امریکی دوا ساز کمپنی سنڈیکس فارماسیوٹیکلز نے پھیپھڑوں کی سنگین بیماری کے لیے تجرباتی دوا پر مزید تحقیق روک دی ہے۔ طبی آزمائش میں یہ دوا پھیپھڑوں کی کارکردگی میں کمی کی رفتار سست کرنے میں مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایکساٹیلیماب نامی دوا کا تجربہ 14 ممالک کے 145 مریضوں پر کیا گیا۔ یہ مریض آئیڈیوپیتھک پلمونری فائبروسس میں مبتلا تھے۔ اس بیماری میں پھیپھڑوں کے ٹشوز سخت ہونے لگتے ہیں، جس سے سانس لینے میں دشواری بڑھتی ہے۔
دوسرے مرحلے کی طبی آزمائش 26 ہفتوں تک جاری رہی۔ اس دوران دوا لینے والے مریضوں کے نتائج کا موازنہ بے اثر دوا استعمال کرنے والوں سے کیا گیا۔ تاہم، دونوں گروپوں میں پھیپھڑوں کی کارکردگی میں کمی کی رفتار میں کوئی نمایاں فرق نہیں ملا۔
کمپنی کے مطابق دوا سے متعلق کوئی نیا حفاظتی خدشہ سامنے نہیں آیا۔ ایکساٹیلیماب امریکہ میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کے بعد پیدا ہونے والی ایک سنگین پیچیدگی کے علاج کے لیے پہلے ہی منظورشدہ ہے۔ اس کے دیگر طبی استعمال پر تحقیق جاری رہے گی۔