ایک نفسیاتی بیماری سیلفی کا جنون

438

 اپنے بارے میں سوچنا، اپنے آپ کو خوب تربنانے کی جدوجہدکرنااور عزیز واقارب کے حلقے میں اس حوالے سے سرگرمیاں کرنا ایک حدتک انسانی فطرت کا تقاضا ہے جسے” سلیفی“ نے ایک نئی راہ سجھائی ہے۔تاہم ماہرین نفسیات نے کثرت سے سیلفیاں لینے کی بے قابو ہوجانے والی خواہش کوذہنی بیماریوں میں شمار کرلیا ہے۔خالد رحمٰن کی ایک دلچسپ اور معلومات افزاءتحریر
——————————————————————————————————————————————————————

لڑکی نے موبائل فون سے اپنی تصویر لے کردیکھی تو اسے بہت بھلی لگی جس پر وہ بہت خوش ہوئی ۔ اس نے یہ اپنی سہیلی کوبھیجی اور ساتھ ہی یہ پیغام بھی لکھاکہ ”ہماری دوستی کتنی پیاری ہے۔“
پیغام بھیجتے وقت اسے اندازہ نہ تھا کہ یہ اس کی زندگی کا آخری خوشگوار لمحہ ہوگا ۔ جب سہیلی نے یہ تصویردیکھی تو اسے اپنی دوست کو لاحق خطرے کا احساس ہوا۔ اُس نے اسے محتاط رہنے کا پیغام بھیجا جس کاکوئی جواب نہ ملا۔ اضطرابی کیفیت میں اُس نے لڑکی کی ماں کووہ تصویر ارسال کی تاکہ وہ اپنی بیٹی کو خطرے سے خبردار کرسکے لیکن تب تک لڑکی کی موت واقع ہوچکی تھی۔
تصویر میں آخر ایسی کیابات تھی جوبچی کی موت کاسبب بن گئی؟

معلوم ہوا کہ گھر سے نکلتے ہوئے اس نے اپنی ماں کو بتایا تھا کہ وہ چہل قدمی کے لیے جارہی ہے۔ غالباً اسی دوران اسے خیال آیا کہ وہ بلندی پر جاکر اپنی اچھی سی تصویر بنائے‘ایک ایسی تصویرجس کے پس منظرمیں شہر اور گردونواح کا پوراعلاقہ نظرآرہاہو۔ اس نے یہ سیلفی عمارت کی 17ویں منزل پر واقع بالکونی پربیٹھ کرلی ۔ اسی عمارت کے ایک بلاک میں وہ اپنی فیملی کے ساتھ رہائش پذیر تھی۔ تصویراسے بہت اچھی لگی چنانچہ اس نے ریلنگ پر بیٹھے بیٹھے ہی اسے اپنی سہیلی کو بھیجنا چاہا۔ تصویر تو اپنی منزل مقصود کی طرف چلی گئی لیکن اس دوران وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور نیچے گر گئی ۔ اتنی بلندی سے گرنے کے بعد کوئی معجزہ ہی اسے بچا سکتا تھا‘ لیکن ظاہر ہے کہ معجزات روز روزرونما نہیں ہوتے۔
سڑک پر چلتے راہگیروں نے اس کی نعش دیکھی تو پولیس کو مطلع کیاجس نے ضابطے کی کارروائی مکمل کی۔

حادثہ کوئی بھی ہو‘ تفتیش تو ہر زاوئیے سے کی جاتی ہے ۔چنانچہ مرنے والی لڑکی کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیات بھی زیربحث آئیں لیکن کوئی ایسی وجہ سامنے نہ آئی جس سے خودکشی کا گمان ہوتا ہو۔ تعلیمی اعتبار سے وہ ایک کامیاب طالبہ تھی اور معمول سے ہٹ کر کچھ اضافی کورسز بھی کررہی تھی۔ وہ ایک ہنس مکھ لڑکی تھی اوراچھاخاصاحلقہ تعارف رکھتی تھی لہٰذا اس کے لئے تنہائی بھی مسئلہ نہ تھا۔ اس کی دوست نے بتایا کہ اسے سوشل میڈیا کے لیے ذرا ہٹ کے سیلفیاں لینے کاجنون کی حد تک شوق تھا۔

