نیم : ماحول دوست پودا

187

درخت اور انسان کا تعلق بہت پرانا اور ابدی ہے۔ابتدائی زمانے کا انسان اس کے پتوں سے اپنا تن ڈھانپتا‘ اس کے پھل کھاتا اور اسی کی مدد سے اپنی بیماری کا علاج بھی کرتا تھا۔کئی درختوں کی چھال اور پتوں پر سائنسی تحقیق کے نتیجے میں آج کی بہت سی جدید ادویات سامنے آئیں۔ نیم بھی ایک ایسا ہی درخت ہے جسے اپنی حیرت انگیز مسیحانہ خصوصیات کی بناپر’’ گھر کا حکیم‘‘ کہاجاتا ہے۔ بیسیوں امراض میں مفید اس درخت کو’’ معجزاتی درخت‘‘ کا نام بھی دیا گیا ہے جبکہ سنسکرت میں اس کے لئے جو لفظ استعمال ہوتا ہے‘ اس کا اردو ترجمہ ’’ تمام امراض کا علاج‘‘ ہے ۔

نیم بر صغیر کا اپناپودا ہے اوریہ کہیں باہرسے نہیں آیا۔ اس کے طبی فوائد بہت زیادہ ہیں۔یہ نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ اس سے کچھ کیمیائی مادے اخذ کر کے مختلف مصنوعات بھی بنائی جاتی ہیں ۔

پہلے زمانے میں جب ٹوتھ پِکس نہیں ہوتے تھے تو نیم کی باریک شاخیں توڑ کر باندھی جاتیں اور پھرا ن کو گلدستے کی شکل میں کمرے میں رکھاجاتا اور کھانے کے بعد اس سے خلال کیاجاتا تھا۔ بچیاں جب کان چھدواتیں تو ان سوراخوں میں نیم کے تنکے ڈالے جاتے جس کی وجہ سے کان میں انفیکشن نہیں ہوتا تھا۔ اناج کو کیڑے مکوڑوں اور سُسری (بھورے رنگ کا کیڑاسے محفوظ رکھنے کے لئے اناج کی بوریوں میں نیم کے پتے سکھا کر رکھ دیئے جاتے ۔
گھر میں اگانے کا طریقہ

آب و ہوا
نیم کی کاشت کے لئے مرطوب و معتدل آب و ہوا سود مند ہے۔اس کا قد 20سے25فٹ اور تنے کی چوڑائی 2سے3میٹر تک ہوسکتی ہے۔اس کی جڑیں کافی گہری ہوتی ہیں جن کے باعث یہ اپنی پانی کی ضروریات بہتر انداز میں پوری کرتا رہتا ہے۔یہ پودا 50سنٹی گریڈ درجہ حرارت برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس کے لئے سردی برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے اور کورا توبالکل برداشت نہیں کرپاتا۔یہی وجہ ہے کہ یہ پوداٹھنڈے علاقوں میں نہیں لگایا جاسکتا ہے ، لہٰذا راولپنڈی اور اسلام آباد کا موسم اس کے لئے موافق نہیں ۔

زمین کی تیاری
یہ مختلف اقسام کی مٹی میں باآسانی کاشت کیا جاسکتا ہے تاہم ہ جن علاقوں میں کپاس کاشت ہوتی ہے ‘وہ سیاہ زمینیں اس کی کاشت کے لئے بہترین سمجھی جاتی ہیں۔ جن علاقوں میں کورا نہیں پڑتا وہاں کی پتھریلی زمینوں میں بھی اسے باآسانی لگایا جاسکتا ہے ۔جہلم یا بلوچستان کے کچھ علاقے اس کے لئے موزوں ہیں۔
قدرت نے اس کی جڑوں میں یہ خاص صلاحیت رکھی ہے کہ وہ زمین کی تیزابیت کوچوس کر اس کی زرخیزی میں اضافہ کرتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں زمین میں کاشت کے لئے تما م غذائی اجزاء مہیا ہوجاتے ہیں۔اس کی کاشت فصلوں کی طرح کی جاتی ہے۔پہلے زمین میں حل چلاتے ہیں ،غیر ضروری جڑی بوٹیوں کو تلف کرتے ہیں اور پھر بیچ ڈالنے کے لئے مناسب فاصلے پر گڑھے بنائے جاتے ہیں۔

لگانے کا طریقہ
نیم کی افزائش بیج سے کی جاتی ہے ۔اس پر لگنے والا پھل بھی کھایا جاتا ہے جس کا ذائقہ میٹھے اورکڑواہٹ کا امتزاج ہوتا ہے ۔اس کے پھل کو نبولی کہا جاتا ہے جس کے اندر اس کا بیج موجود ہوتا ہے۔ یہ مختلف علاقوں میں مختلف درجہ حرارت میں پکتا ہے۔ عموماًگرمیوں کے وسط میں اس پر پھول آجاتے ہیں اورگرمیوں کے آخر میں یہ پھل دینے لگتا ہے ۔
ابتدا میں اس کا بیج سبز رنگ کا اور گودا سخت ہوتا ہے ۔جب اس پر پھل لگتا ہے تو وہ پیلا اور گودا نرم ہوجاتا ہے ۔ یہی پھل کے پکنے اور بیج کے تیار ہونے کی نشانی ہے ۔بیج ہمیشہ تازہ لگانا چاہئے اور اگر خشک یا پرانا بیج ہو تو پہلے 24گھنٹے اسے پانی میں بھگو دینا چاہئے ‘پھر مٹی میں لگانا چاہئے۔ اس کے تازہ بیج کی نمو سات دنوں میں ہوجاتی ہے۔

