ہارمونل آئی یو ڈی (Hormonal IUD) ٹی شکل کا ایک پلاسٹک کا آلہ ہے، جو طویل عرصے تک حمل روکنے کے لیے رحم میں لگایا جاتا ہے۔ مختلف ہارمونل آئی یو ڈیز تین سے آٹھ سال تک حمل سے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ یہ آلہ پروجیسٹن ہارمون خارج کرتا ہے، جو دو طریقوں سے حمل روکنے میں مدد دیتا ہے:
٭ رحم کے منہ کی رطوبت گاڑھی کرتا ہے، تاکہ سپرمز انڈے تک نہ پہنچ سکیں
٭ رحم کی اندرونی تہہ پتلی کرتا ہے اور بیضہ دانی سے انڈہ خارج ہونے کے عمل کو جزوی طور پر روکتا ہے
ہارمونل آئی یو ڈی کے فوائد
ہارمونل آئی یو ڈی طویل مدتی مانع حمل طریقہ ہے۔ اسے مینوپاز سے پہلے استعمال کیا جاسکتا ہے، جس میں نوعمر لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ اس کے اہم فوائد یہ ہیں:
٭ جنسی تعلق کے دوران مانع حمل طریقہ استعمال کرنے کے لیے رکنے کی ضرورت نہیں پڑتی
٭ حمل روکنے کے لیے شریک حیات کی شمولیت ضروری نہیں ہوتی
٭ ضرورت پڑنے پر کسی بھی وقت نکلوائی جاسکتی ہے، جس کے بعد حمل ٹھہرنے کی صلاحیت عموماً جلد بحال ہوجاتی ہے
٭ دودھ پلانے کے دوران استعمال ہوسکتی ہے، تاہم اسے لگاتے وقت رحم میں سوراخ ہونے کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے
دیگر طبی فوائد
ہارمونل آئی یو ڈی سے ان مسائل میں بھی کمی آسکتی ہے:
٭ ماہواری کے دوران شدید درد اور اینڈومیٹریوسس سے وابستہ تکلیف
٭ بعض پیلوک انفیکشنز کا خطرہ
٭ رحم کی اندرونی تہہ کے کینسر کا خطرہ
ڈاکٹر بعض خواتین کو ان مسائل میں یہ ڈیوائس تجویز کرسکتا ہے:
٭ ماہواری میں بہت زیادہ خون آنا یا شدید درد ہونا
٭ اینڈومیٹریوسس، جس میں رحم کی اندرونی تہہ جیسے ٹشوز رحم سے باہر بڑھنے لگتے ہیں
٭ اینڈومیٹریئل ہائپرپلیزیا، یعنی رحم کی اندرونی تہہ کا غیر معمولی طور پر موٹا ہونا
٭ ایڈینومائیوسس، جس میں رحم کی اندرونی تہہ جیسے ٹشوز رحم کی پٹھوں والی دیوار میں بڑھنے لگتے ہیں
٭ انیمیا، یعنی صحت مند سرخ خون کے خلیوں کی کمی
٭ فائبرائڈز، یعنی رحم میں بننے والی غیر سرطانی گلٹیاں
کن خواتین کے لیے مناسب نہیں؟
ان حالات میں ڈاکٹر اس کے استعمال سے منع کرسکتا ہے:
٭ چھاتی کا موجودہ یا سابقہ کینسر
٭ رحم یا رحم کے منہ کا کینسر
٭ جگر کی بیماری
٭ رحم کی ساخت میں تبدیلی یا ایسے فائبرائڈز، جن سے ڈیوائس لگانے یا اپنی جگہ برقرار رکھنے میں دشواری ہو
٭ پیلوک انفیکشن یا پیلوک انفلامیٹری ڈیزیز
٭ اندام نہانی سے نامعلوم وجہ سے خون آنا
٭ رحم کی پیدائشی ساخت معمول کے مطابق نہ ہونا
