کیلشیم‘ ایک اہم غذائی جزو

8

آپ نے یہ جملہ بکثرت سنا ہو گا کہ روزانہ دودھ کا ایک گلاس ضرور پینا چاہئے‘ اس لئے کہ یہ مضبو ط اور صحت مند ہڈیوں کے لیے ضروری ہے۔ یہ بات درست ہے‘ اس لئے کہ دودھ کیلشیم کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔کیلشیم وہ اہم جزو ہے جو ہمارا جسم خود بنانے سے قاصرہوتا ہے لہٰذا اسے غذا کے ذریعے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

ہڈیوںمیںکیلشیم جمع ہونے کا عمل بچپن سے ہی شروع ہوجاتا ہے جس سے وہ مضبوط ہونا اور بڑھنا شروع ہوجاتی ہیں۔کیلشیم نہ صرف ہڈیوں اوراعصاب کی مضبوطی کے لئے ضروری ہے بلکہ خون کے جمنے میں بھی اہم کردار اداکرتا ہے۔یاد رہے کہ 25سال کی عمر تک ہماری ہڈیاں مضبوط ہو تی ہیں‘ اس لئے اس عمر میں ہمیں خاص طور پر کیلشیم اور وٹامن ڈی سے بھر پور خوراک ضرور استعمال کرنی چاہیے۔

طبی ماہرین کے مطابق 19سے50 سال کی عمر کے افراد کے لیے روزانہ ایک ہزار ملی گرام کیلشیم کی ضرور ت ہوتی ہے جبکہ اس سے زیادہ عمر کے لیے یہ مقدار 1200ملی گرام ہے۔ بظاہر یہ معمولی سی مقدار لگتی ہے تاہم بہت سے افراد اس کے حصول میںناکام رہتے ہیں اور کیلشیم کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیںجو آج کل ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔

کیلشیم کی کمی، علامات
مندرجہ ذیل علامات کیلشیم کی کمی کے باعث سامنے آسکتی ہیں ان کو نظرانداز کرنے کی بجائے ان کا باقاعدہ علا ج کروانا چاہیے:
انگلیاںسن ہو جانا
جسم میں کیلشیم کی کمی کی سب سے پہلی علامت ایسی ہے جس پر اکثر افراد کی توجہ نہیں جاتی۔ طبی ماہرین کے مطابق انگلیاںسن ہونا یا ان میں سوئیاں چبھنے کا احساس اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ جسم کو کیلشیم کی کمی کا سامنا ہے۔

کمزور اور بھربھری ہڈیاں
ہڈیاں ہمارے جسم کا اہم حصہ ہیں جو اعضاء کو مخصوص ساخت دینے کے علاوہ بہت سے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔کمزور ہڈیوںکا مسئلہ بھی کیلشیم کی کمی کے باعث ہوتا ہے جس سے ہڈیوں میں درد کی شکایت بڑھ جاتی ہے۔ عورتوں کو کیلشیم کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے‘ اس لئے کہ انہوں نے بچوں کو جنم دینا اور پھر انہیں دودھ پلانا ہوتا ہے۔ ان دونوں کاموں میں ان کی کیلشیم استعمال ہوتی ہے۔
زیادہ کیلشیم گردوں میں پتھری کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہے لہٰذا روزانہ کی ضرورت کے مطابق ہی کیلشیم لینی چاہیے۔

وٹامن ڈی کی کمی
کیلشیم کو جسم میں جذب ہونے کے لیے وٹامن ڈی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں سے کسی ایک کی کمی دوسرے جزو کی مقدار پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ سورج کی روشنی وٹامن ڈی کا اچھا ذریعہ ہے۔
دانتوں کے مسائل
یہ دانتوں کا اہم جزو ہے لہٰذا اس کی کمی دانتوں کی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر دانتوں میں کیو یٹیز(Cavities)کا مسئلہ بار بار سر اٹھائے تو یہ کیلشیم کی کمی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ دودھ زیادہ پینااس حوالے سے مددگار ثابت ہوتا ہے۔
بے خوابی کے شکار افراد
کیلشیم جسم میں نیند میں مدد دینے والے کیمیکل میلاٹونین کے اخراج میں بھی مدد دیتا ہے۔ اگر کیلشیم کی کمی ہو تو جسم مطلوبہ مقدار میں اس کیمیکل کو خارج نہیںکر پاتا جس کے نتیجے میں راتوں کی نیند متاثر ہوتی ہے۔

سر چکرانا
اس کی کمی کے باعث اکثر سر چکرانے کی شکایت کا سامنا ہوتا ہے۔ سر چکرانا کسی مرض کی علامت بھی ہو سکتی ہے مگرکیلشیم کی شدید کمی کی صورت میں بھی یہ مسئلہ سامنے آتا ہے۔

انسانی جسم کو بہتر حالت میں اور بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ایسی غذا کی ضرورت ہوتی ہے جس میں تمام غذائی اجزا متناسب اور متوازن انداز میں موجود ہوں۔ اگر ہمارے دن بھر کی خوراک میں پروٹین‘ کیلشیم، وٹامنز،کاربوہائیڈریٹس، اینٹی آکسیڈنٹس‘ (ایسے مادے جو خلیوں کو نقصان سے بچاتے ہیں) چکنائیوں اور پانی کی مناسب مقدار موجود ہو تویہ متوازن غذا کہلائے گی۔ اگر لمبے عرصے تک غیر متوازن غذا استعمال کی جائے تواس کے اثرات کسی نہ کسی بیماری کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔اس لیے ہمیں اپنی غذا میں ایسی ورائٹی رکھنی چاہئے کہ اوپر ذکر کئے گئے تمام اجزاء اس میں شامل ہو سکیں۔ مثال کے طور پر دودھ، دہی انڈے‘ مچھلی اور گوشت میں پروٹین اور کیلشیم کی مناسب مقدار پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اناج، دالیں سویابین، مٹراور میوہ جات میں بھی یہ موجود ہوتی ہے۔کیلشیم دودھ کے علاوہ بھی کئی چیزوں میں پایا جاتا ہے ۔ اس لئے متوازن غذاکے استعمال سے کیلشیم کی کمی کو بھی دور کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of