رحم کی جھلی‘ ذرا ہٹ کے چراغ تلے اندھیرا

483

’ اینڈو میٹری اوسس‘ ایک زنانہ بیماری ہے جسے اردوزبان میں’وَرم درون رحم‘ یعنی رحم کی اندرونی جِھلی کا اپنی جگہ سے ہٹ کرکسی دوسرے حصے میں پایاجانا کہتے ہیں۔یہ ‘ فلوپی نالیوں ‘ مثانے ‘بچہ دانی کے باہر اورپیٹ کی اندرونی دیوار کے ساتھ پائی جاسکتی ہے ۔اس کی وجہ سے رحم کے طبعی افعال میں نقص آجاتا ہے۔ فریحہ فضل کی معلوماتی تحریر


’چراغ تلے اندھیرا‘ ایسا محاروہ ہے جو آپ نے بہت سنا ہو گا۔ہوسکتا ہے کہ کبھی آپ خود بھی اس تجربے سے گزرے ہوں یا آپ کو اپنے ارد گردموجود افراد پراس کا اطلاق محسوس ہوا ہو۔کم از کم میرے اوپریہ ضرور صادق آتا ہے۔‘‘
یہ الفاظ ماہرامراض نسواں ڈاکٹر یاسمین مسعودکے ہیں جو پچھلے 35 سال سے اسلام آباد کے مضافات میں کامیابی کے ساتھ اپنا کلینک چلا رہی ہیں۔بلاشبہ ہزاروں خواتین نے ان کے ہاتھوں شفا پائی ہے۔ پھر ایسا کیا ہے جسے وہ ’چراغ تلے اندھیرا‘ کہہ رہی ہیں؟ خود انہی کی زبانی سنئے۔

میرے دو بچے علی اور ثمن ہیں۔ علی ابھی پڑھ رہا ہے جبکہ ثمن کی شادی ہم نے دوسال قبل کردی تھی۔ راوی اس وقت تک چین ہی چین لکھ رہا تھا جب ثمن ایک دن مجھ سے ملنے آئی۔ وہ کافی کمزور اور پریشان لگ رہی تھی۔ شادی ہوئے دو سال گزر گئے تھے لیکن ابھی تک اسے آس نہ لگی تھی۔ کلینک کی مصروفیات کے باعث مجھے سارا دن اس سے بات کرنے کا موقع نہ ملا۔ رات کے کھانے کے بعد وہ میرے پاس آگئی اور اپنا پرانا مسئلہ دہرانے لگی۔ اسے کئی سالوں سے ماہانہ ایام میں شدید کمردرد کی شدید شکایت تھی اور اس دوران خون بھی بہت زیادہ آتا تھا۔
وہ مخصوص ایام میں جب اس قسم کی شکایت کرتی تو میں اس کا سبب اس کی جسمانی کمزوری اورڈائٹنگ کی عادت کو سمجھتی لہٰذا اسے کوئی پین کلر دے دیتی۔ میں نے کبھی مسئلے کی تہہ میں جانے کی کوشش نہیں کی۔ اب اس کی علامات شدید ہوچکی تھیں لہٰذا میرے اندر خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہوگئیں۔ مجھے شک ہوا کہ اسے کہیں اینڈو میٹری اوسس( Endometriosis) نہ ہو۔

اس مرض میں یوٹرس کی اندرونی جھلی اپنی جگہ سے ہٹی ہوتی ہے۔ میں نے سوچا کہ اس پر اپنی ایک ساتھی ڈاکٹر تقدیس سے بھی مشورہ کر لوں۔ بعض ڈاکٹر کسی اور ڈاکٹر سے رائے لینا اپنی توہین سمجھتے ہیں لیکن میرے خیال میں معاملہ جب انسانی زندگی اور صحت کا ہوتو اسے انا کامسئلہ نہیں بنانا چاہئے اور دوسری رائے ضرور لے لینی چاہئے۔
ڈاکٹر تقدیس کا تعلق اسلام آباد سے ہے اور وہ ایک پرائیویٹ ہسپتال میں پچھلے کئی سالوں سے اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ مقررکردہ وقت پر میں اور ثمن رپورٹیں لے کر ان کے پاس پہنچ گئیں۔ مجھ میں تو اپنی بیٹی کو بتانے کا حوصلہ نہیں تھامگر ڈاکٹر تقدیس نے بڑے مفصل انداز میں اسے بتایا کہ’ اینڈو میٹری اوسس‘ ایک زنانہ بیماری ہے جس میں رحم کی اندرونی جِھلی اپنی جگہ سے ہٹ کر جسم کے کسی دوسرے حصے مثلاً فلوپی نالیوں ‘ مثانے ‘بچہ دانی کے باہر اورپیٹ کی اندرونی دیوار کے ساتھ پائی جاتی ہے ۔اس کی وجہ سے رحم کے طبعی افعال میں نقص آجاتا ہے۔