منفرداورغیرمعمولی سیلفی لینے ‘اسے دوستوں کے ساتھ شیئر کرنے یا سوشل میڈیا پرپوسٹ کرنے کے شوق کو پورا کرنے کی کوشش میں جان سے ہاتھ دھوبیٹھنے کا یہ کوئی منفرد واقعہ نہیں ہے۔ ایسے واقعات دنیا کے ہرحصے میں رونماہورہے ہیں اور ان کی خبریں بھی ذرائع ابلاغ میں آتی رہتی ہےں۔ کہیں کوئی نوجوان کھڑی یاچلتی ٹرین کی چھت پر چڑھ کر سیلفی لینے کی کوشش میں جان سے گیا تو کہیں اسی کوشش میں گاڑی بے قابو ہوکرحادثے کاشکار ہو گئی ۔اسی کوشش میں پُل سے گرنے، دریامیں ڈوب جانے‘ساحل سمندر پر لہروں کی نذر ہوجانے اور اپنے ہاتھ میں پکڑی بندوق کا ٹریگر دب جانے اور نتےجتاً فرد کے زخمی یا ہلاک ہوجانے کے بیسیوں واقعات منظرعام پرآچکے ہیں۔
اس تناظر میں بڑھتے ہوئے حادثات نے فطری طورپر ماہرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔ ایسے میں حادثات کی روک تھام کے لیے اقدامات اور امکانی ضابطوں کے علاوہ سیلفی لینے کارجحان بھی زیربحث ہے جو لوگوں‘بالخصوص نوعمروں میں ایک وباءکی شکل اختیارکرگیاہے۔

 

دلچسپ بات یہ ہے کہ اے پی اے(American Psychological Association) نے کثرت سے سیلفیاں لینے کی بے قابو ہوجانے والی خواہش کوذہنی بیماریوں میں شمار کرلیا ہے۔ بات یہیں تک محدود نہیںرہی بلکہ یہ تحقیق کاایک شعبہ قرار پایا ہے اور اس میدان میں کام کرنے والوں کے لئے سیلفی ٹسٹ) (selfitist کی اصطلاح بھی وضع کی گئی ہے۔ اس ”ڈس آرڈر“ کو تین حصوں میں تقسیم کیاگیا ہے۔ اگر کوئی شخص دن میں تین سیلفیاںتولے لیکن انہیں سوشل میڈیا پر پوسٹ نہ کرے تواسے یہ بیماری لگی نہیں تاہم وہ اس کی سرحد پرکھڑاہے۔ اگر وہ یہ تینوں تصویریں پوسٹ بھی کررہاہے تو وہ مرض کا قلیل المعیاد(acute)سطح پر شکار ہوچکا ہے۔ اگرکوئی شخص چھ سیلفیاں روزانہ پوسٹ کرے تو اس کا مرض طویل المعیاد (chronic) ہوچکاہے۔ اے پی اے کے نقطہ نظر پر قانونی اورعلمی بحث سے قطع نظر کسی ایسے شوق میں جنون کی کیفیت پیدا ہوجائے تواسے بہرحال سنجیدگی سے دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔
اپنے بارے میں سوچنا، اپنے آپ کو خوب تربنانے کی جدوجہدکرنااور عزیز واقارب کے حلقے میں اس حوالے سے سرگرمیاں کرنا ایک حدتک انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔ سلیفی نے اس نفسیاتی ضرورت کو پورا کرنے کی ایک نئی راہ سجھائی ہے‘تاہم اس رجحان کا حدود سے تجاوز کرتے چلے جانا اس بات کی بھی علامت ہے کہ لوگوںکے سامنے ’ہلے گلے‘ یعنی زندگی سے زیادہ سے زیادہ لطف اندوز ہونے سے بڑا مقصد کوئی نہیں ہے۔اسی سوچ کے زیر اثر وقت اور توانائیوں کابڑاحصہ اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کوششوں میں ہی صرف ہورہا ہے۔
اگر زندگی کاکوئی بڑامقصد سامنے ہوتو اس کے حصول کے لیے کرنے کو اتنے کام نکل آتے ہیں کہ اس طرح کے شوق خودبخود اعتدال میں آجاتے ہیں۔