اینٹی بائیوٹکس کی حادثاتی دریافت

42

عمران لاشاری
تاریخ میں بہت دفعہ ایسا ہوا کہ سائنسدان کسی ایک چیز کی کھوج میں لگا ہوتا ہے اور اچانک حادثاتی طور پر کوئی دوسری چیز دریافت ہو جاتی ہے ۔طب کے شعبے میں بھی ایسے حسین اور خوشگوار حادثات ہوتے رہے ہیں۔اینٹی بائیوٹکس کی دریافت بھی کچھ اسی طرح سے ہوئی ۔ ا گر چہ اس کی باقاعدہ دریافت 1928ء میں ہوئی تاہم ا س خواص کی حامل چیزیں صدیوں سے کسی نہ کسی صورت میں استعمال ہو رہی تھیں۔ آج سے تین ہزار سال قبل کے ایشیائی باشندے پھپھوندی ( وہ جراثیم جو رطوبت کے باعث کسی چیز پرکائی کی طرح جم جاتے ہیں) کوبعض بیماریوں کے علاج اور درد کی دوا کے طور پر استعمال کرتے تھے ۔وسطی امریکہ کے انڈین اور چینی باشندے بھی اسے عفونت زدہ زخمو ں کے علاج اور خارش سے نجات کے لئے استعمال تو کرتے تھے لیکن اس بات سے بے خبر تھے کہ اس کے استعمال سے بیماری کیونکر دور ہو جاتی ہے۔ اس زمانے میں توہم پرستی عام تھی اور لوگ سمجھتے تھے کہ انسان بھوت پریت کی وجہ سے بیما ر ہو جاتا ہے لہٰذا وہ پھپھوندی کااستعمال محض ان بدروحوں کو بھگانے کے لئے کیاکرتے تھے ۔ اسی طرح سمیری تہذیب میں معالج حضرات ہرن کی چربی ‘سانپ کی کھال اور کچھوے کے خول کو مخصوص انداز سے ملا کر بیماریوں اور زخموں کے علاج کے لئے استعمال کرتے تھے ۔ بیماری کے علاج کے لئے اہل بابل کا طرز عمل بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ وہ آنکھوں کے انفیکنشن کے لئے مینڈک کے جگر میں موجود سیال اور کھٹے دودھ کو ملا کر مرہم کے طورپر استعمال کرتے تھے۔ اسی طرح اہل یونان زخموں کے علاج کے لئے مختلف جڑی بوٹیوں کا سہارا لیتے تھے۔

وقت کے ساتھ انسان نے ارگرد کی چیزوں کو زیادہ سائنسی انداز سے دیکھنا اور ان پر سوچنا شروع کیا ۔ سوچ کے اس نئے انداز سے نت نئی دریافتوں اور ایجادات کا سلسلہ شروع ہو گیا جو آ ج تک جاری ہے ۔1860ء کے عشرے میں فرانسیسی ماہر علم الحیاتیات اور کیمیادان لوئی پاسچر (Louis Pasteur) نے اپنے تجربات سے ثابت کیا کہ بہت سی بیماریاں بیکٹیریا کے سبب لاحق ہوتی ہیں۔ روڈلف ایمریچ (Rudolph Emmerich)اور آسکرلو(Oscar Löw)جرمن سائنسدان اور طب کی دنیا کے دو ایسے درخشاں ستارے ہیں جنہوں نے جراثیم کی مدد سے ایک موثر دوا بنائی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک قسم کے جراثیم اگر بیماری کا سبب بنتے ہیں تو وہی جراثیم دوسر ے مرض میں علاج کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے انہوں نے عفونت زدہ پٹیوں سے کچھ جراثیم لیے اور تجربے کی غرض سے انہیں ایک امتحانی نلی میں ڈال دیا۔اس کے بعد وہ کھلے زخم سے ایسے جراثیم Bacillus pyocyaneus))حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے جنہوں نے زخم پر سبز رنگ کے نشانات پیدا کر دیے تھے ۔ انہوں نے ان جراثیم کو بھی ٹیسٹ ٹیوب میں ڈال دیا۔بے دھیانی میں انہوں نے اس امتحانی نلی میں ہیضے ‘خناق‘ انتھریکس او ر ٹائیفائیڈ بخار کے جراثیم بھی رکھ دیے ۔اس کے بعد نلی میں جو بیکٹیریم ڈالا گیا‘ اس نے پہلے سے موجود تماجراثیم کا خاتمہ کر دیا۔ایمرچ اور اسکر لو نے اس سے پائیوسیانیز (Pyocyanase) نامی دوا تیارکی۔یہ ہسپتالوں میں استعمال ہونے والی پہلی اینٹی بائیوٹک دوا تھی جو آج استعمال میںنہیں ‘ اس لئے کہ اس نے چند مریضوں کو تو شفایاب کیا لیکن کچھ کو مزید بیمار بھی کر دیا۔یوں یہ دنیا کا پہلا اینٹی بائیوٹک ہونے کا اعزاز حاصل نہ کر سکی ۔دیگر سائنس دان بھی محفوظ اور موثر اینٹی بائیوٹک حاصل کرنے کے لئے سرتوڑ کوششیں کر رہے تھے مگر انہیں کامیابی حاصل نہ ہو پائی۔