’’ اس کی علامات کیا ہوتی ہیں؟‘‘ثمن نے بے چینی سے پوچھا۔
’’اس کی علامات مختلف افراد میں مختلف ہوسکتی ہیں جن کا انحصار مرض کی شدت پر ہوتا ہے۔ تاہم بنیادی علامتوں میں ماہانہ ایام میں (خصوصاً کمر اور پیٹ کے نچلے حصے میں) شدید درد‘ خون کازیادہ اخراج( ایام کے وقفے میں بھی خون جاری ہونا)‘ تھکن‘کمزوری‘ پیشاب اور پاخانہ کرتے وقت تکلیف‘ حتیٰ کی بعض اوقات پاخانہ کرتے وقت خون آنا‘ سردرد‘ بدہضمی‘متلی‘جنسی تعلق کے دوران شدید درد اور حمل میں دشواری شامل ہیں۔‘‘ ڈاکٹر تقدیس نے تفصیل سے بتایا۔
’’آنٹی! کیا یہ جھلی میرے اندر اپنی جگہ پر نہیں؟‘‘ ثمن نے حیرت سے کہا۔ میں شرم سے کسمسا کررہ گئی۔ میں سوچ رہی تھی کہ میں کیسی ڈاکٹر ماں ہوں جو اپنی بچی کی تکلیف کے بارے میں اتنے عرصے تک کچھ نہ جان پائی۔
’’اس کی تشخیص کس طرح کی جاتی ہے؟‘‘ثمن نے پریشانی کے عالم میں ایک اور سوال پوچھا۔ وہ اپنی بیماری سے متعلق مکمل معلومات جلد از جلد حاصل کرنا چاہتی تھی۔ میں اسے بتا سکتی تھی لیکن خاموش رہی۔ بعض اوقات بیٹی اپنی ماں سے یہ سب کچھ اتنے آرام سے نہیں پوچھ سکتی۔اس کے جواب میں ڈاکٹر تقدیس کہنے لگیں کہ اس کی تشخیص ذرا مشکل ہوتی ہے‘ اس لئے کہ اس کی بہت سی علامات دیگر زنانہ بیماریوں سے ملتی جلتی ہوتی ہیں۔
اس کی تفصیل بتاتے ہوئے وہ کہنے لگیں:
’’اس کے لئے ماہر امراض نسواں پہلے پیٹ کا مکمل طبی معائنہ اور پھر الٹراساؤنڈ کرتی ہے۔ اس کا مقصد یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کیااووریز میں کوئی رسولی (cyst) تو نہیں۔ بعض اوقات اس کے لئے سرجیکل معائنہ بھی کیا جاتا ہے جسے لیپروسکوپی (laparoscopy)کہتے ہیں۔ اس میں جھلی کا چھوٹا سا ٹکڑا لیبارٹری ٹیسٹ کے لئے لیاجاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ جاننا ہوتا ہے کہ یہ کہیں سرطان زدہ تو نہیں۔ عموماً ایسا نہیں ہوتا لیکن پھر بھی تسلی کے لئے یہ ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔‘‘
’’لیکن یہ ہوتا کیوں ہے ؟‘‘ثمن بے تابی سے سوال پر سوال پوچھے جا رہی تھی۔ اسی دوران ہماری ایک اور گائناکالوجسٹ دوست ڈاکٹر فرحت جبین بھی وہاں آگئیں جو آج کل سعودی عرب میں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے چونکہ سوال سن لیا تھا‘ لہٰذا کہنے لگیں کہ ’بیٹا!اس کا جواب میں دیتی ہوں۔‘ پھر وہ گویا ہوئیں:
’’کچھ بیماریوں کی کوئی خاص ‘نظر آنے والی وجہ نہیں ہوتی مگر فیملی ہسٹری میں وہ پائی جاتی ہیں۔ ایسے امراض کے اگلی نسلوں میں منتقلی کے قوی امکانات ہوتے ہیں۔ میری بہن کو بھی یہی تکلیف تھی اور کئی سال تک اس کا علاج چلتا رہاتھا۔‘‘
مجھے اپنی غیرحاضردماغی پر شدید افسوس ہو رہاتھا۔میرے خیال کی رواچانک کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔جب چائے چھلکی تو میں اچانک حواس میں آئی۔ ڈاکٹر فرحت بتارہی تھیں کہ پروجیسٹیرون (Progesterone) ہارمون کی کمی اور ایسٹروجن (Estrogen)کی زیادتی بھی اس کا سبب بن سکتی ہے۔ سن یاس (Menopasuse)کے بعد خواتین میں یہ مرض تقریباً نہ ہونے کے برابررہ جاتا ہے‘ اس لئے کہ اس عمرکے بعد عورتوں کا جسم ایسٹروجن بنانا چھوڑ دیتا ہے۔ یہ مرض کم عمر بالغ لڑکی کو بھی ہوسکتا ہے۔ بالعموم یہ25 سے 35سال کی عمر میں زیادہ ہوتا ہے۔