ڈیوائس لگوانے سے پہلے ڈاکٹر کو اپنی میڈیکل ہسٹری اور زیر استعمال ادویات کے بارے میں ضرور بتائیں۔ خاص طور پر ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماری، مائیگرین، خون جمنے کے مسائل یا فالج کی سابقہ ہسٹری سے آگاہ کریں۔ حالیہ زچگی، دودھ پلانے، ہربل مصنوعات اور سپلیمنٹس کے استعمال کا ذکر بھی ضروری ہے۔
ممکنہ خطرات
ہارمونل آئی یو ڈی حمل روکنے کا انتہائی مؤثر طریقہ ہے۔ مذکورہ برانڈ کے عام استعمال میں ایک سال کے دوران حمل ٹھہرنے کی شرح ایک فیصد سے کم ہے۔ تاہم، اس کے باوجود حمل ٹھہر جائے تو ایکٹوپک پریگنینسی کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس میں حمل رحم کے باہر، عموماً فیلوپین ٹیوب میں ٹھہرتا ہے۔ مجموعی طور پر اس ڈیوائس کو استعمال کرنے والی خواتین میں یہ خطرہ مانع حمل طریقہ استعمال نہ کرنے والی خواتین سے کم ہے۔
ہارمونل آئی یو ڈی جنسی تعلق سے منتقل ہونے والے انفیکشنز (STIs) سے تحفظ نہیں دیتی۔ اسے لگاتے وقت شاذونادر رحم میں سوراخ بھی ہوسکتا ہے، خصوصاً زچگی کے بعد۔
ممکنہ مضر اثرات
٭ سر درد
٭ چہرے پر دانے یا ایکنی
٭ چھاتیوں میں حساسیت یا درد
٭ بے قاعدہ خون آنا، جو عموماً تین ماہ بعد بہتر ہوجاتا ہے
٭ مزاج میں تبدیلیاں
٭ پیٹ کے نچلے حصے میں اینٹھن یا درد
ڈیوائس اپنی جگہ سے کب نکل سکتی ہے؟
بعض حالات میں ہارمونل آئی یو ڈی رحم سے جزوی یا مکمل طور پر نکل سکتی ہے۔ اس کا خطرہ ان خواتین میں زیادہ ہوسکتا ہے:
٭ جو پہلے کبھی حاملہ نہ ہوئی ہوں
٭ جنہیں ماہواری میں زیادہ یا طویل خون آتا ہو
٭ جنہیں ماہواری کے دوران شدید درد ہوتا ہو
٭ جن کی آئی یو ڈی پہلے بھی خودبخود نکل چکی ہو
٭ جن کی عمر 20 سال سے کم ہو
٭ جنہوں نے زچگی کے فوراً بعد ڈیوائس لگوائی ہو
ڈیوائس کب نکلوانی پڑ سکتی ہے؟
پیلوک انفیکشن، رحم کی اندرونی تہہ میں سوزش یا بعض کینسرز کی صورت میں ڈاکٹر اسے نکالنے کا مشورہ دے سکتا ہے۔ اسی طرح شدید پیلوک درد، جنسی تعلق میں تکلیف، شدید مائیگرین، بلڈ پریشر میں نمایاں اضافہ، فالج یا ہارٹ اٹیک بھی اس کی وجوہات ہیں۔ تاہم، بعض انفیکشنز کا علاج ڈیوائس نکالے بغیر بھی کیا جاسکتا ہے۔
ہارمونل آئی یو ڈی لگوانے کی تیاری
ڈیوائس لگانے سے پہلے ڈاکٹر صحت کا جائزہ لیتا ہے اور پیلوک ایگزام کرتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر جنسی انفیکشنز اور حمل کے ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں۔
ہارمونل آئی یو ڈی ان عرصوں میں لگائی جاسکتی ہے:
٭ ماہواری کے دوران یا سائیکل کے کسی دوسرے وقت، بشرطیکہ حمل موجود نہ ہو
٭ حمل ختم ہونے کے فوراً بعد
٭ نارمل ڈیلیوری یا سیزیرین کے بعد، تاہم فوری استعمال سے ڈیوائس نکلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے
