جوتے کا انتخاب: دل کی نہیں، پاﺅں کی سنئے

294

ہمارا کلچر ‘ اس کی رسومات اور رہن سہن بہت خوبصورت ہے جسے دنیا بھر میں سراہا جاتا ہے ۔شادی بیاہ کی تقریبات میں اس کی کچھ جھلکیاں ذرا زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتی ہیں۔ اگرچہ اب یہ کچھ مدھم پڑتی جارہی ہیں لیکن پھر بھی کچھ علاقوں میں یہ پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں۔ ”جوتاچھپائی “کی رسم پاکستانی اور انڈین شادیوں میں شایدسب سے دلچسپ ‘ مزیداراور مقبول رواج ہے جس کا شرکاءمیں سے سبھی کو بے صبری سے انتظار ہوتا ہے۔
اس رسم میں دلہن کی بہنیں،کزنزاور سہیلیاں دولہے کا جوتا اتار کر یا چوری کر کے کہیںچھپا دیتی ہیں اور تب تک واپس نہیں کرتیں جب تک اس کے عوض دولہے میاں سے کچھ پیسے نہیں وصول لیتیں۔ اس دلچسپ رسم کو ادا کرنے کے لئے ”لڑکی والیاں“ اس موقع کی تاک میں رہتی ہیں جب وہ دولہے کا جوتا اڑا سکیں جبکہ دوسری طرف”شہ بالے “ یعنی دولہے کے خاص دوست مستعد پہرے دار کی طرح اس خاص جوتے کی حفاظت کرتے نظر آتے ہیں۔

جوتا اگرچہ مختلف رسموں کے علاوہ احتجاجاً کسی پر پھینکنے اور پاﺅں کی خوبصورتی کو مزید نمایاں کرنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے تاہم اس کا بنیادی مقصدپاﺅں کی حفاظت اور اسے آرام پہنچانا ہے۔ زینت، اگرچہ اس کا ایک اہم پہلو ہے لیکن یہ اس کااصل مقصد نہیں تاہم بہت سی جگہوں پر یہ اس پر حاوی نظر آتا ہے ۔خواتین میں یہ رجحان مردوں کے مقابلے میں زیادہ پایا جاتاہے ۔35سالہ نادیہ ایک ملازمت پیشہ خاتون ہیں جن کا کہناہے:
” میں چاہتی ہوں کہ میرے پاﺅں بھی خوبصورت نظر آئیں اور ظاہر ہے کہ اس میں جوتوں کا کردار بہت اہم ہے ۔ اس لئے جوتوں کے انتخاب میں اہم ترین چیز کوئی اور نہیں،صرف سٹائل ہوتا ہے ۔“

ہش پپیز(Hush Puppies) جوتوں کا ایک انٹرنیشنل برانڈ ہے جو 1958ءمیں قائم کیا گیا۔اس زمانے میںجوتے کی وجہ سے تھک جانے والے پاﺅں کو©”barking dogs“یعنی ”بھونکتے کتے“ کہا جاتا تھا۔ ”ہش پپیز“ ایسے ہی تھکے ہوئے پاﺅں کے لئے قائم کی گئی جس کا مقصدجوتے نرم،ہلکے اور آرام دہ جوتے تیار کر کے بھونکتے کتوں کو ہش کرنا یعنی بھگاناتھا۔ہش پپیز پاکستان کے ” ریٹیل ہیڈ“ احسن راشد اس تاثر کی تصدیق کرتے ہیں کہ خواتین کی اکثریت جوتوں میں آرام کے پہلو کو دیکھنے کی بجائے ان کے سٹائل پر توجہ دیتی ہے:
’©’میرامشاہدہ ہے کہ عورتیںگلیمر کی خاطر درد برداشت کرنے پر بھی تیار ہو جاتی ہیں جبکہ زیادہ تر مرد حضرات آرام دہ جوتا خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔“
نادیہ کا ذاتی تجربہ احسن راشد کے مشاہدے کی تصدیق کرتا ہے :

”دن بھر کام کے سلسلے میں بھاگ دوڑ کی وجہ سے شام کو پاﺅں سخت دُکھنے لگتے ہیں۔زیادہ دیر تک کھڑا رہنا یاپیدل چلنا پڑ جائے تو میرے پاﺅں کی انگلیاں ایک سائیڈ سے سخت دُکھنے لگتی ہیں اور کبھی کبھی تو ان میں زخم بھی بن جاتے ہیں۔“

پاﺅں کی صحت
(American Podiatric Medical Association)    امریکہ میں پاﺅں سے متعلق ماہرین کی تنظیم اے پی ایم اے

