Vinkmag ad

آٹونومک نیوروپیتھی: خودکاراعصاب کی خرابی

آٹونومک نیورو پیتھی(Autonomic neuropathy)  اس وقت ہوتی ہے، جب جسم کے خودکار افعال کو کنٹرول

کرنے والے اعصاب متاثر ہو جائیں۔ یہ خرابی بلڈ پریشر، جسمانی درجۂ حرارت کے کنٹرول، ہاضمے، مثانے کے

افعال اور جنسی افعال کومتاثر کرسکتی ہے۔ متاثرہونےوالےاعضا میں دل،خون کی نالیاںاورپسینے کےغدودوشامل ہیں۔

علامات

خودکاراعصابی خرابی کی علامات اس بات پرمنحصرہوتی ہیں کہ کون سےاعصاب متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں شامل ہیں:

کھڑے ہونے پر اچانک بلڈ پریشر کم ہو جانا:

جسکی وجہ سے چکر آتے ہیں اور انسان بیہوش ہو جاتا ہے

پیشاب سے متعلق مسائل:

جیسے پیشاب کرنے میں دشواری، مثانے پر قابو نہ رہنا، مثانہ بھر جانے کا احساس نہ ہونا یا مثانہ

مکمل طور پر خالی نہ ہو پانا۔

جنسی مسائل:

جن میں مردوں میں عضوِ تناسل میں تناؤ پیدا کرنے یا برقرار رکھنےمیں دشواری، یا انزال سےمتعلق

مسائل شامل ہیں۔ خواتین میں اندام نہانی کی خشکی، جنسی خواہش میں کمی اور جنسی تسکین تک

پہنچنے میں دشواری ہو سکتی ہے

ہاضمے کے مسائل:

جیسے چند لقمے کھانے کے بعد ہی پیٹ بھر جانے کا احساس، بھوک کم لگنا، اسہال، قبض،

پیٹ پھولنا، متلی، قے، نگلنے میں دشواری اور سینے کی جلن۔ یہ تمام علامات نظامِ ہضم کے افعال میں خرابی

کے باعث پیدا ہوتی ہیں

پسینے سے متعلق مسائل:

جیسے بہت زیادہ یا بہت کم پسینہ آنا۔ اس سے جسم کے درجۂ حرارت کو معمول پر

رکھنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے

٭ آنکھ کی پتلی کا روشنی کے مطابق آہستہ ردعمل، جس سے روشن جگہ سے اندھیرے میں جانے پر یا رات کے

وقت گاڑی چلاتے ہوئے واضح دیکھنے میں دشواری ہو سکتی ہے

٭ ورزش برداشت نہ کر پانا، کیونکہ دل کی دھڑکن جسمانی سرگرمی کے مطابق بڑھنے کے بجائے ایک جیسی رہ سکتی ہے

وجوہات

کئی میڈیکل مسائل خودکار اعصاب کی خرابی کا سبب بن سکتے ہیں۔ بعض اوقات یہ دیگر بیماریوں، جیسے کینسرکےعلاج

کے دوران استعمال ہونے والی ادویات کے مضراثرکی وجہ سے بھی پیدا ہو سکتے ہے۔ اس کی عام وجوہات یہ ہیں:

ذیابیطس:

خاص طور پر اگریہ مناسب طورپرقابو میں نہ ہو۔ یہ خودکار اعصاب کی خرابی کی سب سے عام وجہ ہے۔

ذیابیطس وقت کے ساتھ پورے جسم کے اعصاب کو نقصان پہنچا سکتی ہے

 اعضا میں غیر معمولی پروٹین کا جمع ہونا (ایمیلائیڈوسس):

یہ کیفیت اعضا اور اعصابی نظام کو متاثر کر سکتی ہے

 خودکار مدافعتی بیماریاں:

ان بیماریوں میں جسم کا مدافعتی نظام اپنے ہی اعصاب اور دیگر اعضا پر حملہ کر دیتا ہے۔

