Vinkmag ad

مرگی کی دوا سے جوڑوں کے درد اور نقصان میں کمی کی امید

Medical illustration of a knee joint showing damaged cartilage and potential repair using an epilepsy drug to reduce joint pain and damage.

امریکہ میں نئی تحقیق سے مرگی کی دوا کے ذریعے جوڑوں کا درد کم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ تجربات میں گھٹنوں کے خراب کارٹلیج کی بحالی کے آثار بھی ملے ہیں۔ کارٹلیج جوڑوں میں ہڈیوں کے درمیان موجود نرم ٹشو ہے، جو انہیں رگڑ سے بچاتا ہے۔

ییل سکول آف میڈیسن کے محققین نے چوہوں اور انسانی کارٹلیج کے نمونوں پر لیکوسامائیڈ (Lacosamide) نامی دوا کے تجربات کیے۔ یہ دوا پہلے ہی مرگی کے علاج کے لیے منظورشدہ ہے۔ چوہوں میں اسے خصوصی جیل کے ذریعے متاثرہ جوڑ میں پہنچایا گیا۔ دوا نے درد کے سگنلز اور کارٹلیج کو نقصان پہنچانے والے پروٹین کی سرگرمی کم کی۔
ماہرین کے مطابق خصوصی جیل دوا کو جوڑ کے اندر زیادہ دیر تک برقرار رکھتی ہے۔ اس سے دوا کئی ہفتوں تک آہستہ آہستہ خارج ہوتی رہتی ہے۔ تجربات میں ہر چار ہفتے بعد ایک انجیکشن روزانہ گولی لینے سے زیادہ مؤثر رہا۔

محققین کے مطابق یہ طریقہ مستقبل میں اوسٹیو آرتھرائٹس کے علاج میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم، انسانوں میں اس کی افادیت اور حفاظت جانچنے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔ تحقیق کے نتائج طبی جریدے بائیوایکٹو میٹریلز میں شائع ہوئے ہیں۔

Vinkmag ad

Read Previous

امریکہ میں خسرے کے 4 ہزار سے زائد کیسز، بچوں میں شرح زیادہ

Read Next

کینسر کے علاج میں مالی مشکلات سب سے بڑی رکاوٹ، قومی سروے

Leave a Reply

Most Popular