Vinkmag ad

کرانک فیٹیگ سنڈروم: مسلسل شدید تھکن کی کیفیت

Exhausted man resting his head on his arm at a desk, illustrating chronic fatigue syndrome.

کرانک فیٹیگ سنڈروم (Chronic fatigue syndrome) سے مراد ایسی شدید تھکن ہے جو کم از کم چھ ماہ تک برقرار رہے۔ جسمانی یا ذہنی سرگرمی سے اس کی علامات بڑھتی ہیں، جبکہ آرام سے بھی مکمل افاقہ نہیں ہوتا۔ اس پیچیدہ کیفیت کو مائیلجک انسیفالومائیلائٹس بھی کہتے ہیں۔ اس کا مختصر نام ایم ای/سی ایف ایس ہے۔

علامات

علامات ہر فرد میں مختلف ہوتی ہیں۔ ان کی شدت روزانہ بدل سکتی ہے۔ شدید تھکن کے علاوہ ان میں شامل ہیں:

٭ جسمانی ورزش یا ذہنی سرگرمی کے بعد انتہائی نڈھال ہوجانا

٭ یادداشت، سوچنے یا سمجھنے میں دشواری

٭ لیٹنے یا بیٹھنے کے بعد کھڑے ہونے پر چکر بڑھ جانا

٭ پٹھوں یا جوڑوں میں درد

٭ نیند کے بعد بھی تازگی محسوس نہ ہونا

بعض افراد کو سر درد اور گلے میں خراش بھی ہوتی ہے۔ گردن یا بغلوں کی لمف نوڈز چھونے پر درد کرتی ہیں۔ یہ مدافعتی نظام کا حصہ ہیں۔

روشنی، آواز، بو، کھانے یا ادویات کے لیے حساسیت بھی بڑھ سکتی ہے۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

تھکن کئی بیماریوں کی علامت ہوسکتی ہے۔ اگر یہ مسلسل برقرار رہے یا بہت زیادہ ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

وجوہات

اس کیفیت کی اصل وجہ معلوم نہیں۔ اس کی ابتدا میں ان عوامل کا کردار ہوسکتا ہے:

موروثی عوامل

بعض خاندانوں میں یہ کیفیت ایک سے زیادہ افراد کو متاثر کرتی ہے۔ کچھ لوگوں میں پیدائشی طور پر اس کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

انفیکشن

بعض افراد میں وائرل یا بیکٹیریا کے انفیکشن سے صحت یابی کے بعد علامات شروع ہوتی ہیں۔

جسمانی چوٹ یا جذباتی دباؤ

کچھ لوگوں میں چوٹ، سرجری یا شدید جذباتی دباؤ کے بعد علامات سامنے آتی ہیں۔

توانائی بنانے کے عمل میں دشواری

جسم چکنائی اور شوگر سے توانائی حاصل کرتا ہے۔ بعض متاثرہ افراد کو انہیں توانائی میں تبدیل کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔

کن افراد میں امکان زیادہ ہوتا ہے

عمر

یہ کیفیت کسی بھی عمر میں ہوسکتی ہے۔ تاہم نوجوان اور درمیانی عمر کے بالغ افراد زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

جنس

خواتین میں اس کی تشخیص مردوں کی نسبت کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی ایک ممکنہ وجہ خواتین کا اپنی علامات کے لیے زیادہ طبی مدد لینا ہے۔

دوسری طبی کیفیات

بعض پیچیدہ طبی کیفیات کی میڈیکل ہسٹری رکھنے والوں میں اس کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ ان میں فائبرومائیلجیا شامل ہے، جس میں جسم کے مختلف حصوں میں درد ہوتا ہے۔

پوسچرل آرتھوسٹیٹک ٹیکی کارڈیا سنڈروم بھی ایسی کیفیات میں شامل ہے۔ اس میں کھڑے ہونے پر دل کی دھڑکن غیر معمولی طور پر تیز ہوجاتی ہے۔

روزمرہ زندگی پر اثرات

جسمانی سرگرمی یا جذباتی دباؤ سے علامات بڑھنے پر کام کے باقاعدہ معمولات برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ بعض افراد کے لیے گھر میں اپنی دیکھ بھال کرنا بھی دشوار ہوتا ہے۔

بیماری کے مختلف ادوار میں کمزوری اتنی بڑھ جاتی ہے کہ بستر سے اٹھنا ممکن نہیں رہتا۔ بعض افراد کو وہیل چیئر کی ضرورت پڑتی ہے۔

Frequently Asked Questions (FAQs)

کرانک فیٹیگ سنڈروم عام تھکن سے کیسے مختلف ہے؟

اس میں شدید تھکن کم از کم چھ ماہ رہتی ہے۔ جسمانی یا ذہنی سرگرمی سے علامات بڑھتی ہیں۔ آرام سے بھی مکمل افاقہ نہیں ہوتا۔

کیا پوری نیند لینے کے باوجود تھکن رہتی ہے؟

جی ہاں۔ متاثرہ افراد کو نیند کے بعد بھی تازگی محسوس نہیں ہوتی۔

کیا ذہنی کام سے بھی علامات بڑھتی ہیں؟

جی ہاں۔ سوچنے، توجہ دینے یا دوسری ذہنی سرگرمیوں کے بعد بھی شدید نڈھال پن ہوسکتا ہے۔

کیا اس کی وجہ صرف ذہنی دباؤ ہے؟

نہیں، اس کی اصل وجہ معلوم نہیں۔ جذباتی دباؤ، موروثی عوامل اور انفیکشن ممکنہ عوامل میں شامل ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=medical-specialist

Vinkmag ad

Read Previous

طویل مدتی کھانسی

Read Next

زنانہ ہارمون تھراپی

Leave a Reply

Most Popular