ڈسلیکسیا (پڑھنے اور سیکھنے میں دشواری)

بعض بچے تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی نہ رکھنے، کچھ اپنی توجہ شرارتوں پر زیادہ رکھنے اور کچھ دیگر وجوہات کے باعث پڑھائی میں  کمزور ہوتے ہیں۔ تاہم بعض ایسے ہیں جو توجہ دینے اور کوشش کرنے کے باوجود لفظوں کو ٹھیک طرح سے پڑھ اور پہچان نہیں پاتے۔بہت بار سمجھانے پر بھی انہیں غلط ہی لکھتے اور پڑھتے ہیں۔ یہ بچے ڈسلیکسیا (پڑھنے اور سیکھنے میں دشواری) کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ڈِسلیکسیا ایک مرض ہے۔

ڈسلیکسیا کی وجوہات

کچھ بیماریوں کا تعلق ہمارے طرز زندگی سے ہوتا ہے جبکہ کچھ موروثی ہوتی ہیں جن پر ہمارا اختیار نہیں ہوتا۔ ڈسلیکسیا ایسی بیماری ہے جو والدین سے اولاد میں منتقل ہوتی ہے۔ اس مرض کی صورت میں دماغ کا وہ حصہ متاثر ہوتا ہے جو فہم ادراک یعنی سمجھ بوجھ سے تعلق رکھتا ہے۔ بعض اوقات ماحولیاتی عوامل بھی اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

بیماری کی علامات

اس مرض کی علامات کا پتا تب چلتا ہے جب بچے سکول جانا شروع کرتے ہیں۔ اس کے شکار بچے ٹھیک طرح سے پڑھ نہیں پاتے اور اگر پڑھتے بھی ہیں تو اٹک اٹک کر یا مشکل سے پڑھتے ہیں۔ مزیدبرآں پڑھے ہوئے کو سمجھنا بھی ان کے لیے کافی مشکل ہوتا ہے۔ ان میں یہ مسائل بھی ہوسکتے ہیں:

٭دائیں اور بائیں کا تصور نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔

٭ان بچوں کا آئی کیو اپنی عمر کے مطابق بالکل ٹھیک ہوتا ہے اور یہ بچے تخلیقی صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔

٭ریاضی میں یہ کافی کمزور ہوتے ہیں۔ اعداد و شمار یا ہندسوں کی پہچان نہیں ہوتی۔حساب کی سمجھ نہیں آتی کیونکہ دماغ کا ایک مخصوص حصہ ان کا ساتھ نہیں دے پاتا۔

ڈسلیکسیا کی علامات-ڈسلیکسیا (پڑھنے اور سیکھنے میں دشواری) -شفانیوز

٭انہیں کسی ایک فن میں مہارت حاصل ہوتی ہے۔ اگر اس پر مزید توجہ دی جائے تو وہ اس میدان میں خاصے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں ذہانت کی کمی نہیں ہوتی۔ خاص طور پر آرٹ اور کھیل کے میدان میں یہ کافی آگے نکل سکتے ہیں۔

٭ان کی یاداشت کمزور ہوتی ہے۔

٭ملتے جلتے لفظوں (M,W) اور (B,D) کو بدل دیتے ہیں۔

مرض کی تشخیص

اس مرض کی تشخیص کے لئے کئی عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے لئے یہ آپشنز استعمال ہوتے ہیں:

٭کچھ بچوں کے مسائل کا سبب جذباتی عوامل ہوتے ہیں۔ مثلاً والدین یا ٹیچر کا رویہ ان کے ساتھ ٹھیک نہیں ہوتا جس کی وجہ سے وہ سکول میں اچھی کارکردگی نہیں دکھا پا رہے ہوتے۔ اس لئے دیکھا جاتا ہے کہ پڑھائی میں دشواری کا سبب کہیں یہ تو نہیں۔

٭کچھ بچوں کی ذہانت کم ہوتی ہے جس کی وجوہات جاننے کی کوشش کی جاتی ہے۔

٭ان کی بینائی کا ٹیسٹ بھی کیا جاتا ہے۔ اس سے بچے  کی نظر کے مسائل کا علم ہو جاتا ہے۔ ان کے سبب اسے بورڈ پر لکھا صاف دکھائی نہیں دیتا۔

