امریکی سائنسدانوں نے جینیاتی معلومات سے سماعت میں کمی کے خطرے کا بہتر اندازہ لگانے کا طریقہ دریافت کیا ہے۔ اس پیش رفت سے مستقبل میں سماعت کے مسائل کا زیادہ خطرہ رکھنے والے افراد کی جلد شناخت میں مدد مل سکتی ہے۔
وینڈربلٹ ہیلتھ کے محققین نے 16 ہزار سے زائد افراد کی جینیاتی معلومات اور سماعت کے ٹیسٹ کا تجزیہ کیا۔ نتائج کے مطابق سماعت کی درست پیمائشوں سے تین اہم جینیاتی مقامات کی نشاندہی ہوئی۔ اس کے برعکس روایتی طبی تشخیصی کوڈز سے کوئی ایسا مقام دریافت نہیں ہوا۔
محققین نے جینیاتی خطرے کا اندازہ لگانے کے لیے دونوں طریقوں کا موازنہ بھی کیا۔ سماعت کے ٹیسٹ پر مبنی طریقے نے زیادہ بہتر نتائج دیے۔
طبی جریدے جاما اوٹولیرنگولوجی اینڈ ہیڈ اینڈ نیک سرجری میں شائع تحقیق کے مطابق یہ طریقہ ابھی تحقیقی مرحلے میں ہے۔ اسے معمول کی طبی جانچ میں استعمال کرنے سے پہلے مزید تحقیق ضروری ہے۔