کے مطابق صحت مند پاﺅں کا ہماری عمومی صحت کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے ۔ دوسری طرف پاﺅں کو صحت مند رکھنے میں سب سے پہلا کردار ہمارے جوتوں کا ہی ہوتا ہے۔شفاءانٹرنیشنل ہسپتال، اسلام آباد سے تعلق رکھنےوالی پاﺅں اور ٹخنوں کے مسائل کی ماہر عائشہ وجاہت کا کہناہے:
”پاﺅں جسم کا ایک اہم حصہ ہےں لوگ اپنے چہرے کا تو خیال رکھتے ہیں لیکن پاﺅں کو نظر ان۔ ہمیں ان کا اسی طرح خیال رکھنا چاہئے جیسے ہم اپنے چہرے اوردوسرے اعضاءکا رکھتے ہیں۔“
نادیہ کا کہناہے کہ وہ اپنے پاﺅں کا خیال، چہرے ،بالوںیا ہاتھوں سے زیادہ نہیں رکھتیں۔اس معاملے میں مرد شاید زیادہ لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آبادکے ماہرامراض ِجلدپروفیسر احسن حمید کہتے ہیں:

”پاﺅں جسم کا وہ حصہ ہیں جن پر ہم سب سے کم توجہ دیتے ہیں۔ہم جسم پر پہننے کے لیے کپڑے تو دھو لیتے ہیں مگر جوتوں کو شاذونادر ہی دھلواتے،انہیں خشک یا اندر سے اچھی طرح صاف کرتے ہیں۔ اگر ہم روزانہ پاﺅں دھوتے بھی ہیں مگر مناسب طور پر صاف نہ کئے گئے جوتے پہن لیتے ہیں تو ہمیںسمجھ لینا چاہئے کہ ہمارے پاﺅں جراثیم اور بیماری لگنے سے محفوظ نہیں۔“
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ روزمرہ استعمال کے لیے ایک یا دو جوتے ہی پہنتے ہیں۔لمبے عرصے تک ایک ہی جوتا پہننے سے پاﺅں میں پسینے ،پاﺅں کی انگلیوں کا بہت نرم یا پلپلاہٹ (Maceration) کا شکارہوجانے اورپھپھوندی لگنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کو اپنے پاﺅں کا دُگناخیال رکھنا چاہئے‘ اس لئے کہ اگران کے پاﺅں میں کوئی چوٹ لگ جائے تو زخم دیر سے مندمل ہوتا ہے اور اگر وہ بگڑجائے تو پاﺅں کا السر بھی بن سکتا ہے۔ایسے مریضوں کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ ان کا جوتا ان کے پاﺅں کے لیے کسی تکلیف کا باعث نہ بنے۔
جوتا ہیل والاہو یا فلیٹ ،33سالہ اسماءکے لیے دونوں ہی تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ان کا کہنا ہے :
”جب میرے پاﺅں میں زیادہ درد ہو تو میں گرم پانی میں نمک ملا کر پاﺅں ان میں بھگو دیتی ہوں۔ایسا کرنے سے مجھے بہت سکون ملتا ہے اور پاﺅں بہت ہلکے پھلکے محسوس ہونے لگتے ہیں۔‘ ‘

غیرموزوںجوتے اور ان کے نقصانات
ُ    پاﺅں کی صحت کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے لئے موزوں ترین جوتا خریدنابھی اہم ہے ۔”اے او ایف اے ایس “ (American Orthopaedic Foot and Ankle Society) کے مطابقتقریباً تین چوتھائی لوگوں کو پاﺅں میں جوتے کی وجہ سے کو ئی نہ کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے:
”اکثر لوگ اپنے ناپ کے مطابق جوتے نہیںپہنتے ۔یا تو وہ تنگ ہوتے ہیں یا بہت کھلے جو ان کے پاﺅں میں فٹ نہیں آتے۔ نیز جوتا اگرہوابند(air tight) یا غیر موزوں ساخت کا ہو تو پاﺅں کے مسائل بھی دگنے ہو جائیں گے۔“
بلا شبہ پاﺅں سے متعلق کچھ بیماریاں یا مسائل ہمارے بس میں نہیں ہوتے تاہم ان میں سے بہت سے ایسے بھی ہیں جن کا سبب جوتے کے انتخاب میں ہماری غلطی یا لاپرواہی ہوتی ہے۔مختلف جوتے اور ان کے پیداکردہ مسائل درج ذیل ہیں:

