لمفوما… غدود کا سرطان

468

     ہمارے بدن میں 700سے زیادہ غدود(glands) موجود ہیں جو جسم کے مختلف حصوں مثلاً بازوﺅں، بغلوں، ٹانگوں، چھاتی اورپیٹ وغیرہ میں پائے جاتے ہیں۔ یہ ہمارے لئے مختلف کام سرانجام دیتے ہیں جن میں سے اہم ترین کام ایک خاص قسم کا سیال مادہ خارج کرنا ہے۔ اگر کسی وجہ سے یہ مادہ غدود سے خارج ہونے کے بجائے وہیں رکنے لگے تو فرد غدود سے متعلق ایک خاص قسم کے کینسر کا شکار ہوجاتاہے جسے طب کی اصطلاح میں ”لمفوما“ یا غدود کا سرطان کہتے ہیں۔ یہ خون کے سرطان کی ہی ایک قسم ہے جو پاکستان میں زیادہ پائے جانے والے کینسرز میں سے ایک ہے۔
یوں تو کسی بھی عمر کے افراد اس کینسر کا شکار ہوسکتے ہیں تاہم یہ بچوں کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والا کینسر ہے۔

 لمفوما کی وجوہات
یہ سرطان تابکاری شعاعوں ،ہیپاٹائٹس سی،ایچ آئی وی وائرس،پودوںپرجراثیم کش ادویات کے استعمال اورخود کار بیماریوں (auto ammune diseases) کی ادویات کے اثر یاموروثی اثرات کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔

علامات
چھاتی کے سرطان اور لمفوما میں فرق یہ ہے کہ چھاتی کے سرطان کی ابتدا چھاتی سے ہوتی ہے اور اس کی گلٹیاں بغل میں محسوس ہوتی ہیں جبکہ لمفوما کی ابتدا بغل میں موجود غدود سے ہوتی ہے۔ چونکہ دونوں کا مقام ایک ہے لہٰذا یہ بات صرف مخصوص تشخیصی ٹیسٹ ”بائیوپسی“ سے ہی ثابت ہو سکتی ہے کہ مریض کو کون سا کینسر ہے۔
لمفوما کی عام علامات میں غدودوں کا بڑھ جانا، راتوں کو پسینے آنا،بغیر کسی ظاہری وجہ کے وزن کا گھٹنا،بھوک نہ لگنا اورمسلسل بخار رہنا شامل ہیں۔

مرض کی اقسام
اس کینسر کی مندجہ ذیل اقسام قابل ذکر ہیں:
ہوچکن لمفوما(Hodgkin Lymphoma):
کینسر کی یہ قسم بچوں (5 سے15 سال) یا عمررسیدہ لوگوں (40سے50سال) میں زیادہ دیکھنے میں آتی ہے۔اگر ابتدائی مراحل میں اس کا پتہ چل جائے تو 80سے90فی صد صورتوں میںصحت یابی کا امکان ہوتا ہے۔ اس کا زیادہ تر علاج شعاو¿ں یا دواﺅں کے ذریعے کیا جاتا ہے تاہم معالجین کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ دواﺅں سے ہی علاج کیا جائے ۔ ہر دو ہفتوں کے بعد کیموتھیراپی کی جاتی ہے جس کے بعد مریض عموماًصحت یاب ہوجاتے ہیں۔
نان ہوچکن لیمفوما(Non-Hodgkins Lymphoma)
لیمفوما کی یہ قسم 70سے زیادہ ذیلی اقسام پر مشتمل ہے جن میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والی قسم ”diffuse large b cell lymphoma“ ہے۔اس کا علاج کیموتھیراپی سے کیا جاتاہے تاہم ترقی یافتہ ممالک میں علاج آٹو لوگوس سٹیم سیل(auto logos stem cell) یاریڑھ کی ہڈی کا گودا(bone marrow) ٹرانسپلانٹ کر کے بھی کیا جاتا ہے۔