٭بچے کی ذہنی سطح کا اندازہ لگانے کے لئے اس کا آئی کیو ٹیسٹ بھی کیا جاتا ہے۔

٭تعلیمی قابلیت کا جائزہ لینے کے لیے اس کی لکھائی، لفظوں کی پہچان، سمجھنے اور پڑھنے کی صلاحیت کو پرکھا جاتا ہے۔

ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے ایک رپورٹ تیار کی جاتی ہے اور اندازہ لگایا جاتا ہے کہ بچے کی بیماری کس مرحلے پر ہے۔ اس کے مطابق اس مرض کی تشخیص ہوتی ہے۔ اس مرض کی تشخیص کے لئے بچے کو چائلڈ سائیکالوجسٹ کے پاس لانا چاہئے۔

ڈسلیکسیا کا علاج-شفانیوز

ڈِسلیکسیا کا علاج

اس کا مکمل علاج ممکن نہیں۔ تاہم بروقت تشخیص اور علاج سے علامات کو بہت حد تک قابو کر کے زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں استعمال ہونے والے کچھ طریقے یہ ہیں:

مخصوص نصابی پروگرام

ایسے بچوں کو پڑھانے کے لئے ایک خاص طریقہ کار اپنایا جاتا ہے۔ اس میں تربیت یافتہ اساتذہ مختلف تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے ان بچوں کی پڑھنے، بولنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو بہتر بناتے ہیں۔ مثلاً انہیں لفظوں کی پہچان ان کی آوازوں سے کروائی جاتی ہے، بار بار سمجھایا جاتا ہے۔ پھر اونچی آواز میں دہرائی کروائی جاتی ہے تاکہ وہ چیزوں کو یاد رکھ سکیں۔ چونکہ اس میں بچہ آہستہ آہستہ سب کچھ سیکھتا ہے لہٰذا یہ علاج کافی وقت لیتا ہے۔ والدین اور اساتذہ بچے کی بہتری میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

رویوں میں تبدیلی

والدین کو بتایا جاتا ہے کہ وہ ان بچوں سے ان کی صلاحیتوں کے مطابق ہی توقعات رکھیں۔ اگر ان کو ان کے شوق کے مطابق کام کرنے دیا جائے تو وہ بہترین نتائج دے سکتے ہیں۔ والدین ان کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں، انہیں کام کے لئے وقت زیادہ دیں کیونکہ ان کے لکھنے کی رفتار بھی کم ہوتی ہے۔

بچوں کو پر اعتماد بنانا

عموماً ایسے بچوں میں خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے، اس لئے کہ ان کا سامنا مختلف طرح کے منفی رویوں سے ہو چکا ہوتا ہے۔ وہ مذاق کا نشانہ بھی بنتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں آگے بڑھنے کی لگن ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ ان کے کام کو سراہنے اور حوصلہ بڑھانے سے ان میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

ڈسلیکیسیا کا علاج-شفانیوز

والدین کے لئے ہدایات

بچوں کی زندگی میں والدین کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ انہیں چاہیے کہ:

٭بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں تاکہ ان کے مسائل کو بہتر طور پر جان سکیں۔ کسی مسئلے کی صورت میں وقت پر اس کا حل بھی تلاش کیا جا سکے۔

٭سکول کے کام میں بچے کا ساتھ دیں۔ اس کو پڑھائیں اور اگر وہ کسی مضمون میں کمزور ہے تو اس کمی کو دور کرنے کی کوشش کریں۔

٭اس کے سامنے پڑھائی کو بوجھ کے بجائے پر لطف سرگرمی کے طور پر پیش کریں تاکہ اس کا تعلیم میں رحجان پیدا ہو سکے۔

٭شروع سے ہی بچوں کی نگرانی کریں۔ پڑ ھائی کے ساتھ ساتھ ان کی عمومی ذہنی نشوونما پر بھی دھیان دیں۔

٭بہت سے والدین ڈسلیکسیا کو بیماری سمجھنے کے بجائے بچوں کو کوستے ہیں۔ انہیں چاہئے کہ اس سے گریز کریں۔ اگر وہ کوئی غیر معمولی علامت دیکھیں تو متعلقہ ڈاکٹر سے فوراً رابطہ کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

Hormonal issues in children

Read Next

وزن گھٹانے کے لئے چکنائیوں سے مکمل پرہیز ضروری ہے؟

Leave a Reply

Most Popular