حمل کی ابتدائی علامات

1.946K

کئی دنوں سے آمنہ کی طبیعت میں عجیب سی بے چینی تھی۔ اسے ہروقت قے اور متلی محسوس ہوتی تھی۔ وہ ےہی سمجھی کہ ےہ شایدکمزوری ےا موسم کی تبدیلی کا اثرہے۔ اس پر ہر وقت سستی سی طاری رہتی تھی۔ اےک شام اس کی بڑی بہن فرحت اس سے ملنے آئی تو آمنہ بستر پر نڈھال پڑی تھی۔ اس نے اسے فوراً کسی ڈاکٹر کے پاس جانے کا مشورہ دےا۔اگلے دن جب وہ ڈاکٹر کے پاس گئی تو اس نے اس سے حمل کا پوچھا۔ آمنہ نے اس سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر نے احتےاطاً حمل کا ٹیسٹ لکھ کر دے دےا اور جب رزلٹ آےا تو ایک طرف تو وہ ےہ جان کر بہت خوش ہوئی کہ وہ ماں بننے والی ہے تودوسری جانب وہ حےران تھی کہ اسے پہلے اس کا علم کیوں نہ ہو سکا اور ےہ کہ اسے کسی بڑے نے بھی کچھ کیوں نہےںبتاےا۔
بہت سی نئی شادی شدہ خواتین اس مسئلے سے گزرتی ہیں‘ اس لئے انہیں اس کے بارے میں ضرور علم ہونا چاہئے :

حمل کی ابتدائی علامات
حمل کی ابتدائی علامات درج ذےل ہےں:

ایام کی بندش
حمل کی بنیادی علامت مخصوص ایام کابند ہوجاناہی ہے۔ تاہم ےہ اس کی لازمی وجہ نہےں‘ اس لئے کہ بعض اوقات ایام کی بندش کا سبب ذہنی دباﺅ‘ ہارمونز میں تبدیلی اور کوئی شدید بیماری بھی ہو سکتی ہے۔

جسمانی درجہ حرارت کا بڑھ جانا
جب عورت کی بیضہ دانی سے بےضہ(انڈا) خارج ہوتا ہے تو عموماً اس کے جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ اگر درجہ حرارت کی زیادتی برقراررہے تو اسے حمل کی علامت سمجھا جاسکتا ہے۔

قے اورمتلی کا احساس
حاملہ خواتےن کو اکثر حمل کے ابتدائی دنوں مےں قے، ابکائی اور متلی کی شکاےت رہتی ہے۔اےسا جسم مےں ہا رمونز کی تبدےلی کی وجہ سے ہو تا ہے۔زےادہ تر خواتےن کوقے اور متلی صبح کے وقت ہوتی ہے تاہم ےہ دن کے کسی بھی حصے میں ہوسکتی ہے۔
اس صورت حال سے بچاﺅ کے لئے ضروری ہے کہ تےز مصالحہ دار اور چٹ پٹی اشےاءکا استعمال نہ کیا جائے‘ اس لئے کہ وہ معدے مےں تےزابےت پےدا کر کے قے یا متلی کی شکاےت کا با عث بن سکتی ہےں۔

پیشاب کی بار بارحاجت
حمل کے دوران مثانے پر دباﺅ پڑتا ہے جو پیشاب آنے کا باعث بنتا ہے۔ دورانِ حمل پیشاب کا بار بار آنا ہارمونز میں تبدیلی کے باعث بھی ہوتا ہے۔اس حالت میں پیشاب کو روکنے کی کوشش مت کریں اور نہ ہی مائع اشیاءکا استعمال کم کریں۔

موڈ میں اتارچڑھاﺅ
دوران حمل ہارمونز مےں تبدےلی کی وجہ سے متوقع ماں میں چڑچڑاپن‘ جذباتیت‘ سستی‘اور کاہلی نماےاں ہوجاتی ہےں ۔ عموماً یہ علامات عارضی ہوتی ہیں اور بچے کی پیدائش کے بعد دور ہوجاتی ہیں۔

تھکن کا احساس
حاملہ خواتین میں پروجیسٹرون ہارمون کے بڑھنے سے تھکن کا احساس بڑھ جاتاہے۔علاوہ ازیں کم بلڈ پریشر اور خون میں شوگرکی مقدار میں کمی بھی تھکن کا باعث بن سکتی ہے۔

چکر اور بے ہوشی
حمل کی علامات میں چکر اور بے ہوشی بہت عام ہےں۔ اس کی شکاےت ان خواتین کوزےادہ ہوتی ہے جن کا بلڈ پریشرکم ہو یاان کے خون میں شوگر کی مقدار کم ہو۔ایسی صورت میں ان کو ڈاکٹر کے مشورے سے آئرن اوروٹامن سی لینی چاہیے۔

چھاتیوں کا سوج جانا
حمل کی ابتدائی علامات میں یہ علامت اہم تصورکی جاتی ہے کہ حمل کے ٹھہرتے ہی جسم میں ہارمونزکی تبدیلی شروع ہوجاتی ہے جن میں ایسٹروجن(Estrogen)اورپروجیسٹرون (Progesterone) ہارمون زیادہ اہم ہیں۔ان ہارمونز کے باعث حاملہ خواتین کی چھاتےاں سوجن کا شکارہوسکتی ہیں۔

تشخیصی ٹیسٹ
اوپر ذکر کی گئی علامات سے اگرچہ حمل کا اندازہ ہوجاتا ہے لےکن اس کی تصدےق کے لئے مےڈےکل ٹےسٹ ضروری ہیں ۔ اس سلسلے میں کئے جانے والے عمومی ٹیسٹ درج ذیل ہیں:

