میٹھی عید‘ہر دل عزیز پکوان

426

عید الفطرمسلمانوں میںسب سے زیادہ جوش و خروش سے منایا جانے والا تہوار ہے۔ بچوں اور خواتین کو ملنے والی ’عیدی‘کے علاوہ اس کی اہم ترین چیز وہ ناشتہ ہے جو عید کی نماز سے پہلے یا اس کے فوراًبعد کھایا جاتا ہے۔دنیا بھر میں اس موقع پر طرح طرح کے پکوان پکائے ‘ کھائے اور بانٹے جاتے ہیں۔پاکستان میں میٹھی عید پرکیا پکتا ہے اور مریضوںکے لئے ان پکوانوں میں کیا احتیاطیں کرنی چاہئیں؟ پڑھئے شفا انٹر نیشنل ہسپتال فیصل آباد کی ماہر غذائیات عروج رو¿ف کی اس تحریر میں

رمضان المبارک کا اپنا ہی رنگ اور مزہ ہے جس میں لوگ روزے رکھتے‘ عبادات کرتے اور سحری و افطار کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ جب نصف رمضان گزرجاتا ہے تو کپڑوں‘ جوتوں‘ جیولری اور دیگر چیزوں کی خریداری کے ساتھ عید کے استقبال کی تیاریاںشروع ہوجاتی ہے اور پھر یکم شوال کو ہر طرف عید کی خوشیوں کے رنگ بکھرجاتے ہیں۔ کہیں مہندی کی خوشبو ہے تو کہیں چوڑیوں کی کھنکھناہٹ، کہیں شوخ رنگوں والے لباس ہیں تو کہیں لبوں پرپھیلی مسکراہٹیں۔
عیدالفطر کو کہیں چھوٹی عید تو کہیں میٹھی عیداور کہیں سویوں والی عید کا نام دیا جاتا ہے۔ اس موقع پر سویاں ‘کھیر، شاہی ٹکڑے، گلاب جامن اور لذیذ رس ملائی کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے ۔خوشی کے اس موقع پر لوگوں کو میٹھی چیزیں کھانے سے منع کر کے ان کی عید کا مزہ کرکرا کرنا تو مناسب نہیں لیکن انہیں اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے تاکہ وہ صحت مند رہ کرتادیر اس کی خوشیوں کا لطف اٹھا سکیں۔ مزیدبرآں مریضوں کے لئے عید کے پکوان بناتے وقت ان کی صحت اور ڈاکٹر کی ہدایات کو لازماً مدنظر رکھنا چاہئے ۔مندرجہ ذیل تحریر میں کھانوں کی ایسی احتیاطوں کا ذکر ہے جنہیں اختیار کر کے مریضوں کو بھی عیدکی خوشیوں میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔

میٹھی سویاں‘ عید کی پہچان
پاکستانی ،بھارتی اور بنگلہ دیشی مسلمان گھرانوں میں عید کی نمازسے قبل ناشتے میں میٹھی سویوں کو عید کی خاص نشانی سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک مغلئی ڈش ہے جسے خشک دودھ،الائچی،پستے،زعفران اور سویوں کے ساتھ بنایا جاتا ہے اور چاندی کے اوراق سے سجا کر گرم یاٹھنڈا‘ دونوں صورتوں میں پیش کیا جاتا ہے ۔
اس کی کئی اقسام ہیں جن میں شیر خرما اور میٹھی سویاں نمایاں ہیں۔شیر خرمے کو کھجوروں اورکاجو کے ساتھ بنایا جاتا ہے جبکہ میٹھی سویوں میں دودھ استعمال کیا جاتا ہے۔

غذائیت:
سویاں وٹامن سی،وٹامن بی2، بی6 ، بی12، آئرن، زنک، کیلشیم،سوڈیم،کاربوہائیڈریٹس،فائبر اورمیگنیشیم سے بھرپور ہوتی ہیں۔اگر انہیں دیسی گھی میں بنایا جائے تو ذائقے کے ساتھ ساتھ ان کی غذائیت میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔مزیدبرآں خشک میوہ جات اور سبز الائچی کی موجودگی خوشبو کے ساتھ ساتھ غذائیت اورذائقے میں بھی اضافے کا باعث بنتی ہے۔

احتیاطیں:
یہ مزیدار ڈش ہر عمر کے افراد کے لئے یکساں مفید ہے تاہم موٹاپے کے شکار افراد کے علاوہ ذیابیطس اور دل کے مریضوں کے لئے گھی اورچینی موزوں نہیں ۔اس لئے ان کے لئے چینی کی بجائے مصنوعی سویٹنرز اور بالائی اترا ہوادودھ (skimmed milk) استعمال کریں ۔
گردے کے مریضوں کے لئے سویوں کو بہت ہی کم زیتون یا کنولا آئل میں بھونیں۔چونکہ دودھ میں فاسفورس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے‘ اس لئے اسے آدھے کپ سے زیادہ مقدارمیںاستعمال نہ کریں۔مزید برآںخشک میوہ جات میں کشمش اور کھجوروں کے استعمال سے مکمل اجتناب ضروری ہے ۔

سوجی کا حلوہ
عید کے موقع پر سوجی کا حلوہ بہت مقبول ہے جسے کہیں نان چنوں کے ساتھ سجایا جاتا ہے تو کہیں حلوہ پوریوں کے ساتھ کھا یا جاتا ہے۔ پاکستانی تو اسے پسند کرتے ہی ہیں‘ برما میں بھی عید پر سوجی سے بنے پکوان پسندکئے جاتے ہیں۔ اسی طرح بھارت میں بھی سوجی کو بھون کر مختلف قسم کی سبزیوں کے ساتھ پیش کرنے کی روایت ہے ۔
پاکستان میں یہ حلوہ گھی میں مختلف میوہ جات اور چینی کے ساتھ بھون کر تیار کیا جاتا ہے ۔

غذائیت:
یہ مزیدار حلوہ وٹامن سی،ڈی،ای ، بی 1،بی 2‘بی 6 ، فولاد،زنک،فاسفورس،سلینیم اور میگنیشیم سے بھرپور ہے۔انیمیا (Anemia)کے مریض اسے خون کی کمی پوری کرنے کے لئے کھا سکتے ہیں۔ چونکہ اس میں سوڈیم کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے‘ اس لئے گردے کے مریض بھی اسے کھا کر میٹھی عید کالطف اٹھا سکتے ہیں۔ مزیدبرآںیہ ہر عمر کے افراد کے لئے یکساں مفید ہے ‘خاص طور پر بڑھتی عمر کے بچوں کو کھلانے سے ان کی جسمانی طاقت میں اضافہ کرنے کا باعث بنتا ہے۔

احتیاطیں:
اس کا گلائیسمک انڈکس (یعنی کوئی خوراک کسی فرد کے شوگر لیول کو کتنا متاثر کرتی ہے ) کم ہونے کی وجہ سے ذیابیطس کے مریض اسے بغیر چینی کے استعمال کر سکتے ہیں۔ وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد بھی اسے کم چینی اور گھی کے ساتھ استعمال کریں تو مثبت نتائج ملتے ہیں‘ اس لئے کہ اس میں موجود کیمیائی اجزاءبھوک لگنے کے عمل کوقابو میں رکھتے ہیں۔چونکہ یہ حلوہ گندم سے حاصل ہونے والی چوکر سے بنایا جاتا ہے‘ اس لئے گلوٹن سے الرجی والے افراد اس سے مکمل پرہیز کریں۔ دودھ میں موجود ایک پروٹین لیکٹوز(lactose) کو ہضم کرنے کی طاقت نہ رکھنے والے افراد کو چاہئے کہ یا تو سوجی کو دودھ کے بغیر پکائیں یا اسے کھانے سے اجتناب کریں۔

چٹ پٹی چاٹ
عید پر بننے والی نمکین ڈشوں میں چنا چارٹ سب سے مقبول ہے جسے دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف انداز اور لوگوں کی پسند کے مطابق تیار کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں آلو چنا چاٹ کو املی کی چٹنی،باریک پیاز،شملہ مرچ اور ٹماٹر کے ساتھ بنایا جاتا ہے۔کچھ علاقوں میں اسے پاپڑی ، نمکین سویوں اور آلو بخارے کی چٹنی کے ساتھ بھی پیش کیا جاتا ہے۔

غذائیت
غذائیت کے اعتبار سے یہ پروٹین،کاربو ہائیڈریٹس،صحت بخش چکنائی ،وٹامن کے،وٹامن بی کمپلکس،کیلشیم اورآئرن سے بھرپور ہے۔اس کے علاوہ اسے جسم کو زیادہ توانائی بخشنے اور جلد پیٹ بھرنے والی غذا سمجھا جاتا ہے۔چنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ جسم میں نقصان دہ کولیسٹرول بننے سے روکتا ہے۔

احتیاطیں
بلڈ پریشر کے مریض چنا چاٹ میں نمک اوردیگر مصالحہ جات کی بجائے لیموں کا رس یا املی کا پانی استعمال کر سکتے ہیں۔ڈائلیسز کے مریض آدھا کپ ابلے چنے کھا سکتے ہیں لیکن اس میں نمک،املی کا پانی،مصالحہ جات اوردہی کا استعمال بالکل نہ کریں۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

    ملازمین خواہ سرکاری ہوں یا پرائیویٹ، اکثر کے لئے ”

خوراک کے ذریعے وزن کم کرنے کے خواہشمند افراد میںکیٹوجی

کدو‘بازاروں میں وافر مقدار میں اور ارزاں قیمت پر دستیا