Vinkmag ad

چہرے کے داغ دھبے چاند پر داغ

٭ڈاکٹر صاحب ! میں نے جب سے بلوغت میں قدم رکھا ہے‘ تب سے کیل مہاسوں کے مسئلے سے دوچار ہوں۔ میری عمر 39 برس ہو چکی ہے لیکن یہ داغ اور گڑھے اب بھی چہرے پر موجود ہیں۔ گزارش ہے کہ اس مسئلے کا کوئی حل بتائیں ۔
مہک ‘لاہور

٭٭ آپ نے اپنے مسئلے کے حوالے سے دو بنیادی باتیں نہیں بتائیں۔ پہلی یہ کہ آپ کی رنگت کیسی ہے اور دوسری،کیا اب بھی آپ کو کیل مہاسوں کی شکایت رہتی ہے یا ان کے صرف اثرات رہ گئے ہیں۔ اگر آپ کو اب یہ شکایت نہیں رہی اور آپ چہرے کے داغ دور کرنے کے حوالے سے جاننا چاہتی ہیں تو ذیل میں دی جانے والی معلومات آپ کے لئے مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔
عموماً کیل مہاسوں کی شکایت اپنی شدید صورت میں چہرے پر داغ چھوڑ جاتی ہے۔ بد قسمتی سے بہت سے افراد کو آغاز جوانی میں اس مسئلے کا سامنا رہتا ہے اور پھر انہیں اس کے بداثرات کے ساتھ زندگی گزارنا پڑتی ہے۔اس حوالے سے پُرامید بات یہ ہے کہ اب ایسے علاج موجود ہیں جن سے کیل مہاسوں کے نشانات دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ان علاجوں کی تفصیل یہ ہے:

٭ جلد پرکیل مہاسوں کے سبب پڑ جانے والے گڑھوں کوایچ اے (Hyaluronic Acid) سے بھرا جاتا ہے۔ یہ ایک گاڑھا مائع ہے جو سوئی سے جلد کے متاثرہ حصے کی تہہ میں داخل کیا جاتاہے۔ اس سے جلد کے متاثرہ حصے میں گڑھے بھر جاتے ہیں۔ بلاشبہ یہ طریقہ علاج مفید ہے لیکن اس کے اثرات صرف ایک سال تک رہتے ہیں اور اگلے سال یہ عمل دہرانا پڑتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایچ اے ہمارے جسم میں‘بالخصوص جلد کے نیچے بھی پایا جاتا ہے‘ اس لئے جب اسے جسم میںبیرونی طور پر داخل کیا جائے تو جسم اس کے خلاف کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کرتا ۔
یہ طریقہ علاج اپنے اندر کچھ ضمنی مضراثرات بھی رکھتا ہے‘ تاہم اگراسے کسی ماہر فزیشن سے کرایا جائے تو اس کے اچھے نتائج سامنے آتے ہیں۔اس میں استعمال ہونے والے انجکشن مہنگے ہوتے ہیں اور ان کی تعداد کا انحصار جلد کے متاثرہ حصے کی مقدار اورحجم پر ہوتا ہے۔ یعنی چہرے کی جلد کاجتنا زیاد ہ حصہ متاثر ہوگا‘ علاج کے لئے انجکشن بھی اتنے ہی زیادہ درکار ہوں گے۔

٭ بہت سے معالج جلد کے نشانات کو کم کرنے کے لئے اس کی اوپری تہہ اتارنے ((peelingکا طریقہ بھی استعمال کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ بہت مؤثر ہے لیکن یہ ایشیائی افراد کی جلد کے لئے زیادہ موزو ں نہیں۔ اس عمل کو پورے چہر ے پر آزمانے سے قبل عموماً جلد کے چھوٹے سے حصے پر آزما کر ا س کے نتائج دیکھے جاتے ہیں۔

جلد کی اوپری تہہ مختلف طریقوں سے ا تاری جاتی ہے لیکن اس کے باوجود نتائج کم وبیش ایک جیسے ہی نکلتے ہیں۔ نیز اس عمل کے نتائج کا دارومدار مریض کی جلدکی قسم پربھی ہوتا ہے۔ جلد کی تہہ اتارنے کے عمل میں عموماًکیمیکلز‘ لیزرز یا ڈرمابراڈر (ایک برقی آلہ ) استعمال کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں متاثرہ حصے کی اوپری کھال کو اس توقع پراتارا جاتا ہے کہ یہ دوبارہ پیدا ہو کر زخم کے نشانات کو ڈھانپ دے گی ۔

٭ بعض لیزر اور آئی پی ایل ( Intense pulsed light) جیسے برقی آلات چہرے کے ہلکے اور کم گہرے نشانات دور کرنے میں مفید ثابت ہوتے ہیں‘ تاہم مریض کو اس کے بہت سے سیشنز (sessions)کرانا پڑتے ہیں۔
٭جلد کے نشانات دور کرنے کے لئے ایک مخصوص آلہ ’’ڈرما رولر ‘‘ بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔

بہت سی خواتین پوچھتی ہیں کہ ان کے لئے کون سا طریقہ علاج مفید رہے گا؟ طریقہ علاج کا انحصار جلد کی قسم اور داغوں کی نوعیت پر ہوتا ہے۔ عام طور پر ان تمام طریقوں کو ملا کر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ مریضوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو۔آپ کے لئے مشورہ یہ ہے کہ کسی ماہر امراض جلد سے رابطہ کریں جو آپ کی جلد اور داغوں کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کے لئے مناسب علاج تجویز کرسکے ۔
(پروفیسر احسن حمید‘ ماہر امراض جلد‘ شفاانٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد)

Vinkmag ad

Read Previous

شفانیوز کے مستقل مضمون نگار ڈاکٹر عبدالرحمٰن صاحبزادہ (مرحوم) اپنے بچوں شہناز، مہناز، فرح ناز اور عامر کی نظر میں

Read Next

کہیں دیر نہ ہو جائے ہیجان کو لگام مگر کیسے؟

Most Popular