اگر میرینا برانڈ کی ڈیوائس ماہواری شروع ہونے کے سات دن بعد لگائی جائے تو اگلے سات دن اضافی مانع حمل طریقہ استعمال کریں۔ ڈاکٹر پروسیجر سے ایک سے دو گھنٹے پہلے درد کم کرنے والی دوا تجویز کرسکتا ہے۔
ہارمونل آئی یو ڈی کیسے لگائی جاتی ہے؟
یہ طریقہ کار عموماً ڈاکٹر کے کلینک میں انجام دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر وجائنا میں سپیکیولم نامی آلہ داخل کرتی ہے، تاکہ رحم کا منہ واضح طور پر دیکھا جاسکے۔ ضرورت کے مطابق اس حصے کو جراثیم کش محلول سے صاف کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد خصوصی آلات سے رحم کی ساخت، سائز اور گہرائی جانچی جاتی ہے۔ ڈاکٹر آئی یو ڈی کے دونوں بازو موڑ کر اسے مخصوص ٹیوب میں رکھتا ہے۔ پھر یہ ٹیوب رحم کے منہ سے گزار کر ڈیوائس کو اندر پہنچاتی ہے۔
ٹیوب نکالنے کے بعد ڈیوائس اپنی جگہ رہتی ہے اور اس کے دھاگے مناسب لمبائی تک کاٹ دیے جاتے ہیں۔ مریضہ کو دھاگے محسوس کرنے کا طریقہ بھی بتایا جاسکتا ہے، تاکہ بعد میں ان کی موجودگی جانچی جاسکے۔ اس دوران اینٹھن، چکر یا بے ہوشی جیسی کیفیت ہوسکتی ہے۔ بعض خواتین کی دل کی دھڑکن عارضی طور پر سست ہوجاتی ہے۔
ڈیوائس لگوانے کے بعد احتیاطیں
تقریباً ایک ماہ بعد ڈاکٹر دوبارہ پیلوک ایگزام کرسکتا ہے۔ اس سے ڈیوائس کی درست جگہ اور ممکنہ انفیکشن کی جانچ ہوتی ہے۔ بعض ڈاکٹر ہر ماہ وجائنا میں موجود دھاگوں کو محسوس کرکے ڈیوائس کی موجودگی جانچنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
کن علامات پر فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں؟
٭ حمل ٹھہرنے کا شبہ ہو
٭ معمول سے زیادہ یا مسلسل خون آئے
٭ پیٹ کے نچلے حصے یا جنسی تعلق کے دوران درد ہو
٭ بخار ہوجائے
٭ وجائنا میں زخم، غیر معمولی مواد یا بدبودار رطوبت خارج ہو
٭ شدید سر درد یا مائیگرین ہو
٭ جلد یا آنکھوں میں پیلاہٹ پیدا ہوجائے
٭ جنسی تعلق سے منتقل ہونے والے انفیکشن کا شبہ ہو
٭ ڈیوائس کے دھاگے محسوس نہ ہوں یا پہلے سے لمبے لگیں
٭ دھاگوں کے علاوہ ڈیوائس کا کوئی حصہ بھی محسوس ہو
انفیکشن کے شبہے میں کنڈوم استعمال کریں اور ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
اگر ڈیوائس کے اپنی جگہ سے ہٹنے کا خدشہ ہو تو فوری معائنہ کرائیں۔
ہارمونل آئی یو ڈی کیسے نکالی جاتی ہے؟
ضرورت پڑنے پر ڈیوائس کسی بھی وقت نکلوائی جاسکتی ہے۔ ڈاکٹر انگلیوں یا فورسیپس کی مدد سے ڈیوائس کے دھاگے پکڑ کر آہستگی سے کھینچتی ہے۔ اس دوران اس کے بازو مڑ جاتے ہیں اور ڈیوائس باہر نکل آتی ہے۔ اس عمل میں معمولی خون آنا اور اینٹھن عام ہے۔ بعض نایاب صورتوں میں اسے نکالنے کے لیے اضافی طبی اقدامات درکار ہوتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