مرض کے مراحل
لمفوما کے چار مراحل بیان کئے جاتے ہیں۔
پہلے مرحلے میں جسم کی ایک ہی جگہ کے لمف نوڈ (lymph node)بڑھتے ہیں۔ مثلاً کسی فرد کے صرف گلے کے غدود بڑھ جاتے ہیں۔دوسرے مرحلے میں ایک ہی جگہ کے دونوں لمف نوڈ بڑھ سکتے ہیں۔ دونوں بغلوں کے غدود کابڑھ جانا اس کی ایک مثال ہے۔ تیسرے مرحلے میں ایک جسم کے اوپری حصے اور ایک نچلے حصے کاغدود بڑھ جاتا ہے۔ مثلاً بعض اوقات ایک بغل اور ایک ٹانگ کا غدود بڑھ جاتا ہے۔ اگر بیک وقت جسم کے مختلف حصوں مثلاً جگر، ریڑھ کی ہڈی یا کسی اور جگہ کے غدود بڑھ جائیں تو اسے مرض کا آخری مرحلہ کہا جاتا ہے۔

تشخیصی ٹیسٹ
سرطان کی اس قسم کی تشخیص کے لئے اہم ٹیسٹ لمف نوڈ کی بائیوپسی ہے جس میں مریض کا پورا لمف نوڈ نکال کے لیبارٹری ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ دوسرااہم ٹیسٹ پیٹ سی ٹی سکین( Pet CT Scan )ہے جو غدود کی بڑھو تری اور ساخت کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔

کرنے کے کام
عام حالت میں صحت بخش غذا ،مناسب اور باقاعدہ ورزش اور جسم کو مناسب حد تک متحرک رکھنے کو اپنا معمول بنانا چاہئے۔اس طرح کی زندگی گزارنے سے جسم کی مخصوص ہئیت اور توانائی بر قرارا رہتی ہے اور اگر خدا نخواستہ آدمی کسی مرض کا شکار ہوجائے تو جسم کی قوت مدافعت اس پر قابو پالیتی ہے ۔
لوگوں کو چاہئے کہ خون لگوانے میں احتیاط کریں اور خون سے متعلق آلات کے استعمال میں بھی محتاط رہیں ۔فصلوں پر جراثیم کش ادویات کا استعمال کرنے والوں کے لئے خاص طور پر ضروری ہے کہ وہ ان ادویات کے چھڑکاو¿ کے دوران منہ پر ماسک اور ہاتھوں پر دستانے پہنیں تاکہ اس موذی مرض کے ممکنہ اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔

بدن میں کسی بھی طرح کی ناپسندیدہ افزائش کو نظر انداز نہ کریں۔ اگر کوئی غدود یا گلٹی درد نہیں کر رہی مگر روز بروز بڑھتی جا رہی ہے تو اسے ہلکا مت لیں بلکہ اپنے معالج سے مشورہ کریں۔ اگر کینسر لاعلاج ہوجائے تو کسی اچھے ٹرانسپلانٹ سنٹر سے رابطہ کریں۔
کیمو تھیراپی کے حوالے سے مریض کے لئے تین ”ایس“ بہت اہم ہیں۔ پہلا’ایس ”sips“ یعنی گھونٹ کے لئے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پانی زیادہ سے زیادہ پئیں تاکہ یہ زہریلے مادے آپ کے جسم سے نکل سکیں۔ دوسرا ایس”steps“ یعنی قدم کے لئے ہے۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ سرطان کے مریض کو پلنگ تک محدود رہنے کی بجائے چلنے پھرنے اور متحرک رہنا چاہئے۔ تیسرا ایس ”smile“ یعنی مسکراہٹ کے لئے ہے۔ مریض کو چاہئے کہ اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھے یعنی مرض کو اپنے اوپر سوار نہ کرے ۔ اس سے ملنے والے افراد بھی اسی کو اپنا شعار بنائیں۔
مریض کو اعتماد رکھنا چاہئے کہ کیموتھیراپی سے اسے صحت ضرور ملے گی کیونکہ لمفوما واحد کینسر ہے جو پورے بدن میں پھیل جائے تو بھی اس کا شافی علاج ممکن ہے۔ اس کے لئے تھوڑی سی ہمت ، مثبت سوچ،بروقت تشخیص اور مناسب علاج درکارہے۔