وہ 80 افراد جنہیں کچھ بھولتا ہی نہیں

 آپ یقیناً ایسے لوگوں سے ملے ہوں گے جن کی اچھی یادداشت نےآپ کو متاثرکیا ہوگا۔ تاہم دنیا بھر میں کم و بیش 80 افراد ایسے ہیں جن کی یادداشت اتنی اچھی ہے کہ انہیں ایک ایک دن کی ایک ایک بات پوری جزئیات کے ساتھ یاد ہے۔ ان کے سامنے کسی سال کے کسی مہینے کی کوئی تاریخ رکھیں، وہ اس دن کے تمام چھوٹے بڑے واقعات کی ایسی تفصیل بیان کریں گے کہ آپ دنگ رہ جائیں گے۔

 ایسے لوگوں کا تذکرہ شاید نصابی کتب میں نہ ملے، اس لئے کہ یہ معمہ حال ہی میں دریافت ہوا ہے۔ اسے نفسیات کے ماہرین نے ہائپرتھائی میشیا کا نام دیا ہے۔ یونانی زبان کے لفظ ہائپرکا مطلب بہت زیادہ جبکہ تھائی میسزکا یاد رکھنا ہے۔ چونکہ اس میں یادداشت کا بڑا حصہ ذاتی زندگی سے متعلق ہوتا ہے، اس لئے اسے ایچ ایس اے ایم (Highly Superior Autobiographical Memory) کا نام بھی دیا جاتا ہے ۔

  گیارہ سال کی عمر سے اب تک سب یاد

اس کی ایک مثال نیویارک کی 37 سالہ لوئس اوِن ہیں۔ انہیں 11 سال کی عمرسے لے کرآج تک کی ہربات انگلیوں پریاد ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اثرات پرمعروف امریکی جریدے وائرڈ کی نمائندہ لیزلی سٹاہل کہتی ہیں

میں نے آزمائش کے طورپران کے سامنے ایک تاریخ رکھی’’ 2 جنوری1990!‘‘جواب میں اوِن کہنا شروع ہوئیں کہ اس دن انہوں نے جوگنگ کی کلاس شروع کی تھی۔ دوڑ لگانے کے بعد جب واپس آئی تو کوچ نے کہا کہ بہت خوب، اسے جاری رکھیں۔

یہ کم و بیش 20 برس قبل کی بات ہے جب وہ 16 سال کی تھیں۔ میں نے یہ تاریخ ویسے ہی ادھربیٹھے بیٹھے منتخب کی تھی۔ پھرایک اور تاریخ’’ 18 فروری 1988‘‘ کا انتخاب کیا۔ اُدھریوں لگا جیسے اوِن کے سامنے فلم چل رہی ہے۔ وہ کہنے لگیں کہ جمعرات کا دن ہے اورمیں نے اپنی دوست کے ساتھ طویل گپ شپ کی ہے۔

ایک اورسوال’’21 اپریل 1991کو کیا ہوا تھا؟‘‘ کے جواب میں کہنے لگیں

اتوار کا دن تھا اوراس دن میں نے ایک کنسرٹ کیا تھا۔ مجھے تو یہ بھی یاد ہے کہ اس صبح کتنے بجے اٹھی اورکب کپڑے بدلے تھے۔ اس دن میں نے لنچ نہیں کیا تھا، البتہ اس سے پچھلی رات کے کھانے کا پورا احوال بتا سکتی ہوں۔

یہ سب حیران کن تھا، لیکن اس بات کا کیا ثبوت کہ وہ سچ کہہ رہی تھیں۔ یہی خدشہ مذکورہ خاتون پرتحقیق کرنے والے یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں نیوروبائیولوجی کے پروفیسرڈاکٹرجیمزمیک گوف کے ذہن میں بھی آیا۔ اسے رفع کرنے کے لئے انہوں نے کچھ ایسی باتیں پوچھیں جن کی تصدیق کی جا سکتی تھی۔ مثلاً کسی سال کی 14 اور 15 جنوری کے موسم کا حال پوچھا۔ اس نے بتایا کہ اس دن بارش ہوئی تھی اورموسم ابرآلود تھا۔ جب محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ پرریکارڈ دیکھا تو حیرت انگیزطورپروہ بالکل درست تھا۔

بارہ دن کی عمرسے اب تک ہربات یاد

 ربیکا شیراک 27 سالہ آسٹریلوی خاتون ہیں۔ انہیں 12 دن کی عمرسے اب تک ہربات یاد ہے۔ ان کے بقول:

مجھے وہ لمحہ آج کی طرح یاد ہے جب پیدائش کے 12 ویں دن میری ماں نے مجھے ڈرائیونگ سیٹ پرلٹایا تاکہ میری اچھی سی تصویر لی جا سکے۔ مجھے اپنے نیچے سیٹ کے کوراورسٹیئرنگ میں بہت تجسس محسوس ہورہا تھا۔ میں ان دنوں بہت سا وقت پنگھوڑے میں پڑی اپنے اردگرد کھلونوں اور پنکھے کو دیکھتی رہتی تھی۔

ایچ ایس اے ایم نامی طبی اسرار پہلی بار2006 میں جنوبی کیلی فورنیا کی جِل پرائس نامی خاتون میں سامنے آیا۔ اسے الزبتھ پارکر
ڈاکٹرلیری کیہل اورڈاکٹر جیمز میک گوف نے رپورٹ کیا۔ شناخت کو مخفی رکھنے کے لئے اس خاتون کے لئے ابتدا میں’’ اے جے‘‘ کا نام استعمال کیا گیا۔ پرائس کو 14 سال کی عمر سے اب تک سب کچھ یاد ہے۔

نیوروسائیکالوجی کے موضوع پرسائنسی جریدے نیوروکیس میں اشاعت کے بعد کم و بیش 200 افراد نے ڈاکٹر جیمز میک گوف سے رابطہ کیا۔ اس دوران انہوں نے دعوٰی کیا کہ ان میں بھی یہ صلاحیت پائی جاتی ہے لیکن ان میں سے چند ایک میں ہی اس کے آثار تھے۔ ایچ ایس اے ایم کا دوسراثابت شدہ کیس بریڈ ولیمز، تیسرا رِک بیرن اورچوتھا بوب پیٹریلا ہیں۔

لیری کیہل اورجیمزمیک گوف نے نوٹ کیا کہ اس خصوصیت کے حامل افراد ماضی کے بارے میں سوچ و بچارپربہت زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔ جب وہ ماضی کے کسی واقعے کو یاد کرتے ہیں تو انہیں ذہن پرزورنہیں ڈالنا پڑتا۔

عام یادداشت اور ہائپرتھائی میشیا میں فرق

ہائپرتھائی میشیا کے حامل افراد کسی شعوری کوشش کے بغیرچیزوں کویاد رکھتے ہیں۔ ان کی یادداشت کا بڑا حصہ ذاتی زندگی کے تجربات پرمشتمل ہوتا ہے۔ دیگرمعلومات کے بارے میں ان کی یادداشت ایسی بالکل نہیں ہوتی لہٰذا یہ صلاحیت پڑھائی وغیرہ میں کم ہی کام آتی ہے۔اگرانہیں کچھ حقائق بتائیں توانہیں یاد نہیں رہیں گے۔ تاہم یہ بات پوری تفصیل اورجزئیات کے ساتھ یاد ہوگی کہ اس وقت آپ نے کون سے کپڑے پہن رکھے تھے۔

کیا یہ او سی ڈی کی قسم ہے؟

ہائیرتھائی میشیا کے بارے میں کچھ ماہرین نفسیات نے خیال ظاہرکیا کہ یہ  او سی ڈی (obsessive compulsive disorder) کی کوئی شکل ہے۔ تاہم ڈاکٹرمیک گوف اسے مسترد کرتے ہیں۔ ایسے افراد کے دماغ کے ایم آرآئی سے معلوم ہوا کہ اس کا ایک خاص حصہ نسبتاً بڑاتھا۔ تاہم اس کا تعلق یادداشت یا سیکھنے کے عمل سے زیادہ پیچیدہ سوچ وبچارسے ہوتا ہے۔ ڈاکٹرکیہل نے خواہش کا اظہارکیا کہ اس صلاحیت کے حامل زیادہ لوگ سامنے آئیں تاکہ اس ضمن میں تحقیق کوبڑھایا جا سکے۔ اگراس میں پیش رفت ہوئی تو یاد داشت کے مسائل سے دوچار افراد کوخاطرخواہ فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔

hyperthymesia, 80 people with super memory, memory, medical mysteries, rare diseases, health, shifa news, wo log jinhein kuch nahe bhoolta

Vinkmag ad

Read Previous

Urological issues in men

Read Next

اعصابی نظام کی عام بیماریاں

Leave a Reply

Most Popular