’’کیا یہ قابل علاج ہے؟ ثمن نے تشویش سے پوچھا۔
’’جی ہاں!اس کی علامات کو علاج کے ذریعے کافی حد تک ختم یا کم از کم اس کی شدت کو کم کیاجاسکتا ہے۔‘‘ڈاکٹر فرحت نے امید دلاتے ہوئے کہا:’’مثلاً درد کی شدت کو کم کیاجاسکتا ہے‘ اس کی بڑھوتری کی رفتار کم کی جا سکتی ہے۔ اگراس کا بروقت علاج نہ کیاجائے تو نتیجہ بانجھ پن کی شکل میں بھی نکل سکتا ہے۔‘‘
ان کے بقول علاج کا انحصار‘مریضہ کی عمر اور علامات کی شدت پر ہوتا ہے۔ ایک طریقہ علاج ہارمون تھیراپی ہے‘ جس کا مقصد جسم میں ایسٹروجن کی پیداوار کو کم کرنا یا روکنا ہے‘ اس لئے کہ اس ہارمون کی پیداوار ہی ’اینڈومیٹری اوسس‘ کا باعث بنتی ہے۔ اس کے علاج کے لئے بعض اوقات مانع حمل گولیاں دی جاتی ہیں جو ماہانہ ایام کی شدت اور درد کی کیفیت کو کم کرتی ہیں۔ اسی طرح کچھ حالات میں جی این آر ایچ (gonadotrophine-releasing harmones ) بھی دئیے جاتے ہیں جو عارضی طور پر ایام کی بندش کا باعث بنتے اور ایسٹروجن کی پیداوار کم کرتے ہیں۔ یہ کم مدت کے لئے تجویز کئے جاتے ہیں۔

شدید علامات کی صورت میں سرجری بھی تجویز کی جاتی ہے جس کے بعد تولیدی صلاحیت میں کافی حد تک بہتری آجاتی ہے اور حمل ٹھہرنے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ اے سی او جی (American College of Obstetricians and Gynecologists) کے مطابق یہ مرض دنیا بھر میں ہر سال 176 ملین خواتین کو متاثر کرتا ہے جن کی اکثریت ایشائی خواتین پر مشتمل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بیماری مختلف بے بنیاد کہانیوں اورتصورات سے بھری ہوئی ہے:
’’واضح رہے کہ یہ نہ تو جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماری ہے اور نہ ہی اس کا سبب چھوت یاانفیکشن ہے۔ یہ خواتین کے تولیدی اعضاء کو نکال دینے سے بھی ختم نہیں ہوتی۔ صحت یابی کے لئے علاج کے ساتھ ساتھ احتیاطیں‘روزمرہ زندگی کے معمولات میں مثبت تبدیلی اور متوازن غذا کا استعمال بہت ضروری ہے۔
’’آنٹی! ہم کس طرح کی غذا استعمال کریں۔‘‘ثمن نے گفتگو آگے بڑھاتے ہوئے استفسار کیا۔
ڈاکٹر تقدیس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے آپ کو اپنی غذائی عادات درست کرنا ہوں گی۔آپ کو سوڈا‘سویا‘میدہ اور اس سے بنی ہوئی اشیاء خصوصاً بیکری آئٹمز (کیک‘ پیسٹری)وغیرہ‘ چاکلیٹ‘ کافی‘ کیفین والے مشروبات‘سرخ گوشت‘ منجمد خوراک یا ڈبوں میں بند غذا‘تلی ہوئی اشیاء یعنی ایسی خوراکیں چھوڑنا ہوں گی جو ایسٹروجن کی مقدار میں اضافہ کرتی ہیں:
’’اس کے برعکس اپنی روزمرہ غذا میں انڈے کی سفیدی‘ سٹیرائیڈز سے پاک چکن ‘کالے چنے‘ گاجریں‘ ٹماٹر‘ براؤن چاول‘ پھل خصوصاً سیب‘ انناس‘ تربوز‘ ناریل‘ ریشے والی غذائیں اور مچھلی شامل کریں اور پانی زیادہ پئیں ۔ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر آپ کو سپلیمنٹس کی صورت میں وٹامن بی12 ‘میگنیشیم اوراومیگا تھری فیٹی ایسڈ بھی تجویز کر سکتا ہے۔‘‘