ان میں سجوگرین سنڈروم، سسٹمک لیوپس ایریتھیماٹوسس، ریمیٹائڈ گٹھیا، سیلیک بیماری اور گیلین بیری سنڈروم شامل ہیں۔

گیلین بیری سنڈروم تیزی سے پیدا ہونے والی خودکار مدافعتی بیماری ہے، جوخودکاراعصاب کو بھی متاثرکرسکتی ہے

 بعض کینسر:

بعض اوقات کینسرکے باعث مدافعتی نظام کا غیر معمولی ردعمل خودکار اعصاب کی خرابی کا سبب بن سکتا ہے

 بعض ادویات:

خاص طور پر کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی بعض کیموتھراپی ادویات

 بعض وائرس اور بیکٹیریا:

جیسے ایچ آئی وی، اس کے علاوہ بوٹولزم اور لائم بیماری کا سبب بننے والے جراثیم

 بعض موروثی بیماریاں:

بعض وراثتی بیماریاں بھی خودکار اعصاب کی خرابی کا سبب بن سکتی ہیں

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟

اگرخودکاراعصاب کی خرابی کی کوئی بھی علامت ظاہر ہو تو فوراً ڈاکٹرسے رجوع کریں، خاص طور پر اگر

آپ کی ذیابیطس مناسب طور پر قابو میں نہ ہو۔

اگر آپ کو ٹائپ 2 ذیابیطس ہے، تو تشخیص ہوتے ہی ہر سال خودکار اعصاب کی خرابی کا ٹیسٹ کروانا چاہیے۔

اگر آپ کو ٹائپ 1 ذیابیطس ہے، تو تشخیص کے پانچ سال بعد سے ہر سال اس خرابی کے لئے ٹیسٹ کی تجویز دی جاتی ہے

خطرے کے عوامل

کچھ عوامل خودکار اعصاب کی خرابی کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں، جن میں شامل ہیں:

ذیابیطس

دیگر بیماریاں :

بعض طبی مسائل، جیسے ایمیلائیڈوسس،  ہائپوتھائیرائڈزم اور کینسر، خودکار اعصاب کی خرابی کا

خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ کینسر میں یہ خطرہ اکثر علاج کے مضر اثرات کی وجہ سے ہوتا ہے

بچاؤ

بعض موروثی بیماریاں، جو خودکاراعصاب کی خرابی کا خطرہ بڑھاتی ہیں، ان سے بچاؤ ممکن نہیں۔ تاہم، اچھی صحت

برقراررکھنے اوراپنی بیماریوں کا مناسب علاج کروانے سےعلامات کےآغاز کو مؤخر کیا جا سکتا ہے یا ان کی

شدت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

اپنی بیماریوں پر قابورکھنے اورصحت بہتر بنانے کے لیے ڈاکٹر کی ہدایات پرعمل کریں، جن میں یہ مشورےشامل ہوسکتے ہیں:

٭ اگرآپ کو ذیابیطس ہے، توخون میں شکر کی سطح کو قابو میں رکھیں

٭ شراب نوشی اورتمباکو نوشی سے پرہیز کریں

٭ اگر آپ کو خودکار مدافعتی بیماری ہے، تواس کا مناسب علاج کروائیں

٭ بلند بلڈ پریشر کو قابومیں رکھیں

٭ وزن کوصحت مند حد میں برقراررکھیں

٭ باقاعدگی سے ورزش کریں

تشخیص

خودکاراعصاب کی خرابی بعض بیماریوں کی ایک ممکنہ پیچیدگی ہے۔ تشخیص کے لیے ضروری جانچ آپ کی علامات اور

خطرے کے عوامل پر منحصر ہوتی ہے۔

اگر آپ میں خطرے کے عوامل موجود ہوں

اگر آپ کو ذیابیطس یا کوئی ایسی بیماری ہے، جو خودکار اعصاب کی خرابی کا خطرہ بڑھاتی ہے، اور اعصابی خرابی کی

