لیبر انڈکشن (Labor induction) ایک میڈیکل پروسیجر ہے، جس میں ادویات یا دوسرے طریقوں سے لیبر پین شروع کرایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد نارمل ڈیلیوری میں مدد دینا ہے۔ عموماً اس کی ضرورت ماں یا بچے کی صحت کو خطرہ ہونے پر پیش آتی ہے۔
کیوں کیا جاتا ہے
اس کا فیصلہ کرنے سے پہلے ڈاکٹر ماں اور بچے کی صحت کا جائزہ لیتی ہے۔ حمل کی مدت، بچے کا اندازاً وزن، جسامت اور رحم میں اس کی پوزیشن بھی دیکھی جاتی ہے۔
ان طبی مسائل میں لیبر انڈکشن کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
٭ حمل کے دوران ہونے والی یا پہلے سے موجود ذیابیطس
٭ حمل کے دوران بلڈ پریشر بڑھ جانا
٭ گردوں یا دل کی بیماری اور موٹاپا
٭ رحم کے اندر انفیکشن ہونا
دیگر وجوہات
مقررہ وقت گزر جانا: ڈیلیوری کی متوقع تاریخ کے ایک یا دو ہفتے بعد بھی لیبر پین شروع نہ ہونا۔ حمل کے 42 ہفتے مکمل ہونے پر اسے پوسٹ ٹرم پریگنینسی کہتے ہیں
پانی کی تھیلی پھٹ جانا: بچے کے گرد موجود پانی کی تھیلی پھٹنے کے باوجود لیبر پین شروع نہ ہونا
بچے کی نشوونما میں کمی: رحم میں بچے کی متوقع رفتار سے نشوونما نہ ہونا
پانی کی کمی: رحم میں بچے کے گرد موجود پانی، یعنی ایمنیٹک فلوئڈ، کی مقدار کم ہونا
پلیسنٹا کے مسائل: پیدائش سے پہلے پلیسنٹا کا رحم کی اندرونی دیوار سے الگ ہونا۔ پلیسنٹا حمل کے دوران بچے کو آکسیجن اور غذائی اجزا فراہم کرتا ہے
طبی ضرورت کے بغیر لیبر انڈکشن
بعض خواتین کسی طبی ضرورت کے بغیر بھی یہ طریقہ اختیار کرنا چاہتی ہیں۔ اسے الیکٹو انڈکشن کہتے ہیں۔
یہ ان خواتین کے لیے مفید ہو سکتا ہے جو ہسپتال سے دور رہتی ہیں۔ بعض خواتین میں لیبر پین شروع ہونے کے بعد بہت کم وقت میں بچہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ایسی خواتین بھی پہلے سے ڈیلیوری کا وقت طے کرانے کے لیے لیبر انڈکشن پر غور کر سکتی ہیں۔ تاہم، الیکٹو انڈکشن سے پہلے ڈاکٹر یقینی بناتی ہے کہ حمل کے کم از کم 39 ہفتے مکمل ہو چکے ہوں۔ اس سے بچے میں صحت کے مسائل کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
کم خطرے والے حمل میں 39 سے 40 ہفتوں کے دوران بھی یہ طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق اس سے رحم میں بچے کی موت اور بچے کا معمول سے زیادہ بڑا ہونے کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔ حمل کے دوران ہائی بلڈ پریشر کا امکان بھی کم ہو سکتا ہے۔ تاہم، لیبر انڈکشن کا فیصلہ حاملہ خاتون اور ڈاکٹر کو باہمی مشاورت سے کرنا چاہیے۔
لیبر انڈکشن کے خطرات
اس طریقے سے بعض پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، مثلاً:
انڈکشن کی ناکامی: مناسب طریقے استعمال کرنے کے باوجود نارمل ڈیلیوری نہ ہونا۔ بعض خواتین میں کافی وقت اور مناسب طبی کوشش کے بعد بھی ڈیلیوری نہیں ہو پاتی۔ ایسی صورت میں سی سیکشن کی ضرورت پڑ سکتی ہے
بچے کے دل کی دھڑکن میں تبدیلی: ادویات کے باعث رحم میں بہت زیادہ یا غیر معمولی سکڑاؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس سے بچے کو آکسیجن کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے اور دل کی دھڑکن کم یا تبدیل ہو سکتی ہے
انفیکشن: بعض طریقوں، خصوصاً پانی کی تھیلی مصنوعی طور پر پھاڑنے سے ماں اور بچے میں انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے
رحم پھٹ جانا: یہ ایک نایاب لیکن سنگین پیچیدگی ہے۔ پہلے سی سیکشن یا رحم کے بڑے آپریشن کے نشان والی جگہ سے رحم پھٹ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں فوری سی سیکشن ضروری ہوتا ہے۔ بعض شدید حالات میں رحم نکالنا بھی پڑ سکتا ہے