تنگ جوتے
روشن علی کا کہناہے کہ ناخنوں میں پھپھوندی لگنے،پاﺅں پر مسے یا گومڑ بن جانے، انگوٹھے کے ناخن اندر دھنس جانے،جلدکے سخت ہو جانے، پیروں کے درد کی بیماری (Athlete’s foot)، دوسری اور تیسری انگلی کے مستقل خم (Hammer Toes)اور آبلے بننے کا ایک بڑا سبب تنگ جوتے ہیں۔ یہ مسائل پاﺅں کو خراب کرتے رہتے ہیں اور آخر میںانہیں کوئی بڑا مرض لگ جاتا ہے۔ان کے مطابق پاﺅں کے کسی حصے کا لال ہو جاناغلط جوتا پہننے کی پہلی نشانی ہوتی ہے ۔اس کے بعد اس میں آبلہ بنتا ہے۔یہ کوئی بڑی بیماری نہیں تاہم پاﺅں کے کسی حصے میں لالی آنے یااس میں آبلہ بننے سے بہت تکلیف ہوتی ہے ۔
”اے پی ایم اے“ کے مطابق ہر 10میں سے 7 خواتین کے پاﺅں کا انگوٹھا کبھی نہ کبھی سوجن وغیرہ کا شکار ہوتا ہے جبکہ ہر 10 میں سے 9خواتین کے پاﺅں خراب ہونے کی اہم وجہ غلط جوتے کا استعمال ہوتا ہے۔

ہائی ہیل والے جوتے
قد کو اونچا ظاہر کر کے فرد کی خوبصورتی میں اضافہ کرنے والی ”ہائی ہیلز“ یا اونچی ایڑی والے جوتے خواتین میں بے پناہ مقبول ہیں۔بازار میں جائیں تو پنسل کون،ویج اور پمپ ہیل سمیت نہ جانے کیسی کیسی اقسام دیکھنے کوملتی ہیں۔شادی بیاہ کا موقع ہو یا روزمرہ استعمال کی بات، کچھ خواتین یہ جوتاپہنے بغیر باہر نکلنے کا تصور بھی نہیں کر سکتیں۔
43سالہ شبانہ حمید کہتی ہیں کہ’میرا قد بہت چھوٹا ہے۔اگر میں ہیل نہ پہنوں گی تو بہت ہی چھوٹی لگوں گی‘ اس لیے میں ہمیشہ ہیل ہی پہنتی ہوں۔‘ 16سالہ عینی کا کہنا ہے کہ ’ہیل بڑی ڈیسنٹ لگتی ہے اور یہ ہمیشہ میرے اعتماد کو دگنا کرنے کا سبب بنتی ہے ۔‘
ہیل چاہے قد بڑھانے کے لیے پہنی جائے یا اعتماد میں اضافے کے لیے‘ یہ جاننا انتہائی اہم ہے کہ اس کا زیادہ استعمال خواتین میں جوڑوں کے درد اور گھٹنوں کی دیگر بیماریوں کا باعث بنتا ہے ۔ شفاانٹرنیشنل ہسپتال ،اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ماہرہڈی و جوڑ ڈاکٹر ظفراللہ کا کہنا ہے :
” ہیل والے جوتے پہننے سے سارا پریشر ایڑی پر پڑتا ہے لہٰذا اس کا مسلسل استعمال اسے متاثر کر سکتاہے۔ ایڑی کی ایک تکلیف دہ بیماری پلانٹرفیسائٹس(planter fasciitis) کی ایک وجہ ہیل والے جوتے کا مسلسل استعمال بھی ہے ۔“
اکثر دیکھا گیا ہے کہ خواتین میںگھٹنوں اور جوڑوں کا درد زیادہ عام ہے۔ڈاکٹر ظفراللہ کے مطابق اس کی ایک وجہ لمبے عرصے تک ہیل والے یا غلط جوتے کا استعمال بھی ہوسکتاہے۔خواتین کی طرح مردوں کے ڈریس شوز،کٹ ہیل والے جوتے(cut heel shoes)بھی مردوں کی کمر میں دردکا باعث بن سکتے ہیں کیونکہ یہ ان کے پاﺅں کے اگلے حصے پر زیادہ پریشر ڈالتے ہیں۔ غلط جوتے پہننے سے ریڑھ کی ہڈی بھی متاثر ہوتی ہے جس سے کمر کی شکل میں فرق آ سکتا ہے۔اس سے انسان کی چال بھی متاثر ہوتی ہے۔ مزید براں ہائی ہیل استعمال کرنے والی خواتین کے پنڈلی کے پٹھے چھوٹے اورسخت ہو جاتے ہیں۔نیز انہیں ٹینڈن(سخت سفید ریشہ دار نس جو پٹھے کو ہڈی سے جوڑتی ہے) کے موٹے ہونے کی بیماری (Achilles tendons)بھی لاحق ہو سکتی ہے۔
” اے او ایف اے ایس“ کے مطابق غلط جوتا مسلسل پہننے سے ریڑھ کی ہڈی کی ڈسک ہل جاتی ہے ۔اس سے پٹھوں میں اینٹھن ہو سکتی ہے جو پورے جسم میں درد کا باعث بنتی ہے۔ لہٰذا غلط جوتے‘ خصوصاً ہیل والے جوتے کے غلط اوربے جا استعمال سے پرہیز کرنا چاہئے‘ البتہ اس کے کبھی کبھی استعمال میں کوئی حرج نہیں۔

