سائنس دانوں نے آواز کے ذریعے ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے کی ابتدائی سکریننگ کرنے والا نیا اے آئی ماڈل تیار کیا ہے۔ اس کی مدد سے صرف 20 سیکنڈ کی آواز کی ریکارڈنگ سے ممکنہ خطرے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ ماڈل آواز میں باریک تبدیلیوں کا تجزیہ کرتا ہے۔ ان میں آواز کا کھردرا پن اور سانس پر کم کنٹرول جیسی خصوصیات شامل ہیں۔ تھائمیا اور آسٹریلیا کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی کے محققین نے یہ ماڈل تیار کیا ہے۔ اسے 21 ہزار سے زائد افراد کی 63 ہزار سے زیادہ آوازوں پر تربیت دی گئی۔
برطانیہ میں 7,319 افراد پر جانچ کے دوران ماڈل نے ذیابیطس والے افراد کو 80 فیصد مواقع پر زیادہ خطرے کا سکور دیا۔ مزید 801 افراد میں نتائج کا ایچ بی اے ون سی ٹیسٹ سے بھی موازنہ کیا گیا۔
محققین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ابتدائی سکریننگ اور مزید ٹیسٹ کی ضرورت والے افراد کی نشاندہی میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ یہ خون کے ٹیسٹ یا ڈاکٹر کی تشخیص کا متبادل نہیں۔ تحقیق ابھی پری پرنٹ ہے اور پیر ریویو سے نہیں گزری۔