بال کیوں گرتے ہیں

2

بال کیوں گرتے ہیں

بالوں کے حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ ان کا گرنا ہے۔  ہر انسان کے سر پر اوسطاً ایک لاکھ بال ہوتے ہیں جن میں سے اوسطاً100سے 150بال روزانہ ختم ہوجاتے ہیں ۔ اگر کسی کے بال اتنی تعداد میں گرتے ہوں تو یہ نارمل بات ہے ۔ اگروہ اس سے زیادہ گریں تو پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ زیادہ گر رہے ہیں۔ اس کی وجوہات مردوں اور عورتوں میں مختلف ہوتی ہیں ۔

’’مردوں میں بال گرنے کی سب سے بڑی وجہ کچھ ہارمونز کا کم یا زیادہ ہونا ہے ۔ جبکہ عورتوں میں اس کی وجوہات بہت سی ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ آئرن کی کمی ہے۔ اکثر عورتوں کا ہیموگلوبن بہت کم ہوتا ہے لیکن وہ اس پر توجہ دینے کی بجائے بالوں پر انڈے اور دہی لگانے کی فکر میں رہتی ہیں۔ دوسری وجہ ہارمونز کا عدم توازن ہے جس کا سبب حمل‘بیماری‘ انجیکشن یا ۔جسمانی سرگرمی ہو سکتی ہے

ایک تاثر یہ بھی ہے کہ پانی بدلنے سے بال گرنے لگتے ہیں۔  صرف پانی بدلنے سے بال نہ تو گرتے ہیں اور نہ گرنا بند ہوتے ہیں‘ اس لئے کہ اس کا تعلق آب و ہوا سے ہوتا ہے۔
فرض کریں کہ ایک شخص کے بال لاہورمیں ٹھیک رہتے ہیں لیکن جب وہ سرگودھا آتا ہے تو اس کے بال گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر وہ لاہور سے اپنے ساتھ پانی کا ڈرم لے آئے اور اس کے ساتھ سر دھوتا رہے تو بھی اس کے بال گریں گے۔ اس لئے کہ مسئلہ صرف پانی سے نہیں بلکہ پوری آب وہوا سےہے۔

البتہ کینسر کی صورت میں چونکہ خلیوں کی تعداد بے تحاشا بڑھتی ہے لہٰذا انہیں روکنے کے لئے ادویات دی جاتی ہیں جن سے ان کی پیداوار رک جاتی ہے ۔بال بھی اپنے خلیوں کی تقسیم در تقسیم کی وجہ سے بڑھتے ہیں۔ ان دوائوں سے ان کے خلیوں کی پیداواربھی رک جاتی ہے جس سے نئے خلئے نہیں بنتے اور بال گر جاتے ہیں۔ یوں کینسر میں بال گرنے کا تعلق مرض سے نہیں بلکہ اس کی ادویات سے ہے۔

بالوں کی سفیدی

ہمارے خطے میں 26 سال کی عمر کے بعد تقریباً50 فی صد لوگوں کے بال سفید ہونے لگتے ہیں۔ اگروہ 20 سال کی عمر سے پہلے سفید ہونا شروع ہو جائیں تو انہیں بالوں کا جلدی سفید ہوناکہا جائے گاجس کا سبب موروثیت ہے۔

بالوں کے دو منہ

 بالوں پرزیادہ کیمیکلز استعمال کرنے کی وجہ سے ان کی بیرونی سطح خراب ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں بال ٹوٹنے لگتے ہیں اور ان کے دو منہ بن جاتے ہیں۔ اگر بالوں کو کچھ عرصے کے بعد سروں پر سے تھوڑا سا کاٹ لیا جاتا رہے اورانہیں سٹریٹنر سے سیدھا کرنے سے پرہیز کیا جائے تو اس سے بچا جا سکتا ہے۔

بالوں کی خشکی

 ہمارے سر سے قدرتی طور پر ایک چکنی رطوبت خارج ہوتی ہے جسے سیبم کہا جاتا ہے جو بالوں کی نشوونماکے لیے ضروری ہے۔ اس میں تھوڑی بہت پھپھوندی  بھی ہوتی ہے جسے ہم خشکی کا نام دیتے ہیں۔ سرد موسم میں یہ رطوبت ذرا زیادہ خارج ہوتی ہے جس کے باعث خشکی بڑھ جاتی ہے ۔ اگر وہ بہت زیادہ ہوجائے تو ڈاکٹر سے معائنہ کرا لیناچاہیے ‘ اس لئے کہ وہ دواؤں کے استعمال سے ٹھیک ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اینٹی ڈینڈرف شیمپو کابھی استعمال کرنا چاہیے۔

صابن یا شیمپو

 صابن،واشنگ پائوڈر یا شیمپو بنیادی طور پر ایک ہی چیز ہیں۔اس کا آغاز واشنگ پائوڈرسے ہوا جس سے بال  دھل تو جاتے لیکن ان میں خشکی آجاتی  ۔اس کے بعد کپڑوں والاصابن آیا جس سے سر بھی دھویا جاتا پھر ہاتھ دھونے والاصابن آیا اور آخر میں شیمپو متعارف ہوا۔ یہ اچھا ہے‘ اس سے بال ٹوٹتے نہیں لیکن کوشش کریں کہ آپ کاشیمپو سلفرفری اور برانڈڈ ہو۔ کنڈیشنربھی اچھی چیز ہے جو بالوں پر آنے والی خشکی کو ختم کرتا ہے ۔ یہ ایک طرح کا موسچرائزر ہے۔اسی طرح ’’سیرم ‘‘بالوں میں چمک لاتا ہے،انہیں ٹوٹنے سے بچاتا اور ریشمی کرتا ہے ۔

ماہرین صحت کے مطابق صحت مند بالوں کے لئے ان ہدایات پر عمل کریں

٭ آپ کے بالوں کی ایک قدرتی ہیئت ہے جسے تبدیل نہ کریں۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو وہ کمزور ہوجائیں گے۔

٭ اپنے بالوں کو کسی بھی برانڈڈ شیمپو سے ہفتے میں کم از کم دو مرتبہ ضرور دھوئیں۔

٭دھوپ میں شامل الٹراوائلٹ شعاعیں بالوں کو نقصان پہنچاتی ہیں لہٰذا دھوپ میں ننگے سر زیادہ دیر مت رہیں۔

٭ بالوں کو رنگتے وقت ان کے صرف سروں پر رنگ استعمال کریں‘  جڑوں کو رنگنے سے الرجی کی شکایت ہو سکتی ہے۔

٭ سختی سےچٹیاا یا سکارف باندھنا ان کے ٹوٹنے کا سبب بن سکتا ہے۔اس لیے سکارف پہنتے یابالوں کے سٹائل بناتے وقت انہیں ذرا ڈھیلا رکھیں۔

Causes of hair fall, white hair, chemicals, soap, shampoo

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x