فلیٹ جوتے
اکثر لوگ سوچتے ہیںکہ فلیٹ جوتے (جو بالکل سیدھے اور بغیر ہیل کے ہوں) استعمال کرنے چاہئےں‘ اس لئے کہ وہ پاﺅں کی صحت کےلئے زیادہ موزوں ہیں ۔ ڈاکٹر ظفر اللہ کے مطابق یہ تاثر درست نہیں:
”یہ ایک غلط مفروضہ ہے کہ ہموار جوتے پاﺅں کے لئے فائدہ مند ہیں۔ بالکل فلیٹ جوتے پاﺅں کی ساخت کے مطابق نہیں ہوتے اورپتلے تلوے (sole)والے جوتے چلتے وقت پاﺅں سے پیدا ہونے والے جھٹکے کو سہہ نہیں پاتے۔“
اس بارے میںاپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ماہر امراض پاﺅں(Pedicurist روشن علی کہتے ہیں کہ جب پاﺅں کے نچلے حصے کی ترچھی محراب(arch) کو سہارا نہیں ملتا تو وہ پاﺅں کی شکل کو متاثر کرنا شروع کر دیتی ہے۔اس سے پاﺅں اندر کی جانب گھومنا(رول ہونا) شروع کر دیتاہے ۔اس وجہ سے اس میں موجود رباط(legaments) اور نسیں کھِچ کر گھٹنے کی جانب چڑھنے لگتی ہیں۔اس سے مریض کو تکلیف ہوتی ہے اور نتیجتاً وہ کسی بیماری کا شکار بھی ہو جاتا ہے۔

جوتا کیسا خریدیں
جوتاخریدتے وقت درج ذیل امورکا خیال رکھنا چاہئے :
٭ غیر آرام دہ جوتے لوگوں کو لنگڑا کر چلنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔اس لئے احسن راشد کا کہنا ہے کہ’جوتے وہ خریدیں جو آپ کو لے کر چلیں ‘ نہ کہ وہ جنہیں آپ کو لے کر چلنا پڑ جائے‘۔
٭ڈاکٹر ظفر اللہ کے مطابق ایسا جوتا خریدنے سے پرہیز کریں جو اندر سے بالکل سیدھا ہو۔اس کے برعکس ایسا جوتا خریدیں جواندر سے تھوڑا سا مڑا ہوا ہو۔نیز اس کی محراب (arch) انگلیوں کی جانب سے تھوڑی اوپر کو اٹھی ہونی چاہئے ۔
٭جوتا پیچھے سے بند ہونا چاہئے تاکہ گرفت اچھی رہ سکے۔
٭یہ بھی خیال رہے کہ اس کے پنجے کا حصہ تھوڑا کھلا ہو لیکن یہ اتنا کھلا بھی نہ ہو کہ پاﺅں باہر نکل جائے۔
٭تلواایسا ہونا چاہیے جو کام کرنے میں رکاوٹ نہ ڈالے۔
٭جوتے نرم اور لچک دار ہونے چاہئیں ۔
٭ اگر ہیل والے جوتے خریدنا ہوں تو بلاک ہیل(block heel) کو ترجیح دیں کیونکہ یہ پاﺅں کے لیے نسبتاً بہتر ہے۔
٭ہمیشہ معیاری جوتے کا انتخاب کریں۔
٭جوتا خریدتے وقت محض سیلز مین کی باتوں پر اعتماد نہ کریں‘ اس لئے کہ ضروری نہیں کہ وہ بھی پاﺅں کی صحت کے اصولوں سے آگاہ ہو۔یاد رکھیں کہ اپنے پاﺅں کے بارے میںآپ سے بہتر کوئی نہیں جانتا ۔
٭ جوتا خریدتے وقت پاﺅں کے ناپ سے ذرابڑے اور چھوٹے، دونوں سائز کے جوتے پہن کر چیک کرلیں۔جوتا اتنا تنگ نہیں ہونا چاہئے کہ جرابوں کے ساتھ پہننے کی جگہ ہی نہ رہے اور نہ پاﺅں کی انگلیاں ہلائی جا سکیں۔
حاصلِ بحث یہ ہے کہ جوتا ہمارے ذاتی استعمال کی ایسی چیز ہے جس کا غلط انتخاب کیا جائے تو یہ تکلیف پہنچنانے کے علاوہ کمر اور جوڑوں کے بہت سے مسائل کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ جوتا خریدتے وقت دل کی نہیں‘ پاﺅں کی سنیں۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts