کیا کھانے کے ساتھ پانی پینا ہاضمے کو متاثر کرتا ہے؟

کھانے پینے کی چیزوں سے متعلق مختلف تصورات پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ صحیح تو کچھ غلط ہوتے ہیں۔ مثلاً مچھلی کے ساتھ دودھ نہیں پینا چاہیے کیونکہ اس سے برص ہو سکتا ہے۔ پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تربوز کے ساتھ پانی نہیں پانی چاہیے کیونکہ اس سے اپھارے کی شکایت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح آپ نے گھر کے بڑوں کو یہ کہتے سنا ہوگا کہ کھانے کے ساتھ پانی نہیں پینا چاہیے۔ ان سے اس کی وجہ پوچھی جائے تو کہتے ہیں کہ اس سے ہاضمے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ مگر کیا یہ بات واقعی درست ہے؟ یعنی کیا کھانے کے ساتھ پانی پینا ہاضمے کو متاثر کرتا ہے؟

اس تصور کی حقیقت جاننے کے لیے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ کھانا ہضم کیسے ہوتا ہے۔

کھانا کیسے ہضم ہوتا ہے

ماہرین صحت کہتے ہیں کہ ہاضمے کا عمل خوراک کے منہ میں داخل ہوتے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ جب ہم اسے چباتے ہیں تو منہ میں موجود لعاب پیدا کرنے والے غدود لعاب خارج کرتے ہیں۔ اس میں ایسے انزائمز ہوتے ہیں جو کھانے کی توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔ اس کے بعد کھانا معدے میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہاں یہ تیزاب (digestive juices) سے ملتا ہے جو اس کی مزید توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔ اس سے ہمیں غذائی اجزاء ملتے ہیں۔ اس کے بعد یہ چھوٹی آنت میں جاتا ہے جہاں اس کی مزید توڑ پھوڑ ہوتی ہے۔ یہاں سے اہم غذائی اجزاء خون میں شامل ہو جاتے ہیں۔ جب سب غذائی اجزاء خون میں شامل ہوتے ہیں تو کھانا بڑی آنت میں جاتا ہے۔ یہاں سے فاضل مادے پاخانے کی صورت میں خارج ہو جاتے ہیں۔

کھانے کے ساتھ پانی پیئیں یا نہیں؟

جہاں تک یہ سوال ہے کہ کیا کھانے کے ساتھ پانی پینا ہاضمے کو متاثر کرتا ہے؟ تو جو لوگ یہ کہتے ہیں وہ دراصل یہ سمجھتے ہیں کہ پانی کھانے کو ہضم کرنے والے تیزاب کو پتلا اور کمزور کر دیتا ہے۔ اس سے اس کی کھانے کو ٹھیک طرح سے ہضم کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ مگر یہ درست نہیں۔ کھانے کے دوران یا بعد میں پانی پینے سے جسم کو خوراک کی توڑ پھوڑ اور اسے ہضم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ اس سے پاخانہ بھی نرم ہوتا ہے۔

Vinkmag ad

Read Previous

Internet as a self-diagnostic tool

Read Next

حمل سے پہلے کن باتوں کا خیال رکھیں

Leave a Reply

Most Popular