ماہرین کے مطابق مہنگی ادویات اور بروقت تشخیص نہ ہونا بریسٹ کینسر کے علاج میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ ان مسائل کے باعث متعدد مریضوں کا علاج تاخیر کا شکار ہوتا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار کراچی میں بریسٹ کینسر سے متعلق طبی کانفرنس ’بریسٹ کون 2026‘ کے دوران کیا۔
این این آئی کے مطابق جناح ہسپتال کے شعبہ کینسر کے سربراہ ڈاکٹر غلام حیدر نے بتایا کہ وہاں تقریباً 25 فیصد کینسر مریض علاج ادھورا چھوڑ دیتے ہیں۔ شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹر نجیب نعمت اللہ نے منظم سکریننگ اور سستی، معیاری ادویات کی فراہمی پر زور دیا۔ آغا خان ہسپتال کی ڈاکٹر ثنا ذیشان نے کہا کہ نیشنل کینسر رجسٹری کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
کانفرنس میں لیاقت نیشنل ہسپتال کی بریسٹ سرجن پروفیسر ڈاکٹر روفینہ سومرو سمیت دیگر ماہرین نے بھی خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا معاشی و معاشرتی دباؤ، مرض کا خوف اور غلط فہمیاں بھی تشخیص اور علاج میں تاخیر کا سبب بنتی ہیں۔