پنیری تیار کرنے کا طریقہ
خاص درجہ حرارت پر اور خاص ماحول میں خاص قد کے تیار پودوں کو پنیری کہا جاتا ہے۔انہیں خاص جسامت تک پہنچنے کے بعد کسی بھی کیاری یا گملے میں آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔

صحت مند میڈیم
صحت مند میڈیم کی تعریف یہ ہے کہ وہ غذائیت سے بھرپور ہو‘ہوا کے گزر کے لئے موزوں ہو،درکار پانی کو جذب کرنے اور فالتو پانی کے اخراج کی صلاحیت رکھتا ہو اور حسب ضرورت درجہ حرارت کو یقینی بناسکتا ہو۔

ایسا میڈیم گھر پر بنانے کے لئے ایک حصہ مٹی،ایک حصہ ریت اور ایک حصہ پتوں کی کھاد ملا کریکجا کرنے سے مطلوبہ مرکب تیار ہوجاتا ہے۔اس کے اجزاضرورت کے مطابق اپنا مخصوص کام سرانجام دیتے ہیں۔مثلاً مٹی کا کام جڑوں کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا اور غذا کی فراہمی ہے۔پتے کی کھاد میڈیم کے لئے ہوادان کا کام کرتی ہے جبکہ ریت اضافی پانی کے اخراج کا ذریعہ بنتی ہے ۔ نیم کی زیادہ ترپنیری مومی لفافوں میں ہی تیار کی جاتی ہے کیونکہ پنیری لگاتے وقت اس کے مرنے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔لفافے میں تیار پنیری کو مٹی میں لگایا جائے تو یہ باآسانی لگ جاتی ہے‘ البتہ اس کے لئے پودے کی عمرکم از کم ایک سال ضرور ہونی چاہئے ۔

اسے لگانے کا بہترین وقت برسات کے آس پاس کا موسم ہے یعنی برسات سے پہلے یااس کے اختتام پر نیم کاپودالگایا جائے تو اس کی افزائش مثالی ہوگی۔اگر کوئی اس کی جڑیں کاٹ کر قلمیں بنا کر اس کی کاشت کرنا چاہے تواس طرح بھی اس کا پودا لگ جائے گا۔
پانی دینے کا طریقہ
شروع میں باقی فصلوں کی طرح نیم کی کھلی آبپاشی کی جاتی ہے مگر یہ خیال رہے کہ پانی کی نکاسی بہت اچھی ہونی چاہئے۔ اگر پانی کا ٹھہراؤ رہا تو پودے کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔

ویسے تو اسے افزائش کے لئے کھاد کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ اس کی جڑیں اس کا بندوبست خودکر لیتی ہیں ۔لیکن اچھی، صحت مند اور جلدی اگنے والی فصل کے لئے پودا لگانے کے بعد اسے 50 گرام فی پودا کھاد ڈالنا بہتر ہوتا ہے۔ اس کے لئے فاسفورس کی کھاد ڈالی جائے تو جڑیں جلد بڑھتی ہیںاور جڑوں کے بڑھنے سے پودے کی افزائش بہتر ہوتی ہے۔باقی پودوں کی طرح اس میں بھی جڑی بوٹیوں کو تلف کرنا بہت ضروری ہے۔نیم کا پودا اگر ڈیڑھ سال سے چھوٹا ہے تو اسے بہتر توجہ اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوگی جس میں کوتاہی پودے کی صحت اور زندگی کو متاثر کرسکتی ہے ۔

فصل کی تیاری
نیم کی فصل چار سے پانچ سال میں تیار ہوجاتی ہے ۔یعنی اس کا پھل اور پتے استعمال کے قابل ہوجاتے ہیں۔ البتہ لکڑی کی تیاری کے لئے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ 10سے 11سال کے پودے کا پھل اور پتے افادیت کے حوالے سے عروج پر ہوتے ہیں جس کے بعد اس کا پھل قابل استعمال نہیں ہوتا۔اس کا ایک درخت 10سے 20کلوگرام تک پھل دیتا ہے۔اگر افزائش اچھی ہو تو یہ مقدار 35سے50 کلوگرام تک بڑھ بھی سکتی ہے ۔

نیم کی دیکھ بھال
ویسے تو نیم پر بہت کم کیڑے حملہ آور ہوتے ہیں لیکن اس کی عام بیماری میں ایک کیڑا اس کے پتوں کو چارٹ جاتا ہے جسے برگ خور حشرات(leaf miner) کہا جاتا ہے۔ اس سے بچاؤ کے لئے اس پر کیڑے مار دوا کا چھڑکاؤ کرنا بہتر رہتا ہے ۔

1
Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
newest oldest most voted
Notify of
Ali Gujjar
Guest

بہت اعلی ❤