ہوم ٹیسٹ
آج کل بازار میں ایسی سٹرپس(strips) مل جاتی ہےں جن کی مدد سے گھر پر ہی حمل کا ٹےسٹ کیا جاسکتا ہے۔ اس ٹےسٹ میں اےک سٹرپ پےشاب میں ڈبوئی جاتی ہے ۔ اگر حمل ہو تو اس پر دو لائنےں نمودار ہوجاتی ہےں اور نہ ہو تو اےک ہی لائن سامنے آتی ہے۔ ےہ ٹےسٹ استعمال میںآسان ہے اور اس کا طرےقہ بھی اس پر لکھا ہوتا ہے ۔ےہ کم قیمت ہے لےکن اس پر مکمل اعتماد نہےں کیا جاسکتا۔

لیبارٹری میں پیشاب کاٹیسٹ
لیبارٹری میں بھی پےشاب کا ٹےسٹ کیا جاتا ہے ۔ وہاں اس کا سےمپل جمع کراےا جاتا ہے اور کچھ دےر بعد اس کی رپورٹ آجاتی ہے ۔ ےہ نسبتاً زےادہ قابل اعتماد طرےقہ ہے۔

ای پی ایف (Early Pregnancy Factor)
یہ حمل کے لئے موجود ٹےسٹوں میں سب سے زےادہ قابل اعتماد ہے۔ ےہ خون کا ٹےسٹ ہے جو بارآوری (Fertilization) کے48گھنٹوں کے اندر حمل کے بارے میں بتا دےتا ہے۔ ےہ ٹےسٹ ےورےن ٹےسٹ کے مقابلے میں مہنگا ہے ۔

الٹراساﺅنڈ
حمل کی تصدیق کے لئے بعض اوقات الٹراساﺅنڈسے بھی مدد لی جاتی ہے ۔

احتیاطی تدابیر
حمل کے ابتدائی ہفتے بہت اہم اور نازک ہوتے ہیں‘ اس لئے کہ اس دوران بچے کے اعضاءتشکیل پاتے ہیں۔تاہم حاملہ خاتون کو اپنی صحت اور مندرجہ ذیل باتوں کا خاص خیال رکھنا چاہئے:
٭حاملہ عورت کو اےک ہی بار بھرپور طرےقے سے کھانا کھا نے کی بجائے وقفے وقفے سے تھوڑا تھوڑا کھا نا چاہےے۔ اسی طرح تلی ہوئی،مرغن اور تےز مصالحہ دار غذا ئےں استعما ل نہ کرےں۔کھا نا کھا نے کے بعد فوراًلےٹنے سے ہاضمہ خراب ہو سکتا ہے۔ اس لےے تھوڑی سی چہل قدمی ضرور کرےں۔
٭دوران حمل مسوڑھوں کی سوجن اور ان سے خون آنے کی شکاےت بھی ہو سکتی ہے۔اس تکلےف سے بچنے کے لےے بلا نا غہ ٹوتھ پےسٹ استعمال کرےں اور تکلےف رفع نہ ہو تو اپنے معالج سے رابطہ کرےں۔
٭شروع کے تین ماہ کے دوران فولک ایسڈ کا استعمال بہت ضروری ہے کیونکہ یہ بچے کے اعصابی نظام کی تشکےل مےں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ فولک ایسڈ پھلوں‘ سبز پتے والی سبزیوں‘مالٹے کے رس اور چاولوںمیں پایاجاتا ہے۔
٭دوران حمل قبض سے بچاﺅ کے لےے اپنی غذا مےں رےشہ دار خوراک شامل کرےں۔پھلوں،سبزےوں اور اناج کا استعمال زیادہ کریں۔
حاملہ خواتین کو اس بات کا خصوصی طور پر خےال رکھنا چاہےے کہ ان کی اچھی صحت ہی اےک صحت مند زندگی کو وجود مےں لانے کا با عث بن سکتی ہے۔اگروہ ان ہداےات پر عمل کرےںتو حمل کے بہت سے مسائل سے چھٹکارا پا کر ایک صحت مند بچے کو دنیا میں لا سکتی ہیں۔

کیاچکرآنا حمل کی علامت ہے
٭بالعموم حاملہ خواتےن کو شروع میں چکرآتے ہےں اور اسے اس بات کی علامت سمجھا جاتا ہے کہ خاتون ماں بننے والی ہے۔ یہ ضروری نہیں ‘ اس لئے کہ اس کاتعلق خاتون کی جسمانی حالت سے بھی ہوسکتا ہے۔ اگر وہ اچھی صحت کی حامل ہو تواسے اس عرصے میںچکر نہیں آتے۔ حمل کے پہلے تین مہینوں میں بلڈ پریشر کم ہونے کی وجہ سے بھی چکر آسکتے ہیں ۔اس لئے دوران حمل غےرضروری طور پر زیادہ گھومنے پھرنے سے گریز کریں اوراگر کبھی چکر آنے لگےں تو فوراً بیٹھ جائیں یا لیٹ جائیں۔اس سے کافی افاقہ ہوگا۔
 ٭ ماہانہ ایام شروع ہونے کے سات دنوں کے بعد والے 10دن اس حوالے سے اہم ہوتے ہےں۔ اس دوران اگرمیاں بےوی مےں ازدواجی تعلق قائم ہو تو حمل ٹھہرنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

 

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

غیرصحت مند طرز زندگی‘ خاندانوں میں شادیوں کے تسلسل اور

حمل ٹھہرنے کی تصدیق ہوتے ہی متوقع ماں اس خاص دن کا انتظا

    ماں بننا شادی شدہ خواتین کے لئے زندگی کا بہت ہی خوش