خوش قسمتی سے 1928ء کا موسم بہا ر مریضوں کے لئے خوشی کی نویدلے کر آیا اور اسکاٹ لینڈ کے الیگزینڈر فلیمنگ (Alexander Fleming)نے پہلی اینٹی بائیوٹک دریافت کر لی۔ وہ کچھ جراثیم پرتحقیق کر رہے تھے اورانہوں نے انہیں دو الگ پلیٹوں میں رکھا ہوا تھا۔چھٹیوں پر جاتے وقت وہ پلیٹو ں کو ڈھانپنا بھول گئے اور جب واپس آئے تو ان میں سے ایک پلیٹ میں پھپھوندی پید ا ہو چکی تھی۔مزید تجزیے سے یہ بات واضح ہوئی کہ اس پھپھوندی نے پلیٹ میں پہلے سے موجود بیکٹیریا کو ختم کر ڈالاتھا۔ انہوں نے اس پھپھوندی کو پینسیلیم(Penicillium)اور اس سے حاصل کردہ کیمیائی مادے کوپینسلین (Penicillin)کا نام دیا۔اس دریافت کی بدولت انہیں فزیالوجی اور میڈیسن کے شعبے میں نوبل انعام سے نوازگیا۔ آنے والے وقتوں میںفلیمنگ کے کام کو بنیاد بنا کر امریکہ اور یورپ میں پینسلین کی تجارتی بنیادوں پر تیاری شروع کر دی گئی۔اسے دوسری جنگ عظیم میں فوجیو ں کے زخموں اور نمونیا کے علاج کے لئے استعما ل کیا جانے لگا۔یوں اس نے اتحادی افواج کے بہت سے سپاہیوں کی جانیں بچائیں۔اس اینٹی بائیوٹک کو اس وقت کے اخبارات کی شہہ سرخیوں میں جگہ ملی اور اسے معجزاتی دوا کا نام دیا گیا۔اس کے بعد ایک امریکی ڈاکٹرسلمان ابراہیم واکس مین (Selman Abraham Waksman)نے سٹرپٹومائی سین (Streptomycin)دریافت کی جس سے ان بیماریوں کا علاج بھی ممکن ہو گیا جن میں پینسلین موثر ثابت نہیں ہوئی تھی ۔تقریباً اسی دور میں سلفاڈرگز بھی دریافت ہوئیں۔ان کا مادہ ایک ایسا کیمیکل تھا جو رنگ بنانے میں کام آنے والی چیزوں میں پایا جاتا تھا۔ابتدا میں ان ادویات کو بیماریوں کے خلاف ایک مضبوط ہتھیار تصورکیا گیالیکن جلد ہی معلوم ہوگیا کہ وہ جراثیم کو ختم نہیںبلکہ محض کمزور کرتی ہیں۔
صدیوں پرانی کہاوت ہے کہ زیادتی کسی بھی چیز کی ہو‘ بری ہوتی ہے لہٰذااعتدال بہترین حکمت عملی ہے ۔ اینٹی بائیوٹکس کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہئے۔ اگر ان کا استعمال معالج کی نگرانی میں اور مناسب حد کے اندر کیا جائے تو یہ واقعتاً جادووئی اثرات کی حامل دواہے تاہم بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو رہا۔ آج کے دور میں ان کا غیرضروری استعمال خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے ان کے خلاف جراثیم میں مزاحمت پیدا ہو رہی ہے اور وہ غیرموثر ہوتی چلی جا رہی ہیں ۔ اگر اس مسئلے پر قابو نہ پایا گیا تو خدانخواستہ ایسا دور آ سکتا ہے جب یہ مکمل طور پر غیرموثر ہو جائیں۔اس لئے ان کے غیر ضروری استعمال سے اجتناب کرنا چاہئے۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x