ڈیلیوری کے بعد زیادہ خون بہنا: بعض اوقات بچے کی پیدائش کے بعد رحم کے پٹھے مناسب طریقے سے سکڑ نہیں پاتے۔ اس سے شدید خون بہنے کا خطرہ ہوتا ہے
کن خواتین کے لیے یہ طریقہ مناسب نہیں؟
بعض حالات میں لیبر انڈکشن محفوظ نہیں ہوتا، مثلاً:
٭ پہلے سی سیکشن میں رحم پر عمودی کٹ لگایا گیا ہو یا رحم کا کوئی بڑا آپریشن ہوا ہو
٭ پلیسنٹا رحم کے نچلے حصے میں موجود ہو اور سروکس کا راستہ بند کر رہا ہو
٭ بچے کی ناف کی نالی، بچے سے پہلے وجائنا میں اتر آئے
٭ رحم میں بچے کے کولہے نیچے کی طرف ہوں یا بچہ آڑی پوزیشن میں ہو
٭ خاتون کو جنسی اعضا کا فعال ہرپس انفیکشن ہو
لیبر انڈکشن کی تیاری
یہ طریقہ عموماً ہسپتال یا زچگی کے مرکز میں انجام دیا جاتا ہے۔ وہاں ماں اور بچے کی صحت کی نگرانی کی جاتی ہے۔ ضرورت پڑنے پر ڈیلیوری اور ہنگامی طبی سہولیات بھی دستیاب ہوتی ہیں۔
طریقہ کار
لیبر پین شروع کرنے کے مختلف طریقے موجود ہیں۔ ڈاکٹر خاتون کی حالت کے مطابق ایک یا زیادہ طریقے استعمال کر سکتی ہے۔ اس دوران رحم کے سکڑاؤ اور بچے کے دل کی دھڑکن کی نگرانی کی جاتی ہے۔
سروکس کو ڈیلیوری کے لیے تیار کرنا
سروکس رحم کا نچلا حصہ ہے، جو وجائنا سے ملتا ہے۔ ڈیلیوری سے پہلے یہ عموماً نرم، پتلا اور کھلنا شروع ہو جاتا ہے۔
اگر سروکس تیار نہ ہو تو اسے نرم کرنے اور کھولنے کے لیے دو طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
٭ ادویات: پروسٹاگلینڈنز پر مشتمل ادویات وجائنا میں رکھی جاتی ہیں یا منہ کے ذریعے دی جاتی ہیں۔ ان سے سروکس نرم ہونے اور کھلنے میں مدد ملتی ہے
٭ بیلون کیتھیٹر: ایک باریک نالی کے سرے پر موجود غبارہ سروکس میں داخل کیا جاتا ہے۔ اس میں جراثیم سے پاک نمک ملا پانی بھرا جاتا ہے۔ غبارے کے دباؤ سے سروکس کو کھلنے میں مدد ملتی ہے
پانی کی تھیلی کی جھلی الگ کرنا
اس طریقے کو میمبرین سویپنگ (Membrane sweeping) کہتے ہیں۔ ڈاکٹر دستانہ پہنی انگلی کی مدد سے پانی کی تھیلی کی جھلی کو سروکس اور رحم کی نچلی دیوار سے الگ کرتی ہے۔ اس عمل سے جسم میں ایسے مادے خارج ہو سکتے ہیں جو لیبر پین شروع کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
پانی کی تھیلی مصنوعی طور پر پھاڑنا
اس طریقے کو ایمنی اوٹومی (Amniotomy) کہتے ہیں۔ ڈاکٹر ایک مخصوص طبی آلے سے پانی کی تھیلی میں چھوٹا سا سوراخ کرتی ہے، جس سے پانی خارج ہونے لگتا ہے۔
یہ عمل صرف اس وقت کیا جاتا ہے جب سروکس کچھ کھل اور پتلا ہو چکا ہو۔ اس کے علاوہ بچے کا سر بھی ماں کے پیلوِس، یعنی کولہے کی ہڈیوں کے درمیان موجود حصے، میں نیچے آ چکا ہو۔
ڈرپ کے ذریعے دوا دینا
ہسپتال میں آکسی ٹوسن (Oxytocin) نامی ہارمون ڈرپ کے ذریعے دیا جا سکتا ہے۔ یہ دوا رحم کے سکڑاؤ کو زیادہ مؤثر بناتی ہے اور ڈیلیوری کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔ تاہم، سروکس کو نرم کرنے کے مقابلے میں یہ پہلے سے شروع ہونے والے لیبر پین کو تیز کرنے میں زیادہ مؤثر ہے۔
لیبر انڈکشن میں کتنا وقت لگتا ہے؟
لیبر پین شروع ہونے کا وقت ہر خاتون میں مختلف ہوتا ہے۔ اس کا انحصار سروکس کی حالت، استعمال ہونے والے طریقے اور جسم کے ردعمل پر ہوتا ہے۔ لیبر پین شروع ہونے میں چند منٹ سے کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ تاہم، مکمل ڈیلیوری میں ایک دن یا اس سے زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔
لیبر انڈکشن کے بعد کیا ہوتا ہے؟
زیادہ تر خواتین میں اس طریقے کے بعد نارمل ڈیلیوری ہو جاتی ہے۔ اگر انڈکشن کامیاب نہ ہو تو ڈاکٹر دوبارہ کوشش کر سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں سی سیکشن کی ضرورت پڑتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