امریکا کے گریٹر سنسناٹی اور شمالی کینٹکی کے علاقے میں 20 سے 54 سال کے افراد میں فالج کی شرح تین دہائیوں میں 83 فیصد بڑھ گئی۔
طبی جریدے ’نیورولوجی‘ میں شائع تحقیق میں 1993 سے 2020 تک فالج کے 2,076 نئے کیسز کا جائزہ لیا گیا۔ اس دوران فالج کی سالانہ شرح فی لاکھ افراد 33.9 سے بڑھ کر 62.2 ہوگئی۔ زیادہ اضافہ دماغ کو خون پہنچانے والی شریان بند ہونے سے ہونے والے فالج میں دیکھا گیا۔
فالج کے مریضوں میں ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، دل کی بے ترتیب دھڑکن اور منشیات کا استعمال بھی بڑھا۔ منشیات کے استعمال کا اندراج 4.6 سے بڑھ کر 40.2 فیصد ہوگیا، جس میں بھنگ کا استعمال نمایاں تھا۔ تاہم ان عوامل کو فالج میں اضافے کی براہِ راست وجہ ثابت نہیں کیا جاسکا۔
تحقیق میں فالج کے بعد 30 دن کے اندر اموات کی شرح میں معمولی کمی بھی دیکھی گئی۔ تاہم محققین کے مطابق فالج کی شرح میں اضافے کی حتمی وجوہات تاحال واضح نہیں ہیں۔