علامات بھی موجود ہیں، تو ڈاکٹر جسمانی معائنہ کریں گے اور آپ کی علامات کے بارے میں پوچھیں گے۔

اگر آپ کینسر کے علاج کے دوران ایسی دوا استعمال کر رہے ہیں، جو اعصاب کو نقصان پہنچا سکتی ہے، تو ڈاکٹر اعصابی

خرابی کی علامات کا جائزہ لیں گے۔

اگر آپ میں خطرے کے عوامل موجود نہ ہوں

اگر آپ میں خودکار اعصاب کی خرابی کی علامات موجود ہوں، لیکن خطرے کے عوامل نہ ہوں، تو تشخیص کے لیے مزید

تفصیلی جانچ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ معالج آپ کی میڈیکل ہسٹری معلوم کریں گے، علامات پر بات کریں گے اور جسمانی

معائنہ کریں گے۔

معالج خودکار اعصابی نظام کے افعال جانچنے کے لیے یہ ٹیسٹ تجویز کر سکتے ہیں:

٭ خودکار اعصابی افعال کے ٹیسٹ

٭ ٹِلٹ ٹیبل ٹیسٹ :

٭ نظامِ ہضم کے ٹیسٹ:

٭ پسینے کے اعصابی ردعمل کا ٹیسٹ:

 

٭ جسم کے درجۂ حرارت اور پسینے کا ٹیسٹ:

٭ پیشاب اور مثانے کے ٹیسٹ:

٭ الٹراساؤنڈ:

علاج

خودکاراعصاب کی خرابی کے علاج میں یہ اقدامات شامل ہیں:

٭ بنیادی بیماری کا علاج:

علاج کا پہلا مقصد اس بیماری یا کیفیت پر قابو پانا ہے، جو اعصاب کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

اگراعصاب کو نقصان ذیابیطس کی وجہ سے ہوا ہو، تو خون میں شکر کی سطح کو سختی سے قابو میں رکھنا ضروری ہے،

تاکہ اعصابی نقصان مزید نہ بڑھے۔ تاہم، تقریباً نصف مریضوں میں اس خرابی کی کوئی واضح بنیادی وجہ معلوم نہیں ہو پاتی

٭ علامات کا علاج:

خودکاراعصاب کی خرابی کی بعض علامات کو مختلف طریقۂ علاج سے کم کیا جا سکتا ہے۔ علاج کا

انتخاب اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ اعصاب کے نقصان سے جسم کا کون سا حصہ زیادہ متاثر ہوا ہے

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا خون میں شکر کی سطح قابو میں رکھنے سے خودکار اعصاب کی خرابی کا خطرہ کم ہو سکتا ہے؟

جی ہاں۔ ذیابیطس کو مناسب طور پر قابو میں رکھنے سے اعصاب کو نقصان پہنچنے کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔

کیا تمباکو نوشی اور شراب نوشی اعصابی صحت پر اثر ڈال سکتی ہیں؟

جی ہاں۔ ان سے پرہیز مجموعی صحت اور اعصابی نظام کے لیے فائدہ مند ہے۔

کیا صحت مند وزن برقرار رکھنا اس خرابی سے بچاؤ میں مددگار ہو سکتا ہے؟

جی ہاں۔ صحت مند وزن اور باقاعدہ ورزش مجموعی صحت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق کسی بھی مسئلے میں ہمیشہ

اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔https://www.shifa.com.pk/specialities/neurology/islamabad

 

Vinkmag ad

Read Previous

امریکا میں پولیو جیسی بیماری، بچوں کے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ

Read Next

سماعت سے محرومی کی جلد شناخت کے لیے جینیاتی تحقیق میں پیش رفت

Leave a Reply

Most Popular