زنانہ ہارمون تھراپی (Feminizing hormone therapy) عموماً ان افراد کو دی جاتی ہے جو پیدائش کے وقت لڑکے تھے۔ اس سے وہ تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں جو عموماً بلوغت میں زنانہ ہارمونز کے زیرِ اثر ہوتی ہیں۔
کیوں کی جاتی ہے
اس تھراپی میں ہارمونز کی سطح تبدیل کر کے مطلوبہ جسمانی تبدیلیاں پیدا کی جاتی ہیں۔ اس کے ممکنہ فوائد میں شامل ہیں:
٭ نفسیاتی اور سماجی کیفیت میں بہتری
٭ صنفی شناخت سے متعلق ذہنی اور جذباتی تکلیف میں کمی
٭ معیارِ زندگی میں بہتری
کن صورتوں میں علاج سے گریز کیا جاتا ہے
ان صورتوں میں ڈاکٹر یہ علاج شروع نہ کرنے کا مشورہ دے سکتا ہے:
٭ ہارمونز سے متاثر ہونے والا کینسر، مثلاً پروسٹیٹ کینسر
٭ جسم کے اندر گہرائی میں موجود رگ میں خون کا کلاٹ بننا، جسے ڈیپ وین تھرومبوسس کہتے ہیں
٭ کلاٹ سے پھیپھڑے کی شریان بند ہونا، جسے پلمونری ایمبولزم کہتے ہیں
٭ اہم جسمانی بیماریوں کا مناسب علاج نہ ہونا
٭ ذہنی صحت یا رویوں سے متعلق مسائل کا مناسب علاج نہ ہونا
ممکنہ خطرات
زنانہ ہارمون تھراپی کی ممکنہ پیچیدگیوں میں شامل ہیں:
٭ گہری رگ یا پھیپھڑوں میں خون کے کلاٹ بننا
٭ فالج
٭ دل کے مسائل
٭ خون میں چکنائی کی ایک قسم، ٹرائی گلیسرائیڈز، کی سطح بڑھنا
٭ خون میں پوٹاشیم کی سطح بڑھنا
٭ خون میں پرولیکٹن ہارمون کی سطح بڑھنا
٭ نپل سے مواد خارج ہونا
٭ وزن بڑھنا
٭ بانجھ پن
٭ ہائی بلڈ پریشر
٭ ٹائپ ٹو ذیابیطس
اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت پر اثرات
یہ علاج اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت محدود کرسکتا ہے۔ اس لیے علاج سے پہلے مستقبل میں اولاد کے بارے میں فیصلہ کرنا بہتر ہے۔ ہارمونز کے طویل استعمال سے مستقل بانجھ پن کا خطرہ بڑھتا ہے۔ بلوغت شروع ہونے سے پہلے ہارمون تھراپی کی صورت میں یہ خدشہ خصوصاً اہم ہے۔
علاج بند ہونے کے بعد بھی خصیوں کی کارکردگی مکمل بحال ہونا ضروری نہیں۔ اولاد کے حصول کے لیے بانجھ پن کے علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اگر مستقبل میں اولاد چاہتے ہیں تو ڈاکٹر سے سپرم محفوظ کرانے پر بات کریں۔ اس عمل کو سپرم کرائیوپریزرویشن کہتے ہیں۔
علاج سے پہلے تیاری
ڈاکٹر مجموعی صحت کا جائزہ لے کر علاج پر اثرانداز ہونے والے مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس جائزے میں شامل ہوسکتے ہیں:
٭ ذاتی اور خاندانی میڈیکل ہسٹری
٭ جسمانی معائنہ
٭ لیبارٹری ٹیسٹ
٭ ویکسینیشن کا جائزہ
٭ بعض بیماریوں کی سکریننگ
٭ تمباکو، منشیات یا الکوحل کے نقصان دہ اثرات کا جائزہ
٭ ایچ آئی وی یا دیگر جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشنز کی شناخت اور علاج
٭ سپرم محفوظ کرانے اور تولیدی صلاحیت پر گفتگو
ٹرانس جینڈر افراد کی صحت کا تجربہ رکھنے والا ماہر ذہنی صحت کا جائزہ بھی لیتا ہے۔ اس میں درج ذیل پہلو دیکھے جاتے ہیں:
٭ صنفی شناخت
٭ جسمانی جنسی خصوصیات اور صنفی شناخت میں عدم مطابقت سے پیدا ہونے والی ذہنی تکلیف، یعنی جینڈر ڈسفوریا
٭ ذہنی اور جنسی صحت سے متعلق مسائل
٭ گھر، سکول، ملازمت اور سماجی زندگی پر صنفی شناخت کے اثرات
٭ منشیات، غیر منظور شدہ سلیکون انجیکشنز، ہارمونز یا سپلیمنٹس کا استعمال
٭ اہلِ خانہ، دوستوں اور دیکھ بھال کرنے والوں کی معاونت
٭ علاج سے متعلق اہداف اور توقعات
٭ علاج کی منصوبہ بندی اور بعد کی نگہداشت
علاج کیسے ہوتا ہے
علاج سے پہلے متعلقہ تجربہ رکھنے والے ڈاکٹر سے فوائد، خطرات اور دیگر دستیاب طریقوں پر بات کریں۔ متوقع اثرات سمجھیں اور اپنے سوالات کے جواب حاصل کریں۔
