی ملے گی ۔ ”کچن اور صحت“ کے نام سے سیگمنٹ میں گھریلو خواتین کوباورچی خانے میں استعمال ہونے والے آلات ،ان کے محفوظ استعمال اوردیکھ بھال کے طریقے بتائے جائیں گے ۔ صحت چونکہ ہسپتال سے نہیں بلکہ گھر سے شروع ہوتی ہے لہٰذا ”گھرداری“کے نام سے سیگمنٹ میں آپ اپنے گھر کو خوبصورت ‘ صحت بخش اور پرسکون بنانا سیکھیں گے۔”پودے اور صحت“ کے عنوان سے سیگمنٹ میں ایسے گھریلو پودوں کے بارے میں بتایا جائے گا جو نہ صرف گھر کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ کسی نہ کسی حوالے سے ہماری ذہنی اورجسمانی صحت کے ساتھ بھی جڑے ہیں۔”دیس پردیس“ نامی سیگمنٹ میں دیگر ملکوں کے تعارف‘ رہن سہن‘ صحت عامہ کی صورت حال اور نگہداشت صحت پر روشنی ڈالی جائے گی۔”ڈیجیٹل معلومات“ میں صحت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی پربات ہوگی، ”لیبارٹری ٹیسٹ“ میں مخصوص ٹیسٹوں کی افادیت اور انہیں پڑھنے کاطریقہ بتایاجائے گااور ”کھیل اور صحت“ میں ہر ماہ کسی ایک کھیل کے بارے میں راہنمائی فراہم کی جائے گی ۔مستقبل قریب میں ایک اور سیگمنٹ شروع کیا جائے گا جس میں پالتو جانوروں اور پرندوں کی دیکھ بھال اورانسانی صحت کے ساتھ ان کے تعلق پر گفتگو کی جائے گی۔
زندگی ایک سفرکا نام ہے جسے شفا نیوز نے جون2000ءمیں شروع کیا ۔یوں اس سال وہ اپنی بلاتعطل اشاعت کے 17سال مکمل کر چکاہے ۔اس دوران اس میں متعدد تبدیلیاں آئیںجو آپ ہی کی آراءکی بنیاد پراور انہی کی روشنی میں کی گئیں۔امید ہے کہ نئی شکل میں آپ کو اپنامیگزین پسند آئے گا اور آپ پہلے کی طرح‘ بلکہ اس سے زیادہ دلجمعی کے ساتھ اس سے وابستہ رہیں گے ۔