’’کیا اس کاہربل علاج بھی ممکن ہے ؟‘‘ ثمن نے پوچھا۔
’’جی ہاں! ہلدی‘ادرک‘دارچینی اور السی کے بیج اس حالت میں کافی فائدہ دیتے ہیں لیکن بہتر یہی ہے کہ آپ اس کے باقاعدہ علاج پر زیادہ توجہ دیں۔‘‘
اتنے پرمغز اور حوصلہ افزاء سیشن کے بعد میں اور ثمن بہت اچھا محسوس کررہے تھے۔چلتے چلتے ڈاکٹر فرحت نے شیلی راس (Shelley Ross)کی کتاب ’’Treating Your Endometriosis‘‘ثمن کو تحفتاً دی۔
ہم ان دونوں ڈاکٹرخواتین کا شکریہ ادا کرکے گھر آگئیں۔

ثمن تو اگلے دن اپنے گھر چلی گئی اور میں اپنے محاسبے میں لگ گئی۔مجھے ایک سبق مل گیا کہ کبھی کسی نشانی‘درد یا علامات کو معمولی مت سمجھنا چاہئے‘ اس لئے درد کوئی نارمل حالت نہیں ہے۔ یہ جسم کے پیغام بھیجنے کا ایک مخصوص انداز ہے جو بتانا چاہتا ہے کہ جسم میں اندر ہی اندر کچھ غلط ہورہا ہے جسے سنجیدہ لیں۔اگر ماہانہ ایام میں آپ یا آپ کی عزیزہ کی روزمرہ کی سرگرمیاں مفلوج ہوجائیں یاوہ درد کی شکایت کرے تو فوراً کسی ماہر امراض نسواں سے رجوع کریں کیونکہ یہ اس کے مستقبل کا سوال ہے۔
تقریباً ڈیڑھ سے دوسال کے طویل اور صبر آزما علاج اور حتیٰ کہ ایک سرجری کے بعد اب میری بیٹی نہ صرف بہتر ہے بلکہ حاملہ بھی ہے۔ انشاء اللہ وہ بہت جلد ماں بننے والی ہے۔ میں نے تو اس سے بہت بڑا سبق لیاہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم کسی ناقابل تلافی نقصان سے بچ گئے۔ یہ سب کچھ اس کے باوجود ہوا کہ میں ایک ڈاکٹرماں تھی۔ یہ دونوں رشتے زیادہ احساس ذمہ داری کے متقاضی ہوتے ہیں مگر میں غافل ہی رہی ۔ ہم ڈاکٹر لوگ بھی آخر انسان ہی ہیں جو بہرحال خطا کاپُتلاہے۔

ڈاکٹر یاسمین نے اپنی کہانی ختم کی تو مجھے جھنجوڑ کر پوچھا: ’’اری تم کن خیالوں میں کھوئی ہو۔ ‘‘ میں ہڑبڑا کران کی طرف دیکھنے لگی۔میں اصل میں اپنی ایک کزن کے بارے میں سوچ رہی تھی جو اسی مسئلے سے دوچار تھی ۔مجھے ڈر تھا کہ کہیں دیر نہ ہو جائے، لہٰذا ان سے اجازت لی اورجلد اس کے گھر کی راہ لی۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of