عام طور پر ابتدا میں کچھ دوائیں دی جاتی ہیں جو مردانہ ہارمونز کا اثر قبول کرنے والے ریسپٹرز کو روکتی ہے۔ یوں ٹیسٹوسٹیرون کے باعث ہونے والی جسمانی تبدیلیاں سست یا بند ہوجاتی ہیں۔ اس طریقۂ علاج میں تقریباً 4 سے 8 ہفتے بعد ایسٹروجن شامل کیا جاتا ہے۔ یہ ٹیسٹوسٹیرون کی پیداوار کم کرکے زنانہ جسمانی خصوصیات پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔
ایسٹروجن درج ذیل صورتوں میں دیا جاتا ہے:
٭ گولی
٭ انجیکشن
٭ جلد پر لگانے والی کریم، جیل یا سپرے
٭ جلد پر چپکانے والا پیچ
اگر آپ کو یا فیملی میں کسی کو رگوں یا پھیپھڑوں میں کلاٹ بننے کی شکایت رہی ہو تو ڈاکٹر کو بتائیں۔ ایسی صورت میں ایسٹروجن کی گولی سے گریز کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ ادویات ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال نہیں کرنی چاہئیں۔
جسمانی تبدیلیاں کب ظاہر ہوتی ہیں
علاج کے اثرات بتدریج ظاہر ہوتے ہیں۔ مختلف تبدیلیوں کے آغاز اور مکمل اثر کی متوقع مدت درج ذیل ہے:
جسمانی تبدیلی |
آغاز |
مکمل اثر |
| عضوِ تناسل میں تناؤ آنے کی تعداد اور انزال میں کمی | 1 سے 3 ماہ | 3 سے 6 ماہ |
| جنسی رغبت میں کمی | 1 سے 3 ماہ | 1 سے 2 سال |
| سر کے بال جھڑنے کی رفتار میں کمی | 1 سے 3 ماہ | 1 سے 2 سال |
| چھاتی کی نشوونما | 3 سے 6 ماہ | 2 سے 3 سال |
| جلد نرم اور کم چکنی ہونا | 3 سے 6 ماہ | 3 سے 6 ماہ |
| خصیوں کا سائز کم ہونا | 3 سے 6 ماہ | 2 سے 3 سال |
| پٹھوں کی مقدار میں کمی | 3 سے 6 ماہ | 1 سے 2 سال |
| جسم میں چربی بڑھنا | 3 سے 6 ماہ | 2 سے 5 سال |
| چہرے اور جسم کے بالوں کی افزائش میں کمی | 6 سے 12 ماہ | تقریباً 3 سال |
علاج بند کرنے سے بعض تبدیلیاں واپس پلٹ سکتی ہیں۔ تاہم چھاتی کی نشوونما جیسی بعض تبدیلیاں مستقل ہوتی ہیں۔
علاج کے دوران مانیٹرنگ
باقاعدہ معائنوں میں ڈاکٹر ان امور کا جائزہ لیتا ہے:
٭ جسمانی تبدیلیوں کی رفتار اور نوعیت
٭ خون میں ہارمونز کی سطح
٭ کولیسٹرول، پوٹاشیم، بلڈ شوگر، خون کے خلیوں کی تعداد اور جگر کے انزائمز
٭ ذہنی صحت اور رویوں میں تبدیلیاں
نتائج کے مطابق ہارمونز کی خوراک میں ردوبدل کیا جاتا ہے۔ مقصد کم سے کم مؤثر خوراک سے مطلوبہ تبدیلیاں حاصل کرنا اور انہیں برقرار رکھنا ہے۔
معمول کی حفاظتی نگہداشت
انفرادی صورتِ حال کے مطابق یہ جانچ بھی ضروری ہوسکتی ہے:
چھاتی کے کینسر کی سکریننگ: اسی عمر کی سِس جینڈر خواتین کے لیے مقررہ سفارشات کے مطابق کی جاتی ہے۔ یہ وہ خواتین ہیں جن کی صنفی شناخت پیدائشی جنس سے مطابقت رکھتی ہے
پروسٹیٹ کینسر کی سکریننگ: اسی عمر کے سِس جینڈر مردوں کے لیے مقررہ سفارشات کے مطابق کی جاتی ہے۔ یہ وہ مرد ہیں جن کی صنفی شناخت پیدائشی جنس سے مطابقت رکھتی ہے
ہڈیوں کی صحت: اسی عمر کی سِس جینڈر خواتین کے لیے مقررہ سفارشات کے مطابق ہڈیوں کی کثافت جانچی جاتی ہے۔ ضرورت پر ڈاکٹر کیلشیم اور وٹامن ڈی تجویز کرتا ہے
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا علاج بند کرنے سے تمام تبدیلیاں ختم ہوجاتی ہیں؟
نہیں۔ بعض تبدیلیاں واپس پلٹ سکتی ہیں، لیکن چھاتی کی نشوونما جیسی تبدیلیاں مستقل ہوتی ہیں۔
کیا علاج کے بعد اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت بحال ہوجاتی ہے؟
اس کی ضمانت نہیں۔ علاج بند کرنے کے بعد بھی بانجھ پن برقرار رہ سکتا ہے۔ علاج سے پہلے سپرم محفوظ کرانے پر مشورہ لیں۔
تھراپی کے مکمل اثرات کب ظاہر ہوتے ہیں؟
مختلف تبدیلیوں کی مدت الگ ہے۔ بعض اثرات چند ماہ میں، جبکہ دیگر کئی سال میں